پاک بھارت تعلقات، پھر نازک موڑ پر!

پاک بھارت تعلقات، پھر نازک موڑ پر!

پاک بھارت تعلقات دریا کی طرح اُتار چڑھاؤ کا شکار رہتے ہیں۔ بھارت کی طرف سے خود اپنی چارپائی کے نیچے لاٹھی نہیں پھیری جاتی، لیکن معمولی سا عذر تراش کر پاکستان پر چڑھائی کرنے کی کوشش ضرور کرتا ہے۔دہلی میں حریت رہنماؤں نے پاکستان کے ہائی کمشنر سے ملاقات کی تو بھارت نے خارجہ سیکرٹریوں کے مذاکرات ختم کر دیئے ۔ مذاکرات کا یہ سلسلہ اب تک بحال نہیں ہوا۔حال ہی میں بھارتی سیکرٹری خارجہ نے سارک ممالک کے دورے کا پروگرام بنایا تو وہ اسلام آباد بھی چلے آئے، اس کی بہت تشہیر کی گئی، حالانکہ یہ مذاکرات نہیں تھے۔ بہرحال اتنا ہوا کہ ان کے اس دورے میں ہونے والی ملاقاتوں اور بات چیت کے نتیجے میں یہ طے پایا کہ مذاکرات ہونا چاہئیں۔ بھارت کے سیکرٹری خارجہ نے یہ بھی ’’خوشخبری‘‘ سنائی کہ اگلی سارک سربراہی کانفرنس کا میزبان پاکستان ہو گا اور امکانی طور پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اس میں شرکت کریں گے۔یہ اچھی ملاقات اور خوشگوار لمحے قرار دیئے جا رہے تھے کہ اب ایک نئی کشمکش شروع کر دی گئی ہے، ممبئی حملے میں بھارت کی طرف سے جن افراد کو سازش کا ملزم قرار دیا گیا ان میں ذکی الرحمن لکھوی بھی شامل کئے گئے ہیں اور بھارت کا یہ مطالبہ رہا کہ ممبئی حملے میں جن کو ملزم گردانا جا رہا ہے، وہ پاکستان میں ہیں ان پر مقدمہ چلایا جائے، حتیٰ کہ حافظ سعید تک کی حوالگی کا مطالبہ جاری ہے۔

حکومتِ پاکستان نے یہاں حافظ سعید کو نظر بند کیا، وہ عدالت عظمیٰ کے حکم سے رہا ہو گئے، اِسی طرح ذکی الرحمن لکھوی کو مسلسل نظر بند رکھا گیا، ان کے خلاف متعدد مقدمات بنائے گئے، وہ بھی عدالت عالیہ پر اعتماد کرتے ہوئے انصاف طلب ہوئے، ان کی متعدد مقدمات میں ضمانت ہوئی اور پھر ایک سے زیادہ بار نظربندی خلافِ قانون قرار دی گئی اور اب آخری بار اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کو رہا کرنے کا حکم دیا اور نظر بندی کالعدم قرار دے دی۔اس پر بھارت سیخ پا ہے۔ پاکستان کے ہائی کمشن کے افسر کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ ذکی الرحمن لکھوی کو بھارت کے سپرد کیا جائے یا پھر عالمی عدالت میں پیش کیا جائے۔ دوسری طرف پاکستان نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ میں طلب کیا اور اس امر پر احتجاج کیا کہ پاکستان کی عدلیہ پر الزام تراشی کی گئی ہے۔ پاکستان نے بھی احتجاج کیا اور سمجھوتہ ایکسپریس کے مقدمہ کا ذکر کیا گیا، جسے بھارت میں کھوہ کھاتے میں ڈال دیا گیا ہے۔یہ صورت حال ایک بار پھر حالات کو کشیدہ کرنے والی ہے اور حال ہی میں خیر سگالی کا جو ماحول پیدا ہوا، اسے خراب کرنے کی کوشش ہے، بھارتی حکمرانوں کی نیت ٹھیک نہیں۔ یہ پاکستان کی عدالت کا فیصلہ ہے جس کے خلاف اپیل بھی کی جا رہی ہے، لیکن بھارت کا رویہ بہرحال افسوسناک ہے اور تعلقات خراب کرنے کا باعث بنے گا، اس لئے بھارتی حکومت کو احتیاط کرنا چاہئے۔یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ بھارت پاکستان کے سائنس دانوں کی حالیہ کاوش سے دُکھی ہے، جنہوں نے میزائلوں اور ڈرون طیاروں کے نئے تجربات کئے ہیں، اس سے پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو فائدہ ہوا ہے بھارت کی نیت صاف ہے، تو اسے دوسروں کی نیت پر شک نہیں کرنا چاہئے۔ توقع کرنا چاہئے کہ اس سے تعلقات متاثر نہیں ہوں گے اور امن مذاکرات شروع ہوں گے، کوئی رکاوٹ پیش نہیںآئے گی۔

مزید : اداریہ