’’پنجابی ادب میں ترجمے کی روایت‘‘: ایک اچھی تحقیقی کاوش

’’پنجابی ادب میں ترجمے کی روایت‘‘: ایک اچھی تحقیقی کاوش
’’پنجابی ادب میں ترجمے کی روایت‘‘: ایک اچھی تحقیقی کاوش

  

جناب ڈاکٹر ظہیر احمد شفیق شعبہ پنجابی یونیورسٹی اورئینٹل کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ چند سال پہلے جب مذکورہ شعبہ میں پی ایچ ڈی کی باقاعدہ کلاس شروع ہوئی تو وہ پہلی کلاس کے طالب علم تھے، یعنی انہوں نے فنِ تحقