پنجاب ایگزامینیشن کمیشن کے امتحان کو پیچیدہ بنا دیا گیا ہے، سید سجاد اکبر کاظمی

پنجاب ایگزامینیشن کمیشن کے امتحان کو پیچیدہ بنا دیا گیا ہے، سید سجاد اکبر ...

 لاہور(ایجوکیشن رپورٹر)پنجاب ٹیچرز یونین کے مرکزی صدر سید سجاد اکبر کاظمی نے کہا ہے کہ پنجاب ایگزامینیشن کمیشن کے امتحان کو CSS کا امتحان بنا دیا گیا ہے جماعت پنجم اور ہشتم کے طلباء کو پنجاب ایگزامینیشن کمیشن کے امتحانی پیٹرن پر تیاری نہیں کرائی گئی جس کی وجہ سے5th اور 8thکے امتحانی نتائج خراب ہونے کا اندیشہ ہے اور جس کی ذمہ داری اساتذہ پر عائد کی جائے گی جو کہ سراسر زیادتی و نا انصافی ہے کیونکہ نہ تو DSD کی طرف سے سکولوں میں تعلیمی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کرنے والے DTE\'s حضرات نے پنجاب ایگزامینیشن کمیشن کی طرز پر ٹیسٹ لئے ا ور نہ ہی اساتذہ کونئے پیٹرن سے آگاہ کیا گیا۔ اب جب بچوں کو امتحانی سنٹرز میں سوالیہ پرچہ جات تقسیم ہوئے تو بچے کنفیوژن کا شکار ہو کر سوالیہ پرچہ درست طریقے سے حل نہیں کر سکے جبکہ دوسری طرف اساتذہ کی امتحانی ڈیوٹی لگانے کا عمل بھی پیچیدہ بنا دیا گیا ۔   پہلے ہر ٹیچر کو کم از کم ایک ہفتہ قبل ڈیوٹی سے آگاہ کر دیا جاتا تھا لیکن اب صرف ٹیلیفون پر ایک روز یا پرچہ شروع ہونے سے دو تین گھنٹے قبل اطلاع دی گئی ہے۔ اساتذہ خصوصاً خواتین اساتذہ کی ڈیوٹیاں ایک تحصیل سے دوسری تحصیل میں لگانے پر بھی اساتذہ میں بے چینی و اضطراب ہے۔ جبکہ معاوضہ انتہائی قلیل ہے۔ کرایہ آمد و رفت بہت زیادہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔راہنماؤں نے وزیر اعلی پنجاب ، صوبائی وزیر تعلیم پنجاب اور سیکرٹری سکولز پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ امتحانی پرچوں کا پیٹرن تبدیل کرنے سے قبل کم از کم ایک سال قبل اطلاع دی جائے۔ اورسکولز میں تبدیل شدہ پیٹرن پر امتحانات کے انعقاد کے لئے وسائل مہیا کئے جائیں۔ لہذا اساتذہ کو قربانی کا بکرا بنانے کی بجائے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔ ورنہ اساتذہ احتجاج پر مجبور ہونگے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4