’’آپ سے تم، تم سے تو۔۔۔‘‘

’’آپ سے تم، تم سے تو۔۔۔‘‘

گلو کار غلام علی کی گائی ہوئی اس غزل کی بات الگ ہے، لیکن پچھلے ہفتے مجھ سے عمر میں پانچ سال جونئیر ایک دوست باتوں باتوں میں ’آپ‘ کی بجائے ’تم‘ کہہ گئے تو عجیب حقارت کا احساس ہوا ۔ یہ اس لئے کہ مجھے خود ہر چھوٹے بڑے کو باعزت لہجہ میں پکارنے کی عادت ہے ۔ اسی پر ایک بار چودھری حلیم آف مراڑہ ، تحصیل ظفر وال نے ڈانٹا تھا کہ تم کمی کمینوں کی طرح ہر وقت ’جی جی‘ کیوں کرتے رہتے ہو ۔ دوسری مشکل یہ ہے کہ جن دنوں انسان مالی کمزوری کا شکار ہو تو وہ اپنے بارے میں زیادہ حساس ہو جاتا ہے ۔ کون شخص کرسی سے اٹھ کر ملا ، کس نے بیٹھے بیٹھے ڈھیلا سا ہاتھ ملا دیا ، دفتروں میں کہاں کہاں چیزوں والی چائے پیش کی گئی اور کہاں سوکھی ۔ میری طرح اگر آپ بھی مشکوک سماجی رتبہ کے مالک ہیں تو سمجھ گئے ہوں گے کہ ان سوالوں میں کیا کیا نزاکتیں چھپی ہوئی ہیں۔

’جی جی‘ کرنے کی عادت کب پڑی اور کیوں ؟ زندگی کی ہسٹری شیٹ کھولوں تو بچپن میں اپنی بے تکلف بات چیت کا انداز وہی تھا جو شہری آبادی کے متوسط گھرانوں میں ہوا کرتا ہے ۔ دوسروں کی تعظیم کے لئے واحد کی جگہ جمع کا صیغہ بھی استعمال کر لیتے ، جسے ’جمع تکریمی‘ کہتے ہیں ، مگر اس کا دائرہ والدین ، اساتذہ اور دیگر بزرگوں تک ہی تھا ۔ یہ عادت رہی سکول کی حد تک۔ کالج میں قدم رکھنے کی دیر تھی کہ طرز تخاطب میں یکایک ابا ٹائپ رویہ اپنانے کو جی چاہنے لگا ۔ پیدائشی لیڈرانہ مزاج رکھنے والے شوکت نواز کو تو سردار صاحب کہلوانے کا شوق پہلے سے تھا ، جو پورا کر دیا گیا ۔ حسن اختر ، محمد اکرم اور جاوید ایتھلیٹ بھی اچانک راجہ صاحب ، قریشی صاحب اور خاں صاحب کے طور پہ جانے گئے ۔ صیغہ واحد غائب میں انہیں کچھ بھی کہہ لو، لیکن مُنہ پہ نام کے ساتھ صاحب ضرور کہا جاتا ۔

یوں آپ کی اس عادت کے پیچھے بڑوں جیسی تمکنت کی خواہش تو تھی ہی، لیکن میرے دل میں سٹوڈنٹس یونین کے الیکشن کے لئے ووٹ پکے کرنے کا پوشیدہ جذبہ بھی تھا، چنانچہ ہم مکتبوں سے شفقت صاحب ، وحید صاحب اور منصور صاحب کہہ کر مخاطب ہو رہا ہوں اور ساتھ ہی ذرا سا جھک کر دو دو ہاتھوں سے مصافحہ کیا جا رہا ہے ۔ یہ ساری حرکتیں ایک ساتھ کیوں شروع ہوئیں ؟ جواب میں لوگ مجھ پر کسی بھی کامپلیکس کا لیبل چپکا سکتے ہیں اور یہ بھی پوچھ سکتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن کے سے ڈبل دست پنجہ کے زور پر تم سینٹ میں کیوں نہ جا پہنچے ۔ اب کسی کو کیا بتاؤں کہ میرے لئے مناسب سیاسی پارٹی فقط مسلم لیگ (ق) ہو سکتی تھی کیونکہ ہم نے کالج کا الیکشن ایک ہی بار جیتا اور یہ جیت اس خفیہ ڈیل کی بدولت ہوئی جس کی رو سے ہم نے اپنے ہی پیدائشی سردار سے دغا بازی کی ۔

حقائق کی تہہ تک پہنچنے کے لئے اپنی عوامی مقبولیت کی خواہش کو کچھ اور کھرچنا پڑے گا تاکہ کچھ تو پتا چلے کہ نو عمری میں یہ لسانی رویہ کیا مادری زبان پنجابی کے عطا کردہ پیرایوں سے پھوٹا یا ان کے رد عمل کے طور پہ ۔ زبان و ادب کے استاد اور ایم اے او کالج لاہور کے پرنسپل طاہر یوسف بخاری بتایا کرتے ہیں کہ وسطی پنجاب کی مکالماتی روزمرہ میں جمع تکریمی کی روایت زیادہ پرانی نہیں ۔ منفرد محقق شریف صابر سے ’ہیر وارث شاہ‘ سبقاً سبقاً پڑھنے والے طاہر بخاری صاحب کی بات کو اس لئے بھی وزن دینا پڑے گا کہ وہ ہمارے شہر و دیہات کی مکالماتی زبان میں آنے والی تبدیلیوں پہ نظر رکھتے ہیں ۔ مجھے بھی وہ زمانہ یاد ہے جب ہم دادی کی والدہ کو بے بے کہہ کر بلاتے اور ’تونہہ‘ کا صیغہ استعمال کرتے ۔ ایک روز ’تسیں‘ کہہ دیا تو بے بے سے سننا پڑا کہ ’ایہہ بچے شہری بولی بولدے نیں‘ ۔

طاہر بخاری کی ریسرچ کو آگے بڑھانا چاہوں تو اس میں ایک ہلکا سا رسک ہے ۔ رسک ان معنوں میں کہ کہیں کوئی ہتھ چھٹ دانشور میرے اس خوش دلانہ مشاہدے کو ملک کے سب سے بڑے صوبے کی توہین سمجھ کر مخالفانہ دھرنے کا اعلان نہ کر دے کہ پنجابی میں جمع تکریمی کا سوال کئی اور معاملوں سے بھی جڑا ہوا ہے ۔ جیسے یہی کہ ہم کسی خاتون کو عزت دینے کی خاطر جب واحد کو جمع میں بدلتے ہیں تو ساتھ ہی زبان کی حد تک خاتون کی صنف بھی تبدیل کر دی جاتی ہے ۔ یار عزیز آفاق حسین قاضی گواہ ہیں کہ کورنمنٹ کالج لاہور میں ہم دونوں اپنی اپنی کلاس پڑھانے سے پہلے پروفیسرز روم کی راہداری میں جب پولیٹکل سائینس کی سینئر استاد پروین شوکت علی کو دیکھتے تو منہ سے ’سلام علیکم ڈاکٹر صاحب‘ ہی نکلتا ۔ جواب میں وہ کہتیں ’سلام علیکم پروفیسر صاحب‘ اور ہم خوش ہو جاتے۔

مرد و خواتین کی برابری کے لحاظ سے تو شائد یہ لہجہ قابل قبول ہو ۔ پر یہ کیسی برابری ہے جو نسائیت کو زائل کر دے ۔ وسطی پنجاب میں کالج یونیورسٹی،ہسپتال یا سرکاری دفتر کا چکر لگا ئیں یا کسی گھر کی دیوار سے کان لگا کر باتیں سنیں ، ہر جگہ یہی تاثر ملے گا کہ عزت دینے کے لئے جمع کا صیغہ محض مردوں کے لئے ہے ۔ اگر گرائمر کی مدد سے عورت کی عزت کرنا چاہتے ہو تو پہلے اسے مرد کا درجہ دو ۔ اسی لئے تو بارہا خواتین کے عہدے کے ساتھ صاحب کا لاحقہ سننے کو ملا ۔ جیسے ’ڈاکٹر صاحب آگئے نیں ۔ پرنسپل صاحب چھٹی تے نیں ۔ امی جی پنڈی تو آئے سن ۔ آپا جی کل چلے جان گے‘ ۔ کہیں کہیں ایسے خدا ترس مرد بھی دیکھے جو جمع تکریمی بناتے ہوئے مونث مذکر کا خیال رکھتے ہیں ۔ ’ڈائرکٹر جنرل صاحبہ اج ڈیوٹی تے پہنچ جان گئیاں‘ ۔ نمونہء کلام ہے تو صحیح مگر اوپرا اوپرا سا لگتا ہے۔

تو کیا لوگوں کی عزت کرنے یا نہ کرنے کا ساختیاتی مسئلہ فقط پنجابی زبان سے جڑا ہوا ہے ؟ ذرا سا زاویہ بدل کر دیکھیں تو اردو میں بھی ادب آداب کے رپھڑ آپ کو ایک الگ ہی مزا دیں گے ۔ گلوکار غلام علی کی گائی ہوئی غزل پھر ذہن میں گنگنائیے ، جس میں ’رنگ کی گفتگو‘ کے مرحلے گنوائے گئے ہیں ’آپ سے تم ، تم سے تو ہونے لگی‘۔ اگر مجھ جیسا کوئی پنجابی ڈھگا گھر بیٹھے فرض کر لے کہ تکلف سے تپاک کے اردو سفر میں یہ مراحل آسانی سے طے ہو جاتے ہیں تو میں آجکل کے ماڈرن بچوں کی طرح کہوں گا ’اونہہ ، آپ کی سوچ ہے‘ ۔ وجہ اس کی یہ کہ نوعمری میں واہ کینٹ میں رہتے ہوئے والد کے رامپوری ، مراد آبادی اور شاہجہانپوری دوستوں سے گلوری منہ میں سیٹ کرکے پان کی پیک خارج کئے بغیر مکالمہ جاری رکھنے کا طریقہ سیکھ لیا تھا ۔ ساتھ ہی چند ایک تہذیبی حربے اور بھی سیکھے۔

