بے سہارا بچوں کے لئے محفوظ پناہ گاہ۔۔۔چائلڈ پروٹیکشن بیورو

بے سہارا بچوں کے لئے محفوظ پناہ گاہ۔۔۔چائلڈ پروٹیکشن بیورو
 بے سہارا بچوں کے لئے محفوظ پناہ گاہ۔۔۔چائلڈ پروٹیکشن بیورو

  

خوش قسمت ہیں وہ بچے جو اپنی ماں کی گود کے لمس، باپ کی شفقت اور بہن بھائیوں کے پیار و محبت کے سایہ میں پروان چڑھتے ہیں۔ زندگی کی ہروہ نعمت، سہولت اور آسانیاں انہیں دستیاب ہوتی ہیں جو ان کے والدین کی دسترس میں ہوتی ہے۔ گھروں کے آنگن میں جب بچوں کے قہقہے گونجتے ہیں تو وہ گھر جنت کا نمونہ پیش کرتا نظر آتا ہے۔ماں باپ بھی اپنے بچوں کے ناز نخرے اٹھاتے ہیں اور ان کی تمام ضروریات پوری کرتے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کو زیورتعلیم سے آراستہ کرتے ہیں اور یہی بچے بڑے ہوکرنہ صرف ذمہ دار شہری بنتے ہیں بلکہ ملک کی باگ ڈور سنبھالتے ہیں۔بدنصیب ہیں وہ والدین جو اولاد جیسی نعمت ہونے کے باوجود ان کو دربدر کی ٹھوکریں کھانے کیلئے تنہاچھوڑ دیتے ہیں۔ پھر یہی بچے سڑکوں پر بھیک مانگتے ،ہوٹلوں، ورکشاپوں اور فیکٹریوں میں محنت مزدوری کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ بعض بچے جنسی بے راہ روی کا شکار ہوجاتے ہیں اور کچھ بچے چھوٹی موٹی چوریاں کرتے کرتے جرائم کی دلدل میں دھنستے چلے جاتے ہیں۔ کیا ان بچوں کا دل نہیں کرتاکہ وہ بھی سکول جائیں ، کھلونوں سے کھیلیں، ماں باپ اور بہن بھائیوں کے ساتھ باغوں ، ہوٹلوں اور دیگر تفریحی مقامات پرجائیں اور زندگی سے حقیقی معنوں میں لطف اندوز ہوں۔ یقیناًان کا دل کرتا ہوں گا جب وہ اپنی عمر کے بچوں کو سکول یا ماں باپ کے ساتھ شاپنگ پرجاتا دیکھتے ہوں گے تو ان کی آنکھیں پُرنم ہوجاتی ہوں گی۔ کاش ہمارے والدین بھی ہوتے اور اسی طرح ہم بھی عیش کرتے مگر افسوس۔ ان حالات وواقعات کا جائزہ لیا جائے تو کئی وجوہات سامنے آتی ہیں ، معاشرتی ناہمواریوں، دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم اور سماجی رویوں نے حالات کو بگاڑ کی طرف دھکیل دیا ہے۔ غربت، والدین کے لڑائی جھگڑے اور ناچاقیاں، والدین کی دوسری شادی، سکولوں میں ٹیچرز کا بچوں پر تشدد، ہوٹلوں اور ورکشاپوں میں بچوں پر تشدد، بدفعلی جیسی وجوہات بچوں کو گھروں سے بھاگنے پر مجبور کرتی ہیں۔

گذشتہ دنوں پنجاب چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو جانے کا اتفاق ہوا۔وہاں پر مقیم بچوں کے چہروں کو دیکھ کر آنکھوں میں آنسو آگئے، دل بھرآیا۔ بچوں کی آنکھیں اپنے ماں باپ کو دیکھنے کیلئے ترستی نظر آئیں۔ ان کے چہروں پر عجیب سے اداسی تھی ،وہ ڈرے ڈرے سے اور سہمے ہوئے تھے۔ ان کو نہیں معلوم تھاکہ ماں کی گود کا لمس کیا ہوتا ہے؟ باپ کی شفقت کیسی ہوتی ہے؟ بہن بھائیوں کی شرارتیں، لڑنا جھگڑنا اور صلح کرلینے کا مزا کیا ہوتا ہے؟ یوں کہہ لیجئے کہ وہ حسرت و یاس کی تصویر نظر آئے۔

چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی نرسری میں 20بچے مقیم تھے جن کی عمریں ایک ماہ سے تین سال تک تھیں۔ ایک بچی جو بمشکل 20دن کی تھی ،کے بارے میں ڈی جی چائلڈ پروٹیکشن نے بتایا کہ یہ بچی ایک دن کی تھی جب اسے بیورو لایا گیا۔ اس کی ماں اس کو جنم دے کر ایبٹ روڈ پر شاپر میں ڈال کرنازک حالت میں چھوڑ گئی۔ بچی کو چند یوم میو ہسپتال میں رکھا گیا۔ اب وہ بالکل صحت مند ہے۔ اسی طرح 5ماہ کی ایک بچی سیالکوٹ کے کھیتوں سے ملی۔ اس کی کمر پر ٹیومر تھا اور والدین اس کو کھیتوں میں چھوڑ کر چلے گئے۔ ڈی جی نے بتایا کہ بچی کے دو آپریشن ہوچکے اور اب اس کی سرجری ہو رہی ہے۔ دو بچیاں جھولے میں پڑی ہوئی تھیں جب ان کو دیکھا تووہ ہنس رہی تھیں۔

نرسری میں ایک گیارہ ماہ کی بچی تھی، اس کی ماں بچی کو گداگری کیلئے استعمال کرتی تھی۔ سخت سردی میں اس کو صرف پیمپر لگایا کرتی تھی۔ بچی کو چائلڈ پروٹیکشن بیورو لایا گیا ہے مگر اس کی ماں اب تک نہیں آئی۔ تمام بچوں اور بچیوں کی دکھ بھری داستانیں سن کر انسان کانپ جاتا ہے۔ڈی جی بیورو نے بتایاکہ گھروں میں کام کرنے والی بچیوں پر تشدد کے واقعا ت عام ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ بچیوں پر تشدد کے زیادہ تر واقعات، ڈیفنس، گلبرگ جیسے پوش اور امیر گھرانوں میں عام ہوتے ہیں۔ تشدد سے بچیوں کی ٹانگیں اور بازو توڑنے اور جسم پر گرم استریاں لگانے کے واقعات معمول کی بات ہیں۔ ایک دس سالہ بچی جس کی اس کا والد 50سالہ شخص سے شادی کروا رہا تھا ، محلہ داروں نے پولیس کو بتایااور پھر بچی کو چائلڈ پروٹیکشن بیورو لایا گیا۔ اسی طرح ڈیفنس کے ایک امیر گھر میں 12سالہ بچی پرجسمانی تشدد کیاگیا تھااوراس کے جسم کو گرم استری سے داغا گیاتھا۔

ڈی جی چائلڈ پروٹیکشن بیورونے بتایاکہ یہاں مقیم بچوں کے کھانے کا بہترین مینو تیار کیاجاتا ہے۔ اسی طرح ان کے کپڑوں کا بھی خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ ان کو ان کی مرضی کے مطابق کپڑے دیئے جاتے ہیں، تعلیم کاانتظام کیاجاتا ہے۔ ایک بچی 2006ء میں ریلوے اسٹیشن سے ملی اب وہ فرسٹ ایئر کی طالبہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کئی بچے یہاں پر آٹھ نو سال سے یہاں رہ رہے ہیں وہ اس کو اپنا گھر سمجھتے ہیں۔ تین لڑکے کالج میں زیرتعلیم ہیں۔ چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں میلہ بھی لگایاجاتا ہے۔بچوں کو پاکٹ منی بھی دی جاتی ہے۔ وہ آیا کو اپنی ماں سمجھتے ہیں۔ یہاں کا سٹاف ان کی ہر طرح کی دیکھ بھال کرتا ہے۔انہوں نے بتایاکہ لاہور کے مختلف مقامات خصوصاً ریلوے اسٹیشن، لاری اڈہ، داتا دربار کے علاقوں میں ریسکیوسنٹرز قائم کئے گئے ہیں جو چوبیس گھنٹے کھلے رہتے ہیں۔

چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو جولائی 2004ء میں قائم کیاگیا جس کا بنیادی مقصد بے سہارا ، عدم توجہی کاشکار اور گھروں سے بھاگے ہوئے بچوں کو ایک محفوظ پناہ گاہ فراہم کرنا اور اس کی بہتر تربیت کرکے انہیں معاشرے کا ایک مفید رکن بنانا ہے۔ لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، ملتان ، راولپنڈی اور سیالکوٹ میں چائلڈ پروٹیکشن کے دفاتر کام کر رہے ہیں جبکہ رحیم یارخان، بہاولپور اور ساہیوال میں بیورو کے دفاتر تعمیر کئے جا رہے ہیں جن پر 60کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں سوشل سیکشن،اوپن ریسپشن سنٹر، ہیلپ لائن1121، لیگل سیکشن، میڈیکل سیکشن، سائیکالوجی سیکشن، ماس اوپئرینس سیکشن اور چائلڈ پروٹیکشن سکول کام کر رہے ہیں۔چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی ٹیموں نے 2014ء میں 4707جبکہ 2015ء میں 7035بچوں اور بچیوں کو ریسکیو کیا۔ گذشتہ سال 22 بچوں جن کی عمریں ایک یوم سے لے کر 2ماہ تک تھی کو قبرستانوں، کوڑے کے ڈھیر اور سڑکوں کے کناروں سے ریسکیو کیاگیا۔ 2015ء میں 19معصوم بچوں کو مختلف والدین نے گود لیا۔ چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی ہیلپ لائن پر بچوں پر تشدد، جنسی بدفعلی، گمشدگی کی 3205فون کالز موصول ہوئیں۔ بیورو نے بچوں اور بچیوں پر تشدد کے 23مقدمات درج کرائے۔ چائلڈ پروٹیکشن بیورو نے 2014ء میں 2073، 2015ء میں 3413بچوں کو ان کے اہل خانہ سے ملوایا ۔ ان میں افغانستان سے تعلق رکھنے والے بچے بھی شامل ہیں۔ سیلاب کے دوران اپنے والدین سے بچھڑ جانے والے بچوں کوبھی اُن کے والدین سے ملوایا گیا۔ گمشدہ اور چھوٹے بچوں کے نادرا میں اندراج کیلئے خصوصی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ اسی طرح بے سہارا اور عدم توجہی کے شکار بڑے بچوں کیلئے ’’اخوت‘‘ کے چیئرمین ڈاکٹر امجد ثاقب کی توسط سے چھوٹے قرضے اور سکالرشپ کا اہتمام بھی کیاگیا ہے۔ بدفعلی کے شکار بچوں کے مقدمات کی بروقت تفتیش کیلئے پولیس کی معاونت سے بھرپور اقدامات کئے گئے ہیں اور اس سلسلے میں ایڈیشنل آئی جی پولیس کو فوکل پرسن نامزد کیاگیا ہے۔صاحب اقتدار، صاحب ثروت اور ہم سب کیلئے یہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔ وہ آگے آئیں اور معاشرے کے ٹھکرائے ہوئے ان بچوں کیلئے ادارے بنائیں تاکہ وہ بھی معاشرے کا مفید رکن بن سکیں اور ملک و قوم کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔

مزید :

کالم -