چھاپے کا پیغام

چھاپے کا پیغام
چھاپے کا پیغام

  


بدھ،11مارچ کو علی الصبح جب رینجرز کے دستے کراچی میں ایم کیو ایم کے مرکزی دفتر(نائن زیرو) پہنچے، تو یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پوری دُنیا میں پھیل گئی۔ میڈیا کارندے ہڑبڑا کر اُٹھے اور دوڑ پڑے۔ دیکھتے ہی دیکھتے کیمرے کی آنکھ بیدار تھی اور وہ مناظر دکھائے جا رہے تھے، جن کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ کوئی ستارہ شناس اِس طرح کی پیش گوئی کر پایا تھا، نہ ہی کوئی تبصرہ نگار اندازہ لگا پایا تھا۔سب کچھ اچانک ہوا تھا، ناقابلِ یقین پر یقین کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ بہت سے پاکستانیوں نے آنکھیں مل مل کر کھولیں اور کھول کھول کر ملیں، آپ اپنی چٹکیاں لیں کہ کہیں خواب تو نہیں دیکھ رہے۔ سب جتن کرنے کے باوجود ٹی وی سکرین کے مناظر تبدیل نہ ہوئے، تو مانتے ہی بنی۔۔۔ کہ وہ کچھ ہو گیا ہے، جو نہیں ہو سکتا تھا۔

ہمارے جیسے ملکوں میں بھی سیاسی جماعتوں کے دفاتر کو خاص تقدیس حاصل ہوتی ہے۔ بہت کم ایسا ہوا ہو گا کہ کسی بڑی سیاسی جماعت کے دفتر کا سرکاری گھیراؤ کیاگیا ہو،اس کی باوردی تلاشی لی گئی ہو، یا اس میں پائے جانے والے افراد کو ٹٹول ٹٹول کو دیکھا گیا ہو۔ ہاں اگر کسی جماعت پر پابندی لگی ہو یا لگائی جا رہی ہو تو اس کا معاملہ دوسرا ہے۔ اب تو پاکستانی سیاست میں کوئی دھینگامشتی بھی نہیں ہو رہی تھی۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے یا نیچا کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی جا رہی تھی۔ ایک ہی روز پہلے تو سینیٹ کے چیئرمین کا نام اتفاق رائے سے طے پایا تھا۔ میاں رضا ربانی بلامقابلہ منتخب قرار پائے تھے۔ آصف علی زرداری اور ان کے ہم نواؤں کی پسند کو وزیراعظم محمد نواز شریف اور ان کے اتحادیوں نے اپنی پسند بنا لیا تھا یا یہ کہئے کہ نواز شریف کی پسندیدہ شخصیت کو آصف علی زرداری اپنا گزرے تھے۔کوئی ایک آواز بھی تو مخالفت میں نہیں اٹھی تھی ۔ سترہ برس کے بعد شہباز شریف نے الطاف بھائی سے فون پر بات کی تھی۔ گویا آنے والے کل سے بے خبر نئے بندھن باندھے جا رہے تھے، سیاست کی کوئی ایسی ضرورت نہیں تھی کہ ایم کیو ایم کو ناراض کیا جائے، یعنی اس کی پرائیویسی میں ’’مخل‘‘ہوا جائے۔ پھر یہ سب کیسے ہو گیا؟ دفتر کا گھیراؤ کر لیا گیا، اس کی تلاشی لی گئی، اُس کے ریکارڈ پر قبضہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ یہاں سے(ناجائز) اسلحہ اور سزا یافتہ مجرم برآمد ہوئے ہیں۔

ایم کیو ایم کے کارکنوں ہی کے لئے نہیں، پاکستانی سیاست اور صحافت سے دور کاتعلق رکھنے والوں کے لئے بھی مذکورہ دفتر دُنیا کی محفوظ ترین جگہ تھی، جہاں پولیس اور رینجرز تو کیا فوج کے قدم بھی نہیں پہنچ سکتے تھے، پھر یہ کیا ہوا۔۔۔ صحافت، سیاست سے جواب طلب کر رہی تھی، لیکن اس نے گونگے کا گڑ کھا لیا تھا، اول اول سکتے میں تھی، پتھرائی پتھرائی آنکھوں سے اِدھر اُدھر دیکھ رہی تھی،۔۔۔ قدم یہاں تک پہنچیں گے ہاتھ یوں کھل جائیں گے، یقین نہ کرنے کے باوجود یقین کرنا پڑ رہا تھا۔رینجرز کے ترجمان نے اعلان کر دیا کہ انٹیلی جنس رپورٹوں کی بنیاد پر چھاپہ مارا گیا ہے۔ مجرموں کی تلاش میں جہاں بھی جانا پڑا، ہم جائیں گے اور کسی سے رو رعایت نہیں برتیں گے۔ کسی کا لحاظ نہیں کریں گے اور کسی کو معاف نہیں کریں گے۔ ایم کیو ایم کا ایک نوجوان گولی لگنے سے جاں بحق ہوا، لیکن چھاپہ ماروں کا اصرار تھا کہ یہ ایسے پستول کی گولی تھی جو رینجرز کے پاس نہیں ہوتی۔ گویا، کسی اور نے کام دکھایا ہے، شہر کو خون میں نہلانے کے لئے یہ واردات کر ڈالی گئی ہے۔ ایم کیو ایم کی انگلی رینجرز کی طرف تھی(اور ہے) ایک قیمتی جان کے نقصان کی ذمہ داری کوئی قبول کرے یا نہ کرے، یہ ضائع تو ہو چکی تھی، بیوہ ماں کو بے نور اور اُس کے گھر کو بے چراغ کر گئی تھی۔

