مولانا عبیداللہ سندھی نے معاشرے کو وحدت میں پرونے کا پیغام دیا،مجیب الرحمان شامی

مولانا عبیداللہ سندھی نے معاشرے کو وحدت میں پرونے کا پیغام دیا،مجیب الرحمان ...

 لاہور(کامرس رپورٹر)عظیم انقلابی رہنما مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے 143 ویں یوم پیدائش کے سلسلے میں گزشتہ روز الحراء ہال میں تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ عبیداللہ سندھی فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ’’عصر حاضرکے تقاضے اور مولانا عبید اللہ سندھی کی تعلیمات‘‘ کے عنوان سے ہونیوالے سیمینار میں سی پی این ای کے صدر ، چیف ایڈیٹر روزنامہ ’’پاکستان‘‘ مجیب الرحمن شامی، پروفیسر امجد علی شاکر، عابد حسن منٹو، قاضی جاوید، سردار افضل، امجد علی ساقی، میاں مبشرعرفات ابوالفضل نور احمد سمیت طلباء اور حاضرین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔لاہور کے مختلف تعلیمی اداروں کے طلباء نے اس موقع پر ان کے قبول اسلام اور زندگی کے مختلف ادوار میں دین کیلئے کی گئی جدوجہد کے بارے میں کتابوں سے اقتباسات پڑھے جبکہ سیمینا ر کے دیگر مقررین نے ان کی اسلام کیلئے خدمات اور تعلیمات پر تفصیلاً روشنی ڈالی۔ سی پی این ای کے صدر مجیب الرحمن شامی نے پینل گفتگو کے دوران مولانا عبید اللہ سندھی کی تعلیمات پر عمل کرنے کی ضرورت پر شدت سے زور دیتے ہوئے کہا کہ مولانا نے معاشرے کو وحدت میں پرونے کاپیغام دیا ہے ان کے ہاں جمود نہیں تھا جبکہ آج کے حالات میں 70 برس قبل دیئے گئے ان کے درس کی اہمیت اور زیادہ بڑھ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں اسلام کی آفاقی قدروں کی پاسداری اس طرح نہیں کی جا سکی جو اس کی اصل روح تھی۔ پاکستان میں اسلام کی نمائندگی کیلئے مولوی کے کردار نے معاشرے کو تقسیم کر دیا ہے اور ایک تصادم کی سی کیفیت پیدا ہو گئی ہے اورمختلف فرقوں کے درمیان آخری تصادم بھی مذہب کے نام پر برپا کیا جا رہا ہے۔ بد قسمتی سے ہم نے ان باتوں پر عمل نہیں کیا جس کا ہم ذکر کرتے آئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ قرار داد مقاصد سے واضح تھا کہ مملکت کا نظام عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے چلایا جائے گا لیکن اس پر بھی عمل نہیں ہو سکا۔ مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ مملکت میں بسنے والے مختلف قوموں اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کا ایک دوسرے کے ساتھ بھائی چارے اور امن کے ساتھ رہنے کیلئے ضروری ہے کہ فقہی اسلام سے نکلا جائے ۔ موجودہ حالات میں پوری سوسائٹی کو ایک وحدت میں پرونے کی اشد ضرورت ہے اور یہ مولانا کا پیغام بھی ہے اور عصر حاضر کا اہم تقاضا بھی۔مہمان خصوصی عابد حسن منٹو نے کہا کہ ہمارے ملکی دستور پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ مذہب ہماری تہذیبی ضرورت ہے لیکن مذہب کی جو تشریح علماء کر رہے ہیں اس سے ہم بحران سے نہیں نکل سکتے۔ سابق پرنسپل اسلامیہ کالج پروفیسر امجد علی شاکر نے کہا مولانا سندھی کے ہاں پاپولر نعرے نہ تھے وہ ٹھوس اور با معنی بات کرنے والے دانشور تھے۔ ان کی فکر کی مختلف منازل ہیں جنہیں سامنے رکھے بغیر ہم ان کے انکار کے مطالب تک نہیں پہنچ سکتے ان کے علاوہ سیمینار سے ابوالفضل نور احمد، قاضی جاوید، سردار سجاد افضل اور شاہد عثمان نے بھی خطاب کیا۔ مجیب الرحمن شامی

مزید : صفحہ آخر