روشن خیال بھارت میں درندگی کی نئی تاریخ رقم،74سالہ بڑھیاکیساتھ وحشیانہ سلوک

روشن خیال بھارت میں درندگی کی نئی تاریخ رقم،74سالہ بڑھیاکیساتھ وحشیانہ سلوک
روشن خیال بھارت میں درندگی کی نئی تاریخ رقم،74سالہ بڑھیاکیساتھ وحشیانہ سلوک

  


نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک)روشن خیال بھارت میں چھ افراد 74سالہ نن کیساتھ جنسی زیادتی کر کے فرار ہو گئے ۔تفصیلات کے مطابق ان افراد نے سنیچر کی علی الصبح راہبوں کے زیرِ انتظام سکول کی عمارت میں توڑ پھوڑ کی اور راہبوں کی اقامت گاہ میں داخل ہونے سے قبل پیسے چرائے۔زیادتی کا نشانہ بننے والی 74سالہ راہبہ نجی ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور ڈاکٹروں کا کہناہے کہ ان کی حالت اب خطرے سے باہر ہے ۔ کلکتہ کے آرچ بشپ یا سب سے بڑے عیسائی پیشوا تھامس ڈی سوزا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سکول کے اندر واقع راہبوں کی اقامت گاہ میں نصب سکیورٹی کیمروں نے ان چھ افراد کو فلم پر محفوظ کر لیا ہے جنھوں نے یہ حملہ کیا۔ پہلے انھوں نے پرنسل کے دفتر اور سکول کے کمروں میں توڑ پھوڑ کی اور پھر اقامت گاہ میں گھس گئے۔

تھامس ڈی سوزا کا کہنا تھاکہ کمیونٹی میں صرف تین سسٹرز (راہبائیں) ہیں۔ ان میں سے ایک کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ باقی دو کو ایک محافظ سمیت کرسیوں سے باندھ دیا گیا۔ملزمان نے سکول سے پیسے چرائے، نجی عبادت کے لیے مخصوص گوشے کو غارت کیا، مذہبی صندوق کو توڑ دیا اور گنبد دار شامیانہ اور مقدس ظروف جو رسومِ عبادت کے لیے استعمال ہوتے ہیں لے اڑے۔تھامس ڈی سوزا کا کہنا تھا کہ یہ سکول 19 برس سے چل رہا ہے اور کافی مشہور ہے۔عیسائیوں کے سکول اور راہبہ پر حملہ اس وقت ہوا جب خواتین کیخلاف جنسی پر تشدد پورے ملک میں بہت تشویش کا اظہار ہو رہاہے اور میڈیاپر ریب اور دیگر واقعات کی کوریج بھی بھرپور ہو ر ہی ہے ۔

مزید : بین الاقوامی