معاشی ترقی میں ایس ایم ای سیکٹر کا کردار

معاشی ترقی میں ایس ایم ای سیکٹر کا کردار
معاشی ترقی میں ایس ایم ای سیکٹر کا کردار

  

کسی بھی مُلک کی معاشی ترقی، بالخصوص لارج سکیل مینو فیکچرنگ سیکٹر کی نشوونما کا دارو مدار چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں، یعنی ایس ایم ایز پر ہوتا ہے۔ پاکستان کا شمار ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے، جہاں 99فیصد صنعتیں ایس ایم ایز ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ان کی تعداد 3.2ملین سے زائد ہے۔ یہ چھوٹی صنعتیں ملکی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں اور لارج سکیل مینو فیکچرنگ سیکٹر کی بقاء کا دارو مدار بھی ان پر ہی ہے، کیونکہ یہ انہیں اپنا کردار ادا کرنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔ اگرچہ پاکستان میں ایس ایم ای سیکٹر دیہی علاقوں میں رہنے والوں کے معاشی مسائل حل کرنے میں بہت اہم کردار ادا کر سکتا ہے، مگر یہ خود بہت زیادہ مشکلات سے دوچار ہے۔ حکومتِ پاکستان نے سمیڈا کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا تھا، جس کا مقصد چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کی ترقی و خوشحالی کے لئے کام کرنا تھا۔ ابتدائی کچھ سال تو انتظامی امور کی نذر ہو گئے، اگرچہ اب سمیڈا کی سمت درست ہے، لیکن اس کے منصوبے تب تک کامیاب نہیں ہو سکتے، جب تک کہ دوسرے ادارے مکمل معاونت نہ کریں۔اس وقت ایس ایم ای سیکٹر کے لئے سب سے بڑا مسئلہ مالی معاونت ہے۔ کوئی بھی ادارہ سرمائے کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا،اس سلسلے میں بینکنگ سیکٹر کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا اور ایس ایم ای سیکٹر کو آسان شرائط پر قرضے فراہم کرنے چاہئیں جو بے جا پابندیوں اور غیر ضروری قانونی امور سے پاک ہوں، کیونکہ ایس ایم ایز کے وسائل کم اور مسائل زیادہ ہیں۔

کوئی بھی چھوٹا صنعت کار ایک لمبے عرصے تک بینکوں کی دہلیز پر حاضری نہیں دے سکتا اور بینک چھوٹی صنعتوں کے بجائے بڑی صنعتوں کو اہمیت دیتے ہیں، اس سوچ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ میری ایک تجویز یہ بھی ہے کہ ایس ایم ای سیکٹر کی ترقی کے لئے ایک الگ وزارت قائم کی جائے، جس طرح دیگر ممالک نے کر رکھی ہے۔ چھوٹی صنعتوں کے لئے شہروں کے نزدیک خصوصی انڈسٹریل زون بنائے جائیں اور وہاں بجلی و دیگر سہولتیں ارزاں نرخوں پر مہیا کی جائیں۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے لئے ٹیکنالوجی پارکس قائم کئے جائیں جو انڈسٹری زونز کے نزدیک ہوں اور ان کا انتظام و انصرام بھی صنعتکاروں کے پاس ہی ہو۔ چھوٹی صنعتوں کی ترقی کی رفتار تیز کرنے کے لئے سمیڈا بڑے شہروں میں بزنس سنٹر بنائے جو چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعتکاروں کو سیمینار، ورکشاپس اور نمائشوں کے ذریعے تجارتی معلومات سے آگاہ رکھے۔ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان ایس ایم نصیر کی سربراہی میں برآمدات کے فروغ کے لئے سرگرم عمل ہے۔ تمام متعلقہ اداروں کو ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارتی آف پاکستان کے ساتھ مل کر برآمدات کے فروغ اور صنعت و تجارت کی خوشحالی کے لئے کام کرنا چاہئے۔

دیگر شعبوں کی طرح سمال اینڈ میڈیم انٹر پرائزز کو بھی سمگلنگ بہت بری طرح نقصان پہنچا رہی ہے، لہٰذا اس ناسور کی روک تھام کے لئے انتہائی سخت اقدامات اٹھائے جائیں۔ مزید برآں یہ یاد رکھنا بہت ضروری ہے کہ یورپی ممالک میں معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا، ایس ایم ای سیکٹر میں اس کے متعلق شعور و آگہی پیدا کرنے کے لئے خصوصی مہم چلائی جائے اور برانڈنگ کی طرف بھی خاص توجہ دی جائے ،کیونکہ دُنیا بھر میں برانڈنگ اب بہت اہمیت اختیار کر چکی ہے ، لہٰذا پاکستانی صنعتیں برانڈنگ کی طرف توجہ دیں، جبکہ حکومت اس سلسلے میں ان کی ہر ممکن مدد کرے تاکہ عالمی سطح پر پاکستان کی اپنی منفرد ساکھ ہو۔ ریفنڈ کلیمز کا مسئلہ عرصہ دراز سے سوہان روح بنا ہوا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق صنعتکاروں کے 200 ارب روپے سے زائد کے ریفنڈ کلیمز حکومت کے پاس پینڈنگ ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ جو چھوٹی صنعتیں برآمدات سے منسلک ہیں، انہیں ریفنڈ کلیمز ادا کر دے تاکہ انہیں سرمائے کی قلت کا سامنا نہ ہو۔ اس کے علاوہ چھوٹی صنعتوں کے لئے بجلی کے نرخ بھی کم کئے جائیں تاکہ ان میں دیگر ممالک کی مصنوعات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بڑھائی جا سکے۔ دورِ جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لئے ویلیو ایڈیشن بہت ضروری ہے، مگر ہمارے ہاں ٹیکنالوجی کا فقدان اس کی راہ میں حائل ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ حکومت چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کو جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی کے لئے اقدامات تاکہ یہ ویلیو ایڈیشن کر کے مُلک کے لئے زیادہ سے زیادہ زرمبادلہ کما سکیں۔

مزید :

کالم -