ایک تو یہی کہ سلام کے بدلے ’وعلیکم السلام‘ کہنا چاہئیے اور اس میں حفظ مراتب کا کوئی تنازعہ نہیں اٹھتا ۔ اس کے برعکس اگر آداب کہا جائے تو جواب دیتے ہوئے مکتوب الیہ کی سینیارٹی ڈسٹرب ہو جانے کا ڈر ہوا کرتا ہے ۔ اِسی لئے اپنے برابر والوں کو جواب میں بھی آداب ہی کہیں گے ، لیکن اپنے سے چھوٹوں کے لئے ’جیتے رہو ‘ بلکہ زیادہ تر ’جیتی رہو‘ کیونکہ بڑوں کو سلام کرنے میں لڑکیاں لڑکوں سے تیز ہوتی ہیں ۔ یہاں پہنچ کر یہ نہ سمجھئے کہ مسئلہ حل ہو گیا ہے ۔ پتا تو جب چلے گا کہ ایک لاہوری دوست کے بقول ’جدوں میں شیشے نوں آئینہ کہواں گا‘ ۔ یہ اگلا نکتہ بہت منفرد ہے مگر خاصا غور طلب بھی ۔ مراد یہ ہے کہ ’تم‘ کے مقابلہ میں ’آپ ‘ محض احترام کا صیغہ نہیں ، تکلف کا اشارہ بھی ہے ۔ جیسے کسی کے ساتھ فاصلہ رکھا جا رہا ہو اور وہ بھی شعوری کوشش سے۔

اگر یہ نکتہ آپ کی سمجھ میں نہ آئے تو مطلب ہے کہ آپ نے تیس برس پہلے اس بی بی سی لندن میں کام نہیں کیا ، جہاں میرے پہنچتے ہی سینئر رفقا میں سے محمد غیور ، سارہ نقوی اور راشد اشرف نے مجھے اِسی اپنائیت سے ’تم‘ کہا جیسے کوئی اپنے بچوں سے کہتا ہے ۔ آغوش محبت تو اطہر علی ، رضا علی عابدی ، آصف جیلانی اور 1942ء میں گیارھویں سکھ رجمنٹ میں کمیشن پانے والے یاور عباس نے بھی وا کئے رکھی ۔ فرق اتنا ہے کہ یہ چاروں بزرگ ہر چھوٹے بڑے کو ہمیشہ ’آپ‘ کہہ کر بلایا کرتے ۔ یوں زبان کی بنیاد پہ یہ طے کرنا ممکن نہ رہا کہ ہماری بے تکلفی کا گراف اوپر جا رہا ہے یا نیچے ۔ ٹف ٹائم تو پروگرام سیربین والے وقار بھائی نے دیا جو شروع کے دو سال مجھے ’شاہد ملک صاحب‘ کہہ کر میری توہین کرتے رہے ۔ جب انہوں نے پہلی بار ’تم‘ کہا تو کیا آنند ملا ، اسے وقار زدگان ہی سمجھ سکتے ہیں۔

اب آپ مجھ سے پوچھیں گے کہ آخر اس سارے چکر میں تمہیں تکلیف ہے کیا ۔ میں وہ واقعہ دہرا دوں گا جب غالب اکیڈمی کراچی والے مرزا ظفر الحسن نے جیل سے ایلس فیض کے نام لکھے گئے فیض احمد فیض کے خطوط مرتب کرنے کا بیڑہ اٹھایا ، جن کا سرنامہ ہے ’صلیبیں میرے دریچے میں‘ ۔ یہ خط انگریزی زبان میں تھے ، لیکن فیض نے کہا کہ یہ اردو میں شائع ہوں گے ، اس لئے کہ ’ہماری انگریزی ذرا آرائشی قسم کی ہوتی ہے‘ ۔ اپنا مسئلہ بیان کرتے ہوئے میں خود کو فیض سے کچھ دور اور مشتاق احمد یوسفی کے قریب تر پاتا ہوں ، یعنی انگریزی ہی نہیں ، میری اردو بھی ذرا سجاوٹی سی ہے ۔ اس لئے کچھ باتیں رک رک کر کہتا ہوں اور باقی کہتے کہتے رک جاتا ہوں ۔ یہ ہے سیکنڈ لینگیج کا مسئلہ کہ آپ بہتر سے بہتر لسانی طرز عمل کی خواہش میں کسی کے ساتھ زیادہ فری ہو کر یہ نہیں کہہ سکتے:

رنگ کی جب گفتگو ہونے لگی

آپ سے تم ، تم سے تو ہونے لگی

مزید : کالم