ایم کیو ایم کا ابتدائی ردعمل جذباتی تھا، ہڑتال کی اپیل کی گئی، کراچی اور سندھ کے کئی شہروں میں کاروبار بند ہو گیا۔ نامعلوم افراد کی کارستانیوں اور پُرتشدد واقعات کے خیال سے کپکپی طاری ہونے لگی، لیکن پھر وہ نہ ہوا، جس کا خدشہ تھا۔ ہنگامہ بڑھنے کے بجائے بجھتا چلا گیا۔ الطاف بھائی حرکت میں آئے، اپنے کارکنوں سے خطاب کیا،الیکٹرانک میڈیا کے سوالوں کا سامنا کیا، ان مجرموں کو کوسا جو نائن زیرو میں ( یا اس کے اردگرد) گھسے ہوئے تھے، انہیں جماعت کی بدنامی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔۔۔ ان کے ایک فدائی نے یہ کہا تھا کہ تمام تر اسلحہ لائسنس یافتہ ہے، لیکن الطاف بھائی نے الزام لگا دیا کہ رینجرز اسے کمبلوں میں چھپا کر لائے تھے، بعد میں اس پر اصرار نہیں کیا۔ پوچھا جانے لگا کہ سزا یافتہ مجرم اور قانون کو مطلوب ملزم یہاں کیوں موجود تھے؟ ولی خان بابر کا ایک قاتل (فیصل موٹا) کیوں یہاں پایا جا رہا تھا؟مختلف توجیہات اور تاویلات بیان کی جانے لگیں، لیکن پھر فاروق ستار نے سفید جھنڈا لہرا دیا۔ رینجرز اور ایم کیو ایم کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا تنظیمیں قرار دینے سے انکار کر دیا۔ مجرموں کی سرکوبی کے لئے تعاون پر بھی آمادگی ظاہر کی، بدلے ہوئے لہجے نے بتا دیا کہ تبدیلی تو آ چکی ہے۔

کراچی آپریشن تمام سیاسی جماعتوں کے مطالبے اور مشاورت سے شروع کیا گیا تھا۔ ایم کیو ایم تو شہر کو فوج کے حوالے کرنے پر تُلی ہوئی تھی۔اس حوالے سے یہ بعض باوردی یا بے وردی عناصر کی کوئی جذباتی کارروائی نہیں تھی۔ اسے کسی حریف کو نشانہ بنانے کا نام بھی نہیں دیا جا سکتا۔ اس کا انکار ممکن نہیں کہ بدامنی عروج کو چھو رہی تھی، ٹارگٹ کلرز اور بھتہ خور دندناتے پھرتے تھے۔ خون کی ہولی کھیلی جا رہی تھی اور معاشی دارالحکومت تلپٹ کیا جا رہا تھا، تاکہ پاکستانی معیشت کا خون نچوڑ لیا جائے۔ آپریشن سب جماعتوں نے مل کر شروع کیا اور سب نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خود مختاری بھی عطا کر دی تھی۔ جرم اور مجرم کے خلاف جہاں جو ضروری سمجھو، کر گزرو۔اس کے بعد کسی سے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں تھی۔ وزیراعظم ہوں یا وزیراعلیٰ (غیر ضروری) تفصیلات سے ان کو باخبر رکھنا لازم نہیں تھا۔ بالائی طاقتوں کا اصرار ہے مختار نامہ (مشن کی تکمیل کے بغیر) واپس نہیں لیا جا سکتا۔ سو اہلِ سیاست نوٹ کر لیں انہیں اپنی صفوں کو دہشت گردوں اور مجرموں سے پاک کرنا ہو گا۔ سیاست اور دہشت ایک کھیل کے دو نام نہیں ہیں ، نہ ایک ہی سکے کے دو رُخ قرار دیئے جا سکتے ہیں۔ سیاست، فرقے، نسل، یا علاقے کی اوٹ میں دہشت کے دن گزر گئے، چھاپے کا پیغام یہی ہے۔ اگر چھاپہ ماروں نے اسے بھلا دیا، یا کام ادھوڑا چھوڑ دیا تو پھر جو ہو گا، اس کا تصور ہی رونگٹے کھڑے کرنے کے لئے کافی ہونا چاہئے۔

(یہ کالم روزنامہ ’’دُنیا‘‘ اور روزنامہ ’’پاکستان‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)

مزید : کالم