گھنٹی بج رہی ہے، سنائی نہیں دے رہی

گھنٹی بج رہی ہے، سنائی نہیں دے رہی
گھنٹی بج رہی ہے، سنائی نہیں دے رہی

  

میں نے سابق وزیر اعظم اور پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کا وہ وڈیو کلپ ڈاؤن لوڈ کر رکھا ہے جس میں وہ ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وڈیرا شاہی، جاگیرداری سرمایہ داری نظام اور اُس کے جبر کے خلاف عوام سے پوچھتے ہیں۔ ’’لڑو گے، مرو گے‘‘ اور عوام آگے سے جواب دیتے ہیں ہاں لڑیں گے، مریں گے، اس بات کو تقریباً ساڑھے چار دہائیاں بیت گئیں بھٹو ساڑھے تین دہائیاں پہلے دنیا سے رخصت ہو گئے اور عوام کو لڑنے مرنے کے لئے چھوڑ گئے۔ میں جب اس نکتے پر غور کرتا ہوں کہ بھٹو کو کس بات نے اس قدر مقبول لیڈر بنا دیا تھا تو میری سوچ اسی ویڈیو کلپ میں آ کر رک جاتی ہے۔ بھٹو نے عوام کی دکھتی رگ کو بھانپ لیا تھا۔ اُنہیں خبر ہو گئی تھی کہ عوام حالت جبر میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اُنہیں ایک بے رحم نظام کے ذریعے غلام بنا کر رکھا گیا ہے، وہ آزادی چاہتے ہیں اور اس کے لئے لڑنے مرنے کو بھی تیار ہیں۔ مگر خود بھٹو صاحب یہ بھول گئے تھے کہ جس نظام کے خلاف وہ عوام کو بیدار کر رہے ہیں، وہ نظام اُنہیں ہی نگل جائے گا۔ پہلے تو اس استحصالی نظام کے پروردہ لوگوں نے اُنہیں اپنے نرغے میں لے کر اُن کے راستے سے ہٹایا پھر اُنہیں ہی راستے سے ہٹا دیا گیا۔ بھٹو پاکستان میں تبدیلی کی علامت بن کر اُبھرے تھے۔ وہ خود جاگیردار تھے مگر اُن کے جاگیرداری نظام کے خلاف نعرے نے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیا تھا۔ لیکن وہ ہار گئے۔ عوام کی غلامی کے دن مزید لمبے ہو گئے۔ آج اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے تو میں کہوں گا وہ استحصالی نظام جس کا بنیادی مقصد ہی یہ ہے کہ عوام کو اُن کے حقوق سے محروم رکھا جائے، اُن پر تسلط برقرار رکھ کر ایک محدود طبقہ حکمرانی کے مزلے لوٹتا رہے۔

آج بھی اگر کوئی لیڈر بھٹو کی طرح یہ نعرہ لے کر اُٹھے کہ مروگے، لڑو گے، تو عوام کبھی بھی مرنے اور لڑنے سے انکار نہیں کریں گے، ہم اس بات پر تو تشویش کا اظہار کرتے ہیں کہ لوگوں میں برداشت ختم ہو گئی ہے۔ وہ بات بات پر لڑتے جھگڑتے ہیں، احتجاج کرتے ہیں، سڑکیں بلاک کر دیتے ہیں، مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں مگر یہ نہیں سوچتے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ معاشرے جب بے امان ہو جائیں تو لوگوں کی برداشت ختم ہو جاتی ہے۔ شیخوپورہ میں چار افراد کو قتل کر دیا گیا تو اُن کی ورثاء خواتین نے وہ احتجاج کیا کہ مردوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ تھانے کو آگ لگانے کی کوشش کی اور قانون کی بے حسی کو نمایاں کر دیا۔ جہاں قتل جیسے مقدمات بھی سالہا سال تک چلتے ہوں اور فیصلے نہ کئے جائیں وہاں پھر دشمنیاں ہی جنم لیتی ہیں۔ پھر لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ جو کچھ کرنا ہے۔ اُنہوں نے خود ہی کرنا ہے، ملک میں کوئی ادارہ اُن کے لئے کچھ نہیں کرے گا۔ برداشت کوئی ایسی چیز نہیں کہ ہوا میں پیدا ہو سکے۔ یہ زمین پر پیدا ہوتی ہے اور اس کے لئے معاشرے کو قانون و تہذیب کے دائرے میں لانا پڑتا ہے۔ اگر آج لوگوں کو احساس ہو جائے کہ اُن کے ساتھ انصاف ہوگا، اُنہیں بلا وجہ ظلم کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا، ریاست اُن کے حقوق اور جان و مال کا دھیان رکھے گی تو اُنہیں کسی انتہا پسندی کی طرف جانے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی۔ یہ تو وہاں ہوتا ہے جہاں امیر و غریب کے لئے دو علیحدہ نظام چل رہے ہوں، اشرافیہ نے خود کو ہر قانون قاعدے سے آزاد اور خلقِ خدا پر پر عذاب نازل کرنے کا وتیرہ اپنا رکھا ہو۔ کوئی مجھے بتائے کہ جن حالات کو سامنے رکھ کر ذوالفقار علی بھٹو نے عوام کو لڑنے مرنے کے لئے تیار کیا تھا۔ کیا وہ ختم ہو گئے ہیں یا وہ پہلے سے زیادہ سفاکی کے ساتھ موجود ہیں بھٹو کے زمانے میں ظلم و جبر ضرور تھا، لیکن اتنی کرپشن نہیں تھی، جتنی آج ہے گویا ایک طرف ظالمانہ نظام جوں کا توں موجود ہے تو دوسری طرف اس نے کرپشن کی چادر بھی اوڑھ لی ہے۔ اب لوگوں کی عزت نفس ہی مجروح نہیں ہوتی بلکہ اُنہیں اپنا حق حاصل کرنے بلکہ سانس لینے کے لئے بھی تاوان ادا کرنا پڑتا ہے۔

قومیں وقت کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتی ہیں، ہم پیچھے گئے ہیں اور تو اور جمہوریت جس کے لئے بھٹو جیسا لیڈر پھانسی چڑھ گیا، روبہ زوال ہی رہی ہے۔ آج کوئی جتنا مرضی یہ دعویٰ کرے کہ پاکستان میں جمہوریت پھل پھول رہی ہے، اُس میں حقیقت بہت کم نظر آئے گی۔ جمہوریت کے پھلنے پھولنے کا تماشا تو حال ہی میں سینٹ الیکشن کے دوران بھی دیکھا گیا، کروڑوں روپے کی سرگرمیوں کو جمہوریت کا نام دیا گیا ہے۔ یہ وہ جمہوریت ہے جو اپنے انتخابی نظام تک کو شفاف نہیں بنا سکی۔ کیا زوال کی صورت ہے کہ بھٹو جن انتخابات کے تحت اقتدار میں آئے، وہ شفاف تھے، لیکن جواُنہوں نے جمہوریت کے تحت کرائے وہ غیر شفاف ثابت ہو ئے۔ کیا یہ باعثِ شرم بات نہیں کہ پوری سیاسی تاریخ میں ہم صرف ایک بار شفاف انتخابات کرا پائے ہیں اور اُس کے نتائج تسلیم نہ کرنے پر ہم ملک دو لخت کرا بیٹھے، اس کے بعد ہر اتخاب ایک طویل احتجاج اور دھاندلی کے نہ ختم ہونے والے الزامات پر منتج ہوا۔ جس جمہوریت میں عام آدمی امیدوار ہی نہیں بن سکتا، وہ مضبوط کیسے ہو سکتی ہے۔ شاخِ نازک پر بنے ہوئے آشیانے کی طرح اُس کی حالت مخدوش ہی رہے گی۔ آج اندھا بھی کہہ رہا ہے کہ بڑے فیصلے کہیں اور ہو رہے ہیں۔ جمہوریت صرف دکھاوا ہی رہ گئی ہے۔ زیادہ سے زیادہ جمہوریت میں وہی ہوتا ہے جو رضا ربانی کو چیئرمین سینٹ اور عبدالغفور حیدری کو ڈپٹی چیئرمین بنا کر ہوا ہے۔ اس کے بعد یہ بیان ضرورآتا ہے کہ جمہوریت کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ جمہور کے بغیر جمہوریت کو مضبوط کرنے کے دعوے ٹھٹھہ مخول کے سوا کچھ نہیں جب تک یہ جمہوریت عام آدمی کی آواز نہیں بنتی، اُس کے دکھوں اور محرومیوں کا مداوا نہیں کرتی، اُسے نمائندگی نہیں دیتی، اُس کی طاقت سے تسلط رکھنے والی قوتوں کا قلع قمع نہیں کرتی، تب تک جمہوریت عوام کے لئے ایک اجنبی نظام ہی رہے گی۔

عوام اپنے حقوق کی خاطر لڑنے اور مرنے کے لئے تیار ہیں مگر کیا ضروری ہے کہ اُنہیں بھٹو کی طرح آزمائش میں ڈالا جائے کہ وہ لڑنا مرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ 45 برس تو بھٹو کے اس نعرے کو بھی ہو گئے ہیں اس دوران کیا کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔ بھٹو کے بعد کسی نے زرعی اصلاحات کو ہاتھ لگانے کی زحمت نہیں کی۔ چلو یہ تو ایک کڑا مرحلہ تھا۔ لیکن وہ کام جو ہونے والے تھے اور کسی کی مخالفت مول لئے بغیر ہو بھی سکتے تھے۔ وہ کیوں نہیں ہوئے۔ مثلاً عدل و انصاف کی فراہمی کے نظام کو بہتر کیوں نہیں بنایا گیا۔ ہر چیف جسٹس اور ملک کے ہر وزیر اعظم نے یہ جملہ تکیہ کلام کے طور پر ضرور استعمال کیا کہ انصاف عوام کی دہلیز پر پہنچانا چاہتے ہیں۔ یہ کون سی دہلیز ہے جو ابھی تک مل ہی نہیں رہی۔ آج بھی دادا کا انصاف پوتے کو ملتا ہے۔ لوگ انصاف کی اُمید لے کر قبر میں اُتر جاتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے عمومی کیسز بھی سالہا سال چلتے ہیں پھر جس کے پاس پیسہ ہے۔ سفارش ہے وہ چاہے تو زندگی بھر آپ کو عدالتوں کی راہداری میں ایڑیاں رگڑنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ ہماری جمہوریت تو دفتری نظام کی فرعونیت ہی ختم نہیں کر سکی باقی اُس نے کیا کرنا ہے بھٹو سے غلطی یہ ہوئی کہ اُنہوں نے اقتدار میں آتے ہی عوام کو یہ سبق سکھایا کہ وہ کسی بھی زیادتی پر افسروں کا گریبان پکڑ لیں بجائے نظام میں تبدیلی لانے کے اُنہوں نے کارکنوں کے ذریعے تبدیلی لانے کی راہ دکھائی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا جلد ہی ریاستی مشینری مفلوج ہونے لگتی۔ جس کے بعد رفتہ رفتہ یہ رویہ بھی دم توڑ گیا اور بیورو کریسی ایک طاقتور بدمست ہاتھی کا روپ دھار گئی۔ ہمارے دفتری نظام میں سرکاری عمال کو اس قدر صوابدیدی اختیارات دیئے گئے ہیں کہ وہ کسی کو جوابدہ ہی نہیں ظلم کی حد یہ ہے کہ کار سرکار میں مداخلت کا کالا قانون بھی نافذ کر رکھا ہے۔ جوں ہی کسی نے زبان کھولی، اُس پر کار سرکار میں مداخلت کا الزام لگا کے جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا۔ پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے جس میں سرکاری کرسی پر بیٹھا ہوا کرپٹ شخص بھی سرکار بن جاتا ہے اور اپنے خلاف انگلی اُٹھانے والے کو سرکار کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے نشان عبرت بنا دیتا ہے۔

اب تو یہ باتیں بھی بہت پرانی ہو گئی ہیں کہ کسی ملک میں کفر کا نظام تو چل سکتا ہے، ظلم کا نظام نہیں چل سکتا، ہمارے جمہوریت پسندوں نے اس مقولے کو غلط ثابت کرنے کی ٹھان رکھی ہے۔ وہ ظلم کے نظام کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں وہ روزانہ جمہوریت کی ستر خوراکیں لیتے ہیں، مگر کسی ایک خوراک میں بھی یہ خیال اُن کے اندر نہیں اُترتا کہ ایک طرف جمہوریت اور دوسری طرف انگریزوں کے نو آبادیاتی نظام کے ذریعے عوام کو غلام رکھنے کی پالیسی معاشرے میں زہر گھول رہی ہے۔ عوام میں اضطراب پیدا کر رہی ہے اور اُن کی قوتِ برداشت کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ اُنہیں بھٹو کی طرح اب کوئی یہ کہنے والا تو نہیں کہ لڑوگے، مرو گے، لیکن اُن کی روز مرہ زندگی کا اُبال یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ لڑنے مرنے پر تلے بیٹھے ہیں ایک چنگاری اُن کے اندر کے شعلے کو باہر لا سکتی ہے۔ فوج دہشت گردوں کے خلاف کام کر رہی ہے، سیاسی قیادت کو اصلاحات کے ایجنڈے پر کام کرنا چاہئے۔ عدالتی و دفتری نظام کی اصلاح کے لئے سیاستدانوں کو سرجوڑ کے بیٹھنا چاہئے وقتی لیپا پوتی سے عوام کو دلاسہ دینے کی روایت اب اپنا اثر کھو بیٹھی ہے۔ جب لوگ قانون کو ہاتھ میں لینا شروع کر دیں تو خطرے کی گھنٹی بج جاتی ہے، یہ گھنٹی روزانہ ملک کے کسی نہ کسی حصے میں بجتی ہے مگر شاید سیسہ پلائے کانوں والی اشرافیہ کو سنائی نہیں دیتی۔

مزید : کالم