مہنگائی کم کرنے کی ضرورت

مہنگائی کم کرنے کی ضرورت
مہنگائی کم کرنے کی ضرورت

  

میرے لئے اس بار کالم کے لئے موضوع کا چناؤ مشکل ہو رہا تھا۔ موضوعات تو بہت سے تھے جن پر لکھا جا سکتا تھا لیکن میں ایسے موضوع کی تلاش میں تھا جس کا براہ راست تعلق ایسے افراد سے ہوتا جنہیں عرفِ عام میں مڈل کلاس یا متوسط طبقے کے لوگ کہا جاتا ہے۔ ان کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے، یعنی یہ لاکھوں میں نہیں کروڑوں میں ہیں اور مُلک بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ خصوصاً پسماندہ علاقوں یا اضلاع میں ان کی بہت بڑی تعداد موجود ہے جو غربت سے بھی نیچے کی لکیر پر زندگی گزار رہے ہیں، اگرچہ شہروں میں بھی ان کی خاصی تعداد موجود ہے جو بظاہر ایسی آبادیوں میں ہیں، جنہیں ہم کچی آبادیاں یا شہر کی مضافاتی آبادیاں کہتے ہیں۔

’’سفید پوش‘‘ بھی ہمارے معاشرتی نظام میں ایک معروف اصطلاح ہے جو کثرت سے بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ یہ بھی متوسط طبقے کی ایک شکل ہے، جن کا شمار بھی انتہائی غریب طبقے میں ہوتا ہے، لیکن یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو مفلسی اور بے بسی کے مارے تو ہوتے ہیں لیکن خودداری یا عزتِ نفس کے شکنجے میں پھنس کے اپنی مصیبت کسی کے آگے بیان نہیں کرتے، دل کی دل میں ہی رکھتے ہیں اور اسی آگ میں جلتے بھنتے رہتے ہیں، یہی وہ ’’سفید پوش‘‘ ہیں جو اندر ہی اندر گُھٹ گُھٹ کر مر جاتے ہیں۔ نہ ان کا کوئی پُرسانِ حال ہوتا ہے، نہ ان کے دکھوں کا کوئی مداوا کرنے والا۔ اگرچہ اسٹیٹ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنی رعایا یا عوام کے دُکھوں کو سمجھے اور اُن کا مداوا کرے لیکن ایسا نہیں ہو پاتا اور یہی ہمارے معاشرتی نظام کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ اُن کی آواز نہیں اٹھتی اگر کہیں سے سنائی دیتی بھی ہے تو اُسے دبا دیا جاتا ہے اور طاقت ور معاشرتی نظام اُس پر حاوی ہو جاتا ہے۔

اس سفید پوش طبقے کے مسائل کیا ہیں؟ یہ سب ہی جانتے ہیں۔ حکومت بھی ضرور اس سے باخبر ہو گی، کیونکہ اُس میں کئی ایسے لوگ موجود ہیں جو کسی نہ کسی منصب پر فائز ہیں، اُن کے مسائل سے بھی نہ صرف اچھی طرح آگاہ ہیں، بلکہ اس کا بخوبی علم بھی رکھتے ہیں۔ اُن کے منشور کا پہلا سبق ہی یہ ہوتا ہے کہ جب حکومت میں آئیں گے، یعنی عنانِ اقتدار اُن کے پاس ہو گی تو وہ سب سے پہلے اُن بنیادی مسائل کو حل کریں گے، جن کا تعلق ملک کے غریب عوام سے ہے اور جن سے وہ براہ راست متاثر ہوتے ہیں اور یہ بات اس لئے بھی کی جاتی ہے کہ ملک کی زیادہ تر آبادی ایسے ہی طبقے پر مشتمل ہے جو مڈل کلاس یا انتہائی غریب کہلاتی ہے، یہی نعرہ لگا کر یا اپنے منشور میں یہ شق شامل کر کے کہ وہ غریبوں کے لئے بہت کچھ کریں گے اور اس کا مرحلہ وار ذکر بھی اُن کے منشور میں شامل ہوتا ہے۔ تاہم جب وہ حکومت میں آ جاتے ہیں اور اقتدار کی کرسی پہ ’براجمان‘ ہوتے ہیں تو اپنے کئے سب وعدے نہ صرف بھول جاتے ہیں، بلکہ اُن پر عمل کی ذرا سی بھی کوشش نہیں کرتے۔

اس وقت لوگوں کی مشکلات کا سارا مرکز وہ بڑھتی ہوئی مہنگائی ہے، جس کے عفریت نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ سبزی سے لے کر دالوں تک، گوشت کی دکانوں سے ضروریات زندگی کی دوسری اشیاء تک مہنگائی ہی مہنگائی ہے۔ سبزیاں اور دالیں مقامی پیداوار ہیں جو کثرت سے ہمارے تمام صوبوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ گندم اور چاول کے لئے تو پنجاب اتنا مشہور ہے کہ دوسرے ممالک سے یہاں برآمدی آرڈر آتے ہیں اور لاکھوں ٹن میں یہ دونوں اجناس یہاں سے ایکسپورٹ کی جاتی ہیں۔ پھلوں کا بھی یہی عالم ہے۔ ہمارے پھل بھی جن میں سنگترہ، کینو، آم، کھجور، کماد ، امرود اور سیب بھی اس فہرست میں شامل ہیں، یعنی ایکسپورٹ آئٹم ہیں ، لیکن مقامی پیداوار ہونے کے باوجود ان کے دام بھی اس قدر زیادہ ہیں کہ غریب شخص انہیں خریدنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔

پٹرول کے ریٹ جب کم ہوئے تھے تو کہا گیا تھا اورعام تصور بھی یہی تھا کہ مُلک بھر میں دیگر اشیاء کے ریٹ بھی عام سطح سے نیچے آ جائیں گے، جن کا فائدہ عام لوگوں کو پہنچے گا، مگر ایسا نہ ہو سکا۔ مہنگائی کا جِنّ ایسا آیا ہے کہ بوتل میں بند ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ اس مہنگائی کے جِنّ کو بوتل میں کون بند کرے گا؟ یہ آج کا سب سے بڑا سوال ہے جو ہم حکومت سے ہی کر سکتے ہیں جو اس جِنّ کونہ صرف بوتل میں بند کرنے کی طاقت رکھتی ہے، بلکہ اس طاقت کے ذریعے اس کا بھرکس بھی نکال سکتی ہے۔

پچھلے ہفتے ایک چائے کے عام سے ہوٹل پر جانے کا اتفاق ہوا جہاں مجھے چائے کا ایک کپ 20/-روپے میں ملا۔پھر ذہن میں آیا کہ میں تو چلو 20/-روپے افورڈ کر سکتا ہوں ،جو آدمی نہیں کر سکتا وہ خود کیسے چائے کے ایک کپ سے لطف اندوز ہوگا اور کسی مہمان کو بھی پلا سکے گا یا نہیں؟ ایک زمانہ تھا جب چائے کا یہی کپ ایک روپے کا ملتا تھا اور اب 20/-روپے میں۔ شہباز شریف حکومت کے لئے یہ مہنگائی ایک بڑا چیلنج ہے۔ شہباز شریف نے پنجاب میں بڑے اچھے کام کئے ہیں۔ اُن کے انتھک محنتی ہونے کی گواہی تو اُن کے سیاسی مخالفین بھی دیتے ہیں اور اُن کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ وہ ایک بار جو فیصلہ کر لیں اُسے پورا کر کے ہی دم لیتے ہیں۔ اس لئے مہنگائی کے جِنّ کو بوتل میں بند کرنا شہباز شریف کے لئے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ اگر وہ صدقِ دل سے یہ آرڈر پاس کر دیں کہ پنجاب مہنگائی فری ہو گا تو وہ دنیا کی کوئی طاقت بھی اُن کے فیصلے کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی۔

مزید : کالم