A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

جنات کا غلام۔۔۔دسویں قسط

جنات کا غلام۔۔۔دسویں قسط

Mar 15, 2016 | 22:47:PM

شاہد نذیر چودھری

معروف صحافی اور محقق ’’شاہد نذیر چوہدری ‘‘ کی اپنے سحر میں جکڑ لینے والی تحقیق پر مبنی سچی داستان ’’جنات کا غلام ‘‘

نویں قسط پڑھنے کے لئے کلک کریں

ماحول پر نور کی بارش ہو رہی تھی۔ کمرہ خوشبویات سے بھر گیا تھا۔ ہم سب آنکھیں بند کئے غلام محمد کی خوش الحانی سے محظوظ ہو رہے تھے۔ مجھے کچھ ہی دیر بعد محسوس ہونے لگا کہ اس کشادہ کمرے میں ہم چند لوگوں کے علاوہ بھی کچھ لوگ موجود ہیں اور کمرہ بھرائی ہوئی گرم سانسوں کے ساتھ بھرتا جا رہا ہے۔ بابا جی کے حکم کے مطابق تو سبھی کو آنکھیں بند رکھنا تھیں لیکن اس سمے میرے دل میں یہ خواہش مچل رہی تھی کہ میں آنکھیں کھول کر کمرے کے ماحول کو دیکھوں۔ لیکن تاب نہیں ہو رہی تھی آنکھیں کھولنے کی۔ حتیٰ کہ میرے دل میں یہ بھی خیال آیا کہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی جب باباجی غازی اور غلام محمد عرب باشندوں کی شکل میں ظاہر ہوئے تھے تو ہم نے آنکھیں بند نہیں کی تھیں۔ اس وقت تو ہمیں نہیں کہا گیا کہ بابا جی کی حاضری ہو گئی ہے لہٰذا آنکھیں بند کر لو۔ مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آئی۔ کچھ دیر پہلے بابا جی بستر پر دراز تھے تو زلیخا اور نصیر ان کی خدمت کر رہے تھے اس وقت بھی سبھی اپنی آنکھوں کے ساتھ انہیں دیکھ رہے تھے۔ میں اپنے دل کو مختلف تاویلوں سے قائل کرنے لگا۔ مجھے آنکھیں کھول کر اس بھرپور نورانی منظر کو دیکھ لینا چاہئے۔ آخر میں ایک زمیندار بھی تو تھا۔ مجھے بے خبر نہیں رہنا تھا۔ میں اس کشمکش میں مبتلا تھا کہ غازی میرے پاس آیا اور کہنے لگا ”چاچا جی دماغ ٹھیک ہو گیا ہے“

اس سے قبل کہ میں کچھ بولتا۔ بابا جی کی آواز گونجی ”غازی خاموش رہو۔ جانتے نہیں اس وقت کس ذات اعلیٰ کے لئے محفل سجی ہوئی ہے“

غلام محمد بابا کی آواز سن کر خاموش ہو گیا۔ بابا جی بولتے رہے ”ادھر میرے پاس آ“ انہوں نے غازی کو بلایا ”بیٹھو آرام اور عقیدت کے ساتھ نعت رسول سنو“ اس بار باباجی کے لہجے میں نرمی تھی۔ میں نے آنکھیں کھول دیں۔ دیکھا کہ بابا جی اسی بستر پر بیٹھے ہیں۔ ان کا چہرہ عریاں تھا اور وہی ہو بہو کامل تصویر جو پہلے دیکھ چکا تھا‘ البتہ اب کی بار ان کی نظریں اٹھی ہوئی تھیں جنہیں دیکھ کر عجیب سا خوف آتا تھا۔ شمس و قمر جیسی روشن آنکھیں۔ ابرو تنے ہوئے ناک ستواں۔ وہ اپنے انسانی روپ میں تھے میں کسی سحرزدہ انسان کی طرح ان کی طرف دیکھے جا رہا تھا۔ ان کے نقوش میں گزرے وقتوں کے لوگوں کے نقوش تلاش کر رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ باباجی کا یہ روپ گزرے وقتوں کے کسی قدر شجاع اور مردانہ خدوخال کے مالک انسانوں کا ہو گا۔

بابا جی نے میری محویت کو توڑ دیا۔ ان کی نظروں نے میری آنکھوں کے زاوئیے پکڑ لئے۔ سرمگیں نظروں میں دل آویز مسکان ابھری۔ بولے ”ملک کیا دیکھ رہے ہو“ میں گڑبڑا گیا۔

”تم بھی ادھر آ جاﺅ“ بابا جی نے مسکراتے ہوئے مجھے سمجھایا ”محافل کے آداب کرنا سیکھو ملک۔ ہر وقت تجسس کے ہاتھوں بے بس نہ ہو جایا کرو۔ تمہیں کھوجنے کی جستجو رہتی ہے۔ اللہ نے چاہا تو تمہیں ا س کا موقع بھی ملے گا۔“

میں شرمندہ ہو گیا اور باباجی کے قدموں کی طرف جہاں نصیر اور زلیخا بیٹھے تھے اپنی جگہ بنانے گا کہ بابا جی بولے ”تم بھی ادھر غازی کے پاس آ جاﺅ“ غازی بابا جی کے سرہانے کے پاس ایک گٹھڑی کی صورت میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس کا چہرہ سفید عمامہ کے پلو سے ڈھکا ہوا تھا۔ میں غازی کے پاس بیٹھا تو بابا جی نے ٹرے سے آم کی قاشیں اٹھائیں اور مجھے پیش کرتے ہوئے بولے ”کبھی کبھی آم کھانے کو دل مچل جاتا ہے میاں۔ آپ جیسے محبت کرنے والے انسانوں کی یہ ہم پر مہربانی ہے کہ اپنی غذا میں سے کچھ ہمیں بھی عطا کر دیتے ہیں“

”یہ سب آپ کا ہی ہے سرکار“ میں نے عقیدت سے آم کی قاشیں پکڑ لیں۔

”اور ہمارے لئے نہیں ہے کیا“ غازی بے ساختہ بولا تو میں نے قاشیں اسے پکڑا دیں۔ اس نے کھانے میں دیر نہیں لگائی۔

”بڑا ہی نادیدہ ہے‘ غازی“ بابا جی اس کی حرکت پر مسکرائے تو ان کے موتیوں جیسے دانت نمایاں ہو گئے۔

”ہاں بھئی غلام محمد ذرا دوبارہ سے ہو جائے“ بابا جی نے اپنا رخ دروازے کی سمت موڑا۔ میں نے بھی ادھر دیکھا۔ غلام محمد اور اس کے عقب میں ایک درجن بھر اس جیسے ستونوں جیسی قامت والے لوگ نظر آئے۔ سبھی عربی قباﺅں میں ملبوس تھے ، ان کے چہرے عماموں سے ڈھکے ہوئے تھے۔ غلام محمد نعت شریف پڑھنے سے پہلے بولا ”بابا جی مدینہ سے مہمان آئے ہیں اور کچھ تحائف پیش کرنا چاہتے ہیں“

”لاﺅ بسم اللہ کیا لائے ہو بھئی“ بابا جی نے کہا۔ تو غلام محمد کے عقب میں کھڑے دو قامت دراز وجود آگے بڑھے اور کچھ سامان بابا جی کے سامنے رکھ دیا۔

”ماشاءاللہ“ باباجی سامان پر نظریں ڈالنے کے بعد مجھے کہنے لگے” لو بھئی مدینہ کی سوغات آئی ہے۔ یہ ٹوپی تم پہن لو اور نصیر ایک ٹوپی تمہارے لئے ہے۔ یہ تسبیح بھی رکھ لو۔ زلیخا بیٹی یہ آب زم زم ہے۔ اپنی امانت سنبھال لو اور سب کو پلاﺅ“ میں نے ٹوپی اور تسبیح پکڑ لی۔ سنہرے رنگ کی جالی والی ٹوپی اور چھوٹے چھوٹے سفید موتیوں والی تسبیح ہاتھ میں پکڑتے ہوئے مجھ پر خوشی مرگ طاری تھی۔

بابا جی کی یہ عنایات اور روپ دیکھ کر مجھے اب شرمندگی ہو رہی تھی کہ اس قدر ایک بزرگ ہستی کی شان میں گستاخی کرتا رہا ہوں۔ میں سخت شرمندہ ہو رہا تھا۔ شاہد بیٹے .... میں نے جب ٹوپی سر پر پہنی تو روحانی خوشی کی ایک لہرے میرے قلب و نظر میں اتر گئی۔ میرا بے کل اور وسوسوں سے بھرا من پرسکون ہو گیا۔

اس اثنا میں غلام محمد نے نعت شروع کی۔ مجھے اس کے بول صحیح طرح سے یاد نہیں ہیں۔ پنجابی اردو عربی اور ایک اور زبان بھی اس ایک کلام میں شامل تھی۔ مجھے محض ان کے یہ الفاظ یاد رہ گئے ہیں جو غلام محمد کے عقب میں کھڑے جنات کورس میں گاتے تھے

میں تمہارا ہوں سائیں

سائیاں

یہ نورانی محفل ایک ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہی۔ میرا اب اٹھنے کو دل نہیں چاہ رہا تھا۔ لیکن مجھ پر نیند بھی طاری ہو رہی تھی۔ میں زیادہ دیر تک جاگ نہیں سکتا۔ بے شک کتنا ہی پریشان اور خوش کیوں نہ ہو رہا ہوں۔ نیند بہرحال مجھ پر غالب آ ہی جاتی ہے۔ گاﺅں کے موذن نے اللہ اکبر کی صدا بلند کی تو بابا جی بولے ”لو بھئی فجر کا وقت ہو گیا ہے اب ہم چلتے ہیں‘

یہ کہتے ہوئے وہ بستر سے نیچے اترے تو مدینے سے آئے جناتی لوگوں نے ان پر گلاب کے پھول برسانے شروع کر دئیے۔ ایسا پرجوش اور پرنور منظر نہیں بھول سکتا ۔

بابا جی میرے دیکھتے ہی دیکھتے اپنے ساتھیوں کے ساتھ غائب ہو گئے تو پیر ریاض شاہ جلدی سے اٹھا اور اس نے بلب روشن کر دیا۔ کمرے میں ابھی تک بابا جی کی خوشبویات بھری ہوئی تھیں۔ حلوے کا دیگچہ خالی پڑا تھا۔ رضیہ‘ زلیخا اور نصیر سحرزدہ نظروں سے ریاض شاہ کو دیکھ رہے تھے۔ اس کی آنکھوں میں اب قدرے بے چینی تھی اور وہ تھکا تھکا ہوا نظر آ رہا تھا۔ اس کے شانے نیچے کو گرے ہوئے تھے۔

”نصیر یار مجھے لتاڑ کر جانا“ جب ہم کمرے سے نکلنے لگے تو اس نے نصیر کو مخاطب کیا اور پھر زلیخا سے کہنے لگا ”زلیخا میرے لئے گرم گرم دودھ کا ایک پیالہ لے آﺅ“ ریاض شاہ شدید تھکاوٹ کا شکار نظر آ رہا تھا۔

”میں لتاڑ دوں“ میرے دل میں اب ریاض شاہ کے لئے کسی قسم کا شک نہیں رہا تھا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے بابا جی جیسے نیک اور مسلمان جنات کا ایسا روپ دیکھ لیا تھا جس کے بعد ان کی نیت پر شک کرنا سوائے ہلاکت میں ڈالنے کے کچھ نہیں تھا۔

ریاض شاہ نے خمار سے بھری نظروں سے میری طرف دیکھا اور کہا ”ملک صاحب آپ کا شکریہ۔ نصیر ہے ناں۔ آپ جائیں اور آرام کریں غالباً کل آپ کی تاریخ بھی ہے“

معاً مجھے یاد آیا کہ مجھے سیالکوٹ کچہری میں ایک دیوانی مقدمہ کے فیصلہ کی پیشی پر جانا تھا۔ میں نے ریاض شاہ کو اپنی تاریخ کے بارے نہیں بتایا تھا۔ میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا تو وہ آنکھیں بند کئے لیٹ گیا اور ہلکی سی آواز میں بولا ”جب آپ کچہری جائیں تو وہاں شیشم کے پرانے درخت کے نیچے ایک درویش بیٹھا نظر آئے گا۔ گھر سے جاتے ہوئے اس کے لئے شکر گھی اور ایک سوکھی روٹی لے جانا اور اسے دے کر دعا کرنے کے لئے کہنا۔ وہ جو کہے اس پر عمل کرنے کی کوشش کرنا“

میں پیر ریاض شاہ کو سلام کرکے اپنے کمرے میں چلا آیا۔ میرے ذہن پر اب اس کی شخصیت کا وہ تاثر حاوی ہو گیا تھا جو رضیہ اور نصیر کے ذہنوں میں تھا۔ یعنی پورے کا پورا اس کی عقیدت میں ڈوب گیا تھا۔ میں سات بجے اٹھا اور کچہری چلا گیا۔ شیشم کا درخت کچہری کی پرانی عمارت کے پاس تھا۔ میں لاری اڈے سے تانگے پر سوار ہوا اور تانگہ پرانی عمارت کے پاس جا کر ٹھہرانے لگا تو ایک نہایت کمزور سا شخص جس کے سر منہ پر نہ بال تھے نہ ہی گوشت۔ ہڈیوں کا ڈھانچہ تھا وہ۔ بدن پر صرف ایک میلی کچیلی سی لنگی پہنی تھی اس نے۔ چونکہ یہ درخت لب سڑک تھا اور اس کی بڑی بڑی شاخیں سڑک پر ایک چھت کی مانند جھکی ہوئی تھیں لہٰذا جب تانگہ ان شاخوں کے نیچے جا کھڑا ہوا تو گھوڑا یکدم بدک گیا اور الٹے پیروں ہٹنے لگا۔ کوچوان پریشان ہو گیا اور اسے پچکارنے لگا میں نیچے اترنے کی کوشش کرنے ہی لگا تھا کہ گھوڑا بے قابو ہونے کو آ گیا۔ میں تانگے پر ہی جما رہا مبادا تانگہ ہلنے سے گر نہ جاﺅں۔ جوان تو تھا نہیں کہ چھلانگ لگا کر نیچے اتر جاتا۔ اس اثنا میں درویش نے تانگے کی طرف دیکھا اور پھر زیر لب بڑبڑاتا ہوا اٹھ پڑا۔ وہ جوں جوں ہماری طرف بڑھ رہا تھا گھوڑے کی بے قراری بڑھتی جا رہی تھی اور کوئی لمحہ ایسا آنے والا تھا کہ تانگہ الٹ جاتا اور سواریاں یا تو سڑک پر گر جاتیں یا تانگے کے نیچے آ کر دب جاتیں۔

اس اثنا میں درویش گھوڑے کے پاس آ گیا اور مریل سی شکایتی آواز میں بولا ”کیا ہو گیا ہے تجھے پہلے تو کبھی ایسا نہیں ہوا تھا تجھے۔ آج ہمارا مہمان آیا ہے تو مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا“

میرے علاوہ کوچوان اور سواریوں نے بھی یہ بات بڑی واضح سنی تھی جسے گھوڑے نے بھی سن لیا تھا اور پھر اس کی بے قراری کا نشہ اتر گیا۔ اس نے بدکنا چھوڑ دیا اور ایسے کھڑا ہو گیا جیسے اسے کچھ ہوا ہی نہیں۔

کوچوان نے دیکھا تو گھوڑے کی لگام چھوڑ کر ایک دم درویش کی طرف جھکتا ہوا گیا اور اس کے پیروں میں گر گیا۔

”سرکار آپ تو بڑی ہستی ہیں ہم نے کبھی آپ کی طرف دیکھا ہی نہیں تھا سرکار“

درویش نے اس سے کچھ نہیں کہا بلکہ اسے نظرانداز ہی کر دیا تھا۔ اس نے پیروں سے اسے ٹھوکر ماری ”چل ابے ہٹ .... کیوں مجھے پلید کر رہا ہے“ پھر وہ میری جانب دیکھتے ہوئے بولا ”تو بھی اب نیچے اترے گا یا میں گود میں اٹھا کر اتاروں“

میں جھٹ سے نیچے اترا اور گھی شکر اور روٹی والی پوٹلی اس کے سامنے کر دی۔

”چل اب .... بھاگ .... تماشا نہ لگا دینا یہاں“ اس نے اپنی مریل آواز میں ڈانٹا

”سرکار .... کوئی نظر کرم عنایت کر دیں۔ میرے دن پھیر دیں“ تانگے والے کے لئے وہ بڑی طاقتور شے بن گیا تھا

”جا دفع ہو جا‘ آخ‘ تھو“ درویش نے نفرت سے منہ سکیڑا اور اس پر تھوک دیا۔

کوچوان بھی خوب ڈھیٹ تھا۔ اس کے چہرے پر تھوک گرا اس نے تھوک کو صاف کرنے کی بجائے ہاتھوں کو چہرے پر یوں پھیرا جیسے گاﺅں کی عورتیں پوچا پھیرتی ہیں

”سبحان اللہ سرکار .... آپ کا یہ تھوک میرے لئے عطر ہے عطر“ ملنگ نے اب اس کی طرف نظریں بھی نہیں اٹھائیں اور واپس شیشم کے درخت کے نیچے اپنی جگہ پر بیٹھنے لگا۔

”سرکار نے تھوک دیا سمجھو میرے بھاگ سنور ہو گئے“ شاہد میاں میں اس کوچوان پر حیران تھا جو حقارت کو بھی محبت اور پاکیزگی سے تعبیر کر رہا تھا۔ وہ تانگے پر سوار ہوا اور باقی سواریوں سے کہنے لگا ”اس ٹاہلی والی سرکار کو کسی نے کھاتے پیتے نہیں دیکھا نہ کسی کی طرف نظریں اٹھا کر دیکھتے ہیں۔ بولتے تو کچھ بھی نہیں تھے لیکن آج تو کمال ہو گیا۔ میں نے سنا تھا کہ ٹاہلی والی سرکار جس پر تھوک دے‘ جس کو گالی دے اس کے بھاگ سنور جاتے۔ واہ میرے مولا .... آج تو نے مجھ پر بڑا کرم کیا ہے“ میں نے تانگے والے کو کرایہ دینا چاہا تو وہ ہاتھ جوڑ کر بولا ”جناب چھوڑیں .... میں دو روپے لے کر کیا کروں گا۔ یہ سب آپ کو بدولت ہی ہوا۔ کیا آپ سرکار بابا کو جانتے ہیں“ میں نے نفی میں سر ہلایا ”تو پھر آپ کے ساتھ ان کی یہ شفقت“

”تو جاتا ہے یا ماروں ایک“ عقب سے ٹاہلی والی سرکار کی آواز سنائی دی ”بھونکتا چلا جارہا ہے“

یہ سنتے ہی اس نے گھوڑے کی لگام کھینچی اور چلتا بنا۔

گیارہویں قسط پڑھنے کے لئے کلک کریں

مزیدخبریں