وجودِ زن

وجودِ زن
وجودِ زن

  

آج کی خواتین خوش قسمت ہیں کہ کبھی ان کے لئے قانون سازی کی باتیں ہوتی ہیں اور کبھی ان کو مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اعلیٰ کارکردگی کی بنیاد پر اعزازات سے نوازا جاتا ہے۔ ہمارا پیارا ملک پاکستان دنیا میں اس حوالے سے بھی جانا جاتا ہے کہ ایک خاتون اس ملک کی وزیراعظم بھی رہی ہیں اور اس وقت بھی خواتین بڑے بڑے اور اہم عہدوں پر براجمان اپنے فرائض کو بُحسن و خوبی ادا کر رہی ہیں۔ یہ صنفِ نازک نہ صرف زمین پر مصروفِ عمل نظر آتی ہیں، بلکہ آسمان کی وسعتوں میں جہاز اڑاتی ہوئی بھی دکھائی دیتی ہے، لیکن اس ترقئ نسواں کے باوجود ہمارے معاشرے میں ذہنی پسماندگی اپنی انتہا پر ہے۔ میرا خیال ہے کہ خواتین کا عالمی دن اس لئے منایا جاتا ہے کہ مردوں کو بھی اپنے فرائض کا احساس دلایا جائے تاکہ معاشرے میں عورت نامی ناچیز کو بھی انسان سمجھا جائے اور جب عورت کو انسان سمجھ لیا جائے تو پھر اس کے حقوق کی باری آتی ہے۔ میں سمجھتی ہوں اگر والدین نے اپنی بیٹی کو تعلیم جیسے خوبصورت اور انمول زیور سے آراستہ کر دیا ہے تو پھر معاملاتِ زندگی میں اس کی رائے کو بھی مقدم جانیں۔ اکثر گھرانوں میں دیکھا گیا ہے کہ جب لڑکی جائیداد میں سے اپنا حصہ طلب کرتی ہے تو اس کو کہا جاتا ہے کہ ’’بیٹا! ہم نے آپ کو اعلیٰ تعلیم دلوا دی ہے، یا پھر جہیز دے دیا ہے‘‘۔یوں جہیز دے کر اسے بنیادی حق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ حالانکہ اس سلسلے میں والدین کو بیٹی سے پوچھنا چاہیے کہ وہ اپنا حصہ لینا چاہتی ہے یا پھر جہیز؟ جہیز جو دیا جاتا ہے وہ کیا ہوتا ہے؟9پیڑھے،6پیٹیاں، ان میں 20بسترے روئی کے گدے، لحاف والے پیٹیوں میں سسرال کے خاندان بھر کے کپڑے ،چند تولے سونا اور پیتل، تانبے یا ایلومونیم کے برتن یا گجرات،لالہ موسیٰ پاٹری کی چائے کی پیالیاں، چاقو چھریاں وغیرہ۔ والدین بہت ترقی پسند ہوئے تو فرنیچر کے دو ٹرک بھر کر دولہا پر احسان فرما دیا اور یوں لڑکی کو دو ٹکے کا جہیز دے کر لاکھوں کی زمین جائیداد سے محروم کر دیا جاتا ہے۔

پرانی بات ہے مجھے بہاولپور ایک شادی میں شرکت کے لئے جانے کا اتفاق ہوا جہاں میری ہم عمر کافی لڑکیاں مختلف جگہوں سے آئی ہوئی جمع تھیں، ہم ایک دوسرے کے ساتھ ہنستی بولتی اور خوش گپیوں میں مصروف رہتیں، مگر فوزیہ نامی ایک لڑکی سب سے الگ تھلگ بیٹھی اپنے ہی خیالوں میں مگن رہتی۔ ایک دن جب میں نے اسے اپنی سوچوں میں گم تنہا بیٹھے دیکھا تو پوچھا: ’’فوزیہ کیا بات ہے تم پریشان سی کیوں رہتی ہو؟‘‘ کہنے لگی بس یونہی، ایسی ویسی تو کوئی بات نہیں۔ کچھ دنوں بعد میری شادی ہونے والی ہے‘‘۔ میں نے کہا ’’تو اس میں پریشانی کی کیا بات ہے، یہ تو لڑکیوں کے لئے خوشی کا موقع ہوتا ہے کہ وہ بابل کا گھرچھوڑ کر پیا دیس سدھار رہی ہوتی ہیں، جہاں ان کے خوشگوار مستقبل کے لئے خواب پورے ہونے ہوتے ہیں‘‘۔ وہ آنکھوں میں آنسو بھر کر بولی تیری شادی عام لڑکیوں جیسی نہیں ہے، ہمارے خاندان میں شادی آپس میں کرتے ہیں، تاکہ جائیداد تقسیم نہ ہو، میں نے کہا ’’پھر کیا ہوا ایسا تو اکثر خاندانوں میں ہوتا ہے‘‘۔ کہنے لگی’’ میں بی اے پاس ہوں جبکہ میرا منگیتر جو میرا کزن ہے محض دس سال کا ہے ان پڑھ جاہل جھپٹ، وہ گلیوں میں بچوں کے ساتھ کھیلتا پھرتا ہے۔ آپ ہی بتائیں، یہ بھی کوئی شادی ہے، اَن مِِل بے جوڑ!‘‘ میں نے کہا ’’تم انکار کر دو‘‘ کہنے لگی ’’انکار کر دوں تو جان سے جاؤں، میرے گھر والے سب کچھ جانتے بوجھتے مجھ پر یہ ظلم کر رہے ہیں، مجھے دوزخ میں دھکیل رہے ہیں، محض زمین جائیداد کی خاطر‘‘ میں یہ سن کر خاموش ہو گئی۔

آج کے دور میں عورت کو غلام سمجھ کر اس سے مشقت طلب کام لئے جاتے ہیں جو خواتین ملازمت پیشہ ہیں۔ جب وہ اپنے اپنے کام کی جگہوں سے تھکی ہاری گھروں کو واپس پہنچتی ہیں تو ہزاروں کام وہاں ان کے منتظر ہوتے ہیں، جبکہ دوسری جانب ایک ملازمت پیشہ مرد گھر میں داخل ہوتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ’’ بیٹا آپ کے ابو یا بھائی تھکے ہوئے آئے ہیں۔ انہیں آرام کی ضرورت ہے۔ اس طرح اس ملازم پیشہ خاتون کی ذمہ داری دوگنا ہو جاتی ہے، لیکن گھر والوں کا رویہ اس کے ساتھ حوصلہ افزاء نہیں ہوتا، بلکہ اکثر عورت کو کمزور جان کر اسے ڈرانے، دھمکانے اور دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اکثر اوقات مرد حضرات عورت پر چیخ چِّلا کر اپنی برتری اور مردانگی ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس دہشت گردی کو اپنا حق سمجھتے ہیں‘‘۔

عورتوں کے عالمی دن کے حوالے سے ایک ٹی وی چینل پر ایک پروگرام دکھایا جا رہا تھا، جس میں ایک خاتون بتا رہی تھیں کہ آزادی ء نسواں تحریک کے سلسلے میں انہوں نے مار تک کھائی ہے۔ آپ سوچ سکتے ہیں کہ جب ایک خاتون سوشل ورکر پر حقوق کی جدوجہد کے سلسلے میں یہ سلوک ہوتا ہے تو پھر ایک گھریلو خاتون آزادی ء نسواں کی بات اپنی نوکِ زباں تک بھی کیوں کر لا سکتی ہے؟ وہ اپنے بنیادی حقوق طلب کرتے ہوئے ڈرتی ہے کہ اس مطالبے پر نہ جانے اس کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا جائے گا۔ دوسری بات یہ کہ جب بھی کسی لڑکی کی شادی کا وقت آتا ہے۔ اس وقت بھی والدین اپنے فائدے یا پسند کو ترجیح دیتے ہیں۔ کچھ رشتے تو اس بات کو بنیاد بنا کر طے کئے جاتے ہیں کہ جائیداد کی تقسیم نہ ہو تو بہتر ہے اور جس نے تمام زندگی اس شخص کے ساتھ گزارنی ہے ، اس لڑکی سے اس کی مرضی پوچھنا بھی گوارا نہیں کی جاتی۔ خُلع کے حوالے سے ہمارے معاشرے میں کسی ایسی عورت کو عزت کی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ جو خاتون شوہر کے ظلم و ستم کی وجہ سے علیحدگی کی بات کرے،اسی وجہ سے ہمارے شہروں اور دیہاتوں میں یکساں تناسب سے خودکشی اور آتش زنی جیسے واقعاتِ منظر عام پر آتے ہیں جبکہ خلع، عورت کا اسلامی اور قانونی حق ہے۔ اگر کوئی بیوی بوجوہ اپنے شوہر کے ساتھ زندگی بسر نہیں کرنا چاہتی تو وہ سوچ سمجھ کر اپنا یہ حق استعمال کر سکتی ہے۔

اس طرح کے بے شمار مسائل روز و شب ہمارے سامنے موجود رہتے ہیں۔ اکثر مرد حضرات عورتوں کو زدوکوب کرتے ہیں۔ ذرا ذرا سی بات پر ان کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اور اس کے جذبات و احساسات کا بھی خیال نہیں رکھا جاتا۔ان کے دل کے نازک آبگینے کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ اس تشدد کی وجہ سے نہ صرف ان کی جسمانی بلکہ ذہنی نشوونما بھی متاثر ہوتی ہے۔ یاد رکھنا چاہیے عورت صرف ایک عورت ہی نہیں ،وہ ایک بیوی، بیٹی، بہن اور ماں بھی ہے۔ہر رشتے میں ایک خوبصورت رنگ میں نظر آئے گی۔ بہن ہے تو بھائی پر جان نچھاور کرتی ہے۔ بیٹی ہے تو ماں باپ کے وقار و عزت میں اضافے کا باعث بنتی ہے، بیوی ہے تو اپنی خدمت اور محنت سے گھر کو جنت بنا دیتی ہے اور اگر ماں ہے تو ہر وقت اپنی اولاد اور گھر والوں کے لئے دعاگو ہے۔ اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ عورت کو اعلیٰ اور معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ اس کے بنیادی حقوق ادا کئے جائیں،تب ہی ایک فعال معاشرہ وجود میں آئے گا، کیونکہ ایک صحت مند ماں ہی ایک بہترین معاشرے کو تشکیل دے سکتی ہے۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ خواتین نے ہی آنے والی نسلوں کو تربیت دے کر اس ملک و قوم کے حوالے کرنا ہے۔ اس لئے عورت کی عزت، عظمت اور وقار کے ساتھ ساتھ اس کے احساسات و جذبات کو بھی جاننے اور سمجھنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ بقول فوزیہ اعوان:

گر عورت ہوں تو پھر کیا ہے

اک جیتا جاگتا انسان ہوں

اس قوم کا مَیں بھی حصہ ہوں

مَیں عورت ہوں

اور مجھ سے ہی تخلیق یہ دنیا ہوتی ہے

آؤ! میری تکریم کرو

مَیں عورت ہوں

مَیں عورت ہوں!!

مزید :

کالم -