بینک آف خیبرنے 10فیصدکیش ڈیوڈنڈکا اعلان کر دیا

بینک آف خیبرنے 10فیصدکیش ڈیوڈنڈکا اعلان کر دیا

پشاور( پ ر)الحمداللہ بینک آف خیبر نے سال 2014میں تمام شعبوں میں قابل ستائش نتائج حاصل کر کے گزشتہ سال 2013کے مقابلے میں مختلف شعبوں میں قابل ستائش کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سال2013 کے 1ارب 75کروڑ 60لاکھ روپے کے آپریٹنگ منافع کے مقابلے میں 2ارب13کروڑ50لاکھ روپے کا منافع حاصل کر کے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ بینک نے سال 2014میں قبل از ٹیکس منافع 1ارب90کروڑ روپے کمایا ہے جو کہ گزشتہ سال کے قبل از ٹیکس منافع1ارب66کروڑ90لاکھ سے14فیصد زیادہ ہے اسی طرح بعد از ٹیکس منافع سال 2014میں 1ارب30کروڑ90لاکھ روپے رہا جو کہ سال2013کے مقابلے میں13فیصدزائد ہے جو کہ 1ارب 15کروڑ40لاکھ روپے تھا بینک کے منافع میں اس حوصلہ افزاء اضافے کے ساتھ ہی بینک کی فی شیئر آمدنی 1.31رہی جو کہ گزشتہ سال 1.15پیسہ تھی۔ بینک پر صارفین کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی بناء پر پورا سال بینک کے ڈیپازٹ میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا اور19فیصد کے ساتھ سال2014میں بینک کے کل ڈیپازٹ 92ارب 26کروڑ40لاکھ روپے تھے جو کہ گزشتہ سال 77ارب 21کروڑ80لاکھ روپے تھے۔ بینک کے گروس ایڈوانسز میں 13فیصد اضافہ ہوا ہے 2013کے مقابلے میں 38ارب 33کروڑ90 لاکھ روپے کے مقابلے میں2014میں43ارب 24کروڑ30لاکھ روپے ہو گئے۔ اسی طرح گزشتہ سال 2013میں کی گئی 53ارب 36کروڑ 30لاکھ روپے کی سرمایہ کاری 36فیصد بڑھ کر72ارب 43کروڑ10لاکھ روپے ہو گئی ۔جس سے بینک کی نیٹ مارک اپ بیسڈ آمدنی میں15فیصد اضافہ ہوا جبکہ ٹوٹل نان مارک اپ انٹرسٹ آمدنی کی مد میں 54فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹر نے اپنے130ویں اجلاس میں جس کی صدارت ڈاکٹرحماد اویس آغا ایڈیشنل چیف سیکرٹری خیبر پختوانخوا اور چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹر بینک آف خیبر نے کی اجلاس میں سید سید بادشاہ بخاری، سیکرٹری مالیات حکومت خیبر پختوانخوا ،جناب شمس القیوم منیجنگ ڈائریکٹر بینک آف خیبراور دیگراراکین بورڈ آف ڈائریکٹر زنے شرکت کی ۔اجلاس نے31دسمبر2014تک کے سالانہ حسابات کی منظوری دیتے ہوئے بینک کے مختلف شعبوں میں قابل تعریف کارکردگی کی بناء پر بینک کے شیئر ہولڈر کو 10فیصدکیش ڈیوڈنڈ کی صورت میں ادائیگی کی ہدایت کی۔ یہ حوصلہ افزاء بیلنس شیٹ کی گروتھ کاسٹ ڈیپازٹ میں بہتری اور اثاثہ جات کی مالیت و اہلیت کو نظر انداز کیے بغیر حاصل کیے گئے ہیں۔اثاثہ جات اور ایکویٹی پر آمدنی بالترتیب1.04فیصد اور10فیصد رہی۔بینک آف خیبر نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی کم از کم ادا شدہ سرمائے کی حد کی شرط کی تکمیل کرتے ہوئے بینک آف خیبر کا ادا شدہ سرمایہ 10ارب روپے تک پہنچا دیا ہے۔اسی طرح بینک آف خیبر اس وقت116شاخوں،2ذیلی شاخوں اور2بوتھ کے ساتھ جس میں54اسلامک بینکاری کی شاخیں شامل ہیں۔ ملک بھر میں صارفین کی خدمت کر رہا ہے ۔موجودہ سال 2015میں بینک آف خیبر مرکزی بینک سے مزید 14نئی شاخیں کھولنے کی منظوری لے چکا ہے۔دائرہ کار میں وسعت سے خدمات کا دائرہ کار وسیع ہو جائے گا اور بینک آف خیبر اپنے قیام کے مقاصد کی تکمیل کرتے ہوئے وطن عزیز کی سماجی ترقی و معاشی خوشحالی میں کردار ادا کرئے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کاملک پاکستان میں سبزیوں‘ جانوروں کے چارہ جات‘ پولٹری‘ لائیوسٹاک‘ سویابین ‘ ڈیری مصنوعات اور پھلوں کی بہترین اور ارزاں کورین ٹیکنالوجی کورواج دینے کیلئے زرعی یونیورسٹی فیصل آبادکے ساتھ ملکر کام کر رہا ہے جس سے پاکستان میں زرعی اجناس‘ پھلوں اور سبزیوں کی پیداواری لاگت میں کمی اور زیادہ پیداوارکیلئے کورین بیج و ٹیکنالوجی کامؤثرجائزہ لیا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کو ڈاکٹر اقرار احمد خاں کی صورت میں مثالی قیادت میسر ہے اور وہ مستقبل قریب میں یونیورسٹی طلباء و طالبات سے خطاب اور ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ انہیں گزشتہ پانچ دہائیوں کے دوران کورین ترقی کے محرکات سے متعارف کروا سکیں۔ اس موقع پر یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر اقراراحمدخاں نے کہا کہ یونیورسٹی میں اکیڈمی انڈسٹری لنکج پروگرام کے تحت کورین کمپنی اوآکس‘سی اے ایف کے مسٹر شن سانگ چل نیشنل انسٹیٹیوٹ آف فوڈ سائنس و ٹیکنالوجی میں کورین بیکری مصنوعات کو متعارف کروانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور مختلف سبزیوں‘ تربوز‘ سویا بین‘ پولٹری اور لائیوسٹاک کے شعبہ جات میں کورین جینیاتی سٹاک کوبروئے کار لاتے ہوئے پیداواری نتائج کایونیورسٹی ماہرین سے تبادلہ کریں گے جس سے زرعی پیداوار میں اضافہ اور معیار میں بہتری کیلئے نئی راہیں کھلیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کورین یونیورسٹی ینونگ نم کے ساتھ اشتراک عمل کا حصہ ہے اور پاکستان میں دیہی و زرعی ترقی کے ذریعے غربت میں خاتمے کیلئے کورین جامعات اور سیمول تحریک کے ذریعے دیہی ترقی اور خوشحالی ماڈل کومثالی پیش رفت قرار دیتی ہے۔

مزید : کامرس