’’ایجوکیشن فورم‘‘ کا گوجرانوالہ میں عظیم الشان تعلیمی ’’میلہ‘‘

’’ایجوکیشن فورم‘‘ کا گوجرانوالہ میں عظیم الشان تعلیمی ’’میلہ‘‘
’’ایجوکیشن فورم‘‘ کا گوجرانوالہ میں عظیم الشان تعلیمی ’’میلہ‘‘

  


آج سے قریباً 14سال پہلے گوجرانوالہ کے ممتاز ماہر تعلیم محمد سرور باجوہ نے تعلیمی میدان میں ’’اصلاحات‘‘ کا فیصلہ کیا۔ مقاصد بڑے تھے اور نہایت مشکل بھی۔ اُنہیں احساس ہوا کہ وہ یہ کٹھن کام تنہا سر انجام نہیں دے سکتے لہٰذا نہوں نے اپنے قریبی رفقاء سے مشاورت کی اور یوں اس مشن کی تکمیل کے لئے 24جون 2001ء کو ’’ایجوکیشن فورم آف پرائیویٹ انسٹیٹیوٹس‘‘ کا قیام عمل میں آیا۔ یوں تو اس فورم کے ان گنت مقاصد و اہداف ہیں، مگر مَیں جو سمجھا ہوں، وہ بنیادی مقصد پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے والے تعلیمی اداروں کو در پیش مختلف مسائل کا حل، ان اداروں کے درمیان موثر روابط و اتحاد اور معیاری تعلیم کا فروغ ہے۔ یہ فورم بچوں کی جسمانی و ذہنی اور تعلیمی تربیت جدید عالمی حالات کو مد نظر رکھ کر کرنے کی کوشش میں مگن ہے۔ بورڈ امتحانات سے قبل تمام رجسٹرڈ پرائیویٹ سکولوں (جو اس فورم کے ممبرز ہوں) کے طلباء و طالبات سے بالکل اِسی طرح امتحانات لئے جاتے ہیں جس طرح سرکاری تعلیمی بورڈ لیتا ہے۔ اس سے بچے آسانی سے بورڈ کا امتحان اعلیٰ نمبروں اور اعزازات کے ساتھ پاس کر لیتے ہیں، کیونکہ وہ بورڈ امتحانات کے طریقہ کار اور پیچیدگیوں سے قبل از وقت ہی آگاہی حاصل کر چکے ہوتے ہیں۔ مجھے اس فورم کے ان گنت احسن اقدامات میں سے یہ قدم نہایت عمدہ لگا ہے۔

حسبِ سابق اس مرتبہ بھی سالانہ امتحانات سے قبل اس فورم کے زیر اہتمام فورم سے وابستہ ضلع بھر میں موجود سکولوں کے پانچویں اور نہم دہم کے طلباء و طالبات کے امتحانات نہایت شفاف طریقے سے لئے گئے۔ اس نظام کو شفاف رکھنا اس فورم کی ضرورت ہی نہیں، مجبوری بھی ہے، کیونکہ غیر شفافیت، باہمی نفاق کے بعد اس فورم کی ٹوٹ پھوٹ کا سبب بن سکتی ہے، لہٰذا امسال بھی ماضی کی طرح صاف شفاف امتحانات کا انعقاد کیا گیا۔ گوجرانوالہ کے ممتاز ماہر تعلیم اور فورم کے روح رواں عبدالسلام رضا کو کنٹرولر امتحانات مقرر کیا گیا، جن کی شبانہ روز کاوشوں سے جدید اصولوں پر مبنی امتحانات نہایت منظم اور شفاف طریقے سے لئے گئے۔ حسب سابق فورم نے اس مرتبہ بھی کامیاب طلباء و طالبات میں تقسیم انعامات کی تقریب کا انعقاد کیا۔ اس تقریب میں ہونہار بچوں اور ان تعلیمی اداروں کی بھر پور حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، جو نمایاں پوزیشنز حاصل کرتے ہیں۔

اس تیرہویں سالانہ تقریب میں وزیر مملکت برائے قانون و انصاف چودھری محمود بشیر ورک ایم این اے، وزیر مملکت برائے ہاؤس اینڈ فنانس بیرسٹر عثمان ابراہیم ایم این اے، میاں طارق محمود ایم این اے، پارلیمانی سیکرٹری برائے ٹرانسپورٹ پنجاب و چیئرمین گوجرانوالہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی و واسا چودھری محمد نواز چوہان ایم پی اے، ریذیڈنٹ ڈائریکٹر گوجرانوالہ آرٹس کونسل ڈاکٹر محمد حلیم خاں، صدر انٹیلکچول فورم چودھری اشرف مجید اور راقم الحروف بطور مہمان خصوصی مدعو تھے۔ تقریب میں ضلع بھر سے آئے بچوں نے مختلف پرفارمنس پیش کیں‘‘، جن سے ان کی علم و ثقافت میں دلچسپی اور ان کے ٹیلنٹ کا اظہار ہوتا رہا۔ تقریب کی صدارت اس فورم کے موجودہ صدر محمد اختر انصاری کر رہے تھے،جبکہ ڈاکٹر محمد اکرم مانگٹ سینئر نائب صدر ، امجد علی رضوی جنرل سیکرٹری، حاجی محمد طارق طور نائب صدر، عبدالسلام رضا فنانس سیکرٹری، نصیر احمد ورک جائنٹ سیکرٹری، محمد عدیل دانش پریس سیکرٹری اور ممبران ایگزیکٹو کونسل واجد علی قادری، لیاقت علی چودھری، محمد شہزاد عظیم، باؤ تاج علی، محمد اعظم منہاس، مرزا محمد سعید، شاہد محمود بٹ اور باؤ اشفاق حسین اس پُروقار تقریب کے منتظمین میں شامل تھے۔ اس تقریب کے ذریعے ضلع بھر سے آئے طلبہ و طالبات اور معزز اساتذہ کو جو پیغام دیا گیا اس کا لبِ لباب آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔ 

اللہ رب العزت نے جب کائنات تخلیق کر لی اور دنیا میں اپنے نائب کو بھیجنے کا ارادہ فرمایا تو باری تعالیٰ نے فرشتوں سے اس کا ذکر کیا۔ فرشتوں نے کہا یا اللہ تو اس کو اپنا نائب مقرر کرنے جا رہا ہے جو دنیا میں دنگا فساد برپا کرے گا۔ تب اللہ رب العزت نے آدم ؑ کو کچھ کلمات سکھائے اور فرشتوں سے ان کے بارے میں پوچھا۔ جب فرشتوں نے اس سلسلے میں اپنی عاجزی کا اظہار کر دیا تو اللہ رب العزت نے آدم ؑ سے کہا کہ اب تم بتاؤ۔ تب حضرت آدم ؑ نے اللہ کی طرف سے دئیے گئے علم کے مطابق سب ٹھیک ٹھیک بتا دیا تو اللہ رب العزت نے فرشتوں کو مخاطب کر کے کہا کہ جو مَیں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔ پھر پروردگار نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم ؑ کو سجدہ کریں۔ فرشتوں نے اللہ رب العزت کے حکم کی فوراً تعمیل کی سوائے ابلیس کے۔ یہ سجدہ آدم ؑ کے زہد و تقویٰ کو نہیں تھا، بلکہ قرآنی معلومات کے مطابق اس علم کی وجہ سے تھا جو پروردگار نے ان کو عطا فرما رکھا تھا، یعنی پہلی برتری کی وجہ ہی علم قرار پایا۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی حضرت محمدؐ کو اپنا آخری پیغمبر بنا کر بھیجا تو ان کی طرف جو وحی نازل ہوئی، اس کا آغاز کیا تھا۔۔۔ اقراء، یعنی آپؐ پڑھیے۔

سوچنے اور سمجھنے کی بات کیا ہے؟ صرف یہ کہ جس ہستی پر یہ وحی نازل ہوئی، اس کو خالق نے چنا تو تھا تبلیغ و رسالت کے لئے۔ انسانی عقل کے مطابق تو نبی اکرمؐ کو یہ حکم دیا جانا چاہئے تھا کہ آپ نے جس طرح چالیس سال تک زندگی بسر کی ہے۔ ایک اللہ کو اپنا معبودمانتے ہوئے اور اسی کی حمد و ثنا بیان کرتے ہوئے، تمام جھوٹے خداؤں کی مذمت کرتے ہوئے، زہد و تقویٰ کو معراج بخشتے ہوئے۔ غریبوں، یتیموں اور بے کسوں کے دکھوں کا مداوا کرتے ہوئے صادق و امین کی سب سے بڑی، بلکہ بے نظیر مثال بنتے ہوئے، عدل و انصاف کا لاثانی پیکر بنتے ہوئے الغرض زندگی کے تمام جملہ امور کو سند انسانیت کی جو معراج بخشی ہے، جائیے اسی کی تبلیغ کیجئے۔ آپ ؐ کا رب بالکل ویسا ہی معاشرہ چاہتا ہے ،جس طرح کے آپ ؐ ہیں۔ لوگوں کو وہی تلقین کیجئے، جس طرح سے آپ ؐشب و روز گزار رہے ہیں، لیکن یہ کیا کہ 40 سال کے نبی ؐ پر جو وحی نازل ہورہی ہے، اس میں حکم کیا ہے؟ اقراء، یعنی پڑھئے۔ تو گویا جس کو بھی تبلیغ کے لئے چنا جاتا ہے، اسے پہلے پڑھنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ سوچئے اس سے علم کی اہمیت کس قدر واضح ہو جاتی ہے۔

پھر پروردگار عالم اپنے نبیؐ کو حکم دیتا ہے، قُل رب زدنی علما، اے نبیؐ فرمایا دیجئے کہ اے اللہ میرے علم میں اضافہ فرما۔ غور فرمائیے اس دُعا کو مانگنے کا حکم کسے دیا جا رہا ہے؟ وہ جسے علم لدنی عطا فرمایا گیا، تو غور فرمائیے علم کی اہمیت اس رب کائنات کے نزدیک کیا ہے جو بار بار اپنے نبی ؐ کو بھی پڑھنے اور علم حاصل کرنے کا حکم دے رہا ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنے رب کے اس حکم کو مان لیا ہے اور دن رات علم سیکھنے اور سکھانے میں مصروف ہیں۔ وہ لوگ یقیناًدنیا کے عظیم ترین لوگ ہیں جو جہالت کی ظلمت کو علم کے نور سے بدلنے کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔ خدا ان لوگوں کی مدد فرمائے اور ان کے مرتبے و مقام میں اضافہ فرمائے جو اس کے احکامات کی تعمیل میں دن رات کوشاں ہیں۔ مَیں ’’ایجوکیشن فورم‘‘ کے جملہ اکابرین کی خدمت میں ان سطور کے ذریعے ہدیہ تحسین پیش کرتے ہوئے سچ مچ نازاں ہوں۔

مزید : کالم