’میری ایک چھوٹی سی غلطی سے میرا بیٹا موت کی وادی میں چلا گیا‘

’میری ایک چھوٹی سی غلطی سے میرا بیٹا موت کی وادی میں چلا گیا‘
’میری ایک چھوٹی سی غلطی سے میرا بیٹا موت کی وادی میں چلا گیا‘

  


برمنگھم (نیوز ڈیسک) والدین کے لئے اولاد کی جدائی سے بڑا صدمہ کوئی نہیں ہوسکتا۔ جس کا لخت جگر اس کی آنکھوں کے سامنے تڑپ تڑپ کر دنیا سے رخصت ہوجائے وہ کیونکر چاہے گا کہ ان کربناک لمحات کا دوبارہ تصور بھی کرے، لیکن ایک برطانوی خاتون نے اس سڑک حادثے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر جاری کر دی ہے جس میں ان کا کمسن بیٹا لقمہ اجل بن گیا۔

دی میٹرو کی رپورٹ کے مطابق سکھی اتوال نامی خاتون کا 12 سالہ بیٹا عمار ڈیڑھ سال قبل ایک کار حادثے میں ہلاک ہوگیا تھا۔ سکھی کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے نے سیٹ بیلٹ نہیں باندھ رکھی تھی۔ جب مئی 2015ءمیں ان کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا تو بچہ اچھل کر گاڑی سے باہر گرا اور ایک گاڑی تلے کچلا گیا۔ اسے برمنگھم چلڈرن ہسپتال لیجایا گیا لیکن دو دن بعد اس کی موت ہوگئی۔ کمسن عمار کو کچلنے والے 35 سالہ ڈرائیور ندیم حسین کو مجرم قرار دے کر چھ سال قید کی سزا سنائی گئی۔

’یہ میری بیٹی ہے جو آج مررہی ہے کیونکہ اس نے انٹرنیٹ پر۔۔۔‘ باپ نے اپنی بیٹی کی آخری تصویر فیس بک پر لگاکر ساتھ ہی موت کی ایسی وجہ بتادی کہ تمام نوعمروں کے والدین پریشان ہوجائیں گے، آپ بھی انٹرنیٹ پر اپنے بچوں کو اس ایک چیز سے ہمیشہ محفوظ رکھیں

سکھی نے اپنے بیٹے کے متعلق لکھا ”ہم عمار کی جدائی کو کبھی نہیں بھلا پائیں گے۔ وہ انتہائی ذہین، خوش مزاج اور قابل لڑکا تھا۔ اگر اس کی سیٹ بیلٹ بندھی ہوتی تو شاید آج وہ میرے پاس ہوتا۔ عمار ہمیں کبھی واپس نہیں مل سکتا لیکن مجھے امید ہے کہ اس ویڈیو کو دیکھ کر سب کو یہ احساس ضرور ہوگا کہ سیٹ بیلٹ ہمارے پیاروں کی جان بچا سکتی ہے۔“

سکھی ویسٹ مڈلینڈز پولیس کے ساتھ مل کر ٹریفک آگاہی کے لئے ایک مہم چلارہی ہیں جس کا مقصد لوگوں کو ٹریفک قوانین کی پابندی اور احتیاطی تدابیر کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا ہے۔ وہ باقاعدگی سے تعلیمی اداروں میں بھی جاتی ہیں جہاں بچوں کو ٹریفک قوانین کی اہمیت کے بارے میں آگاہی دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بچوں کو محفوظ رہنے کی تعلیم دے کر ان کے دکھ میں کمی ہوتی ہے اور وہ اس بات پر اطمینان محسوس کرتی ہیں کہ اپنے بیٹے کی یاد میں وہ دیگر بچوں کی بھلائی اور تحفظ کے لئے کام کررہی ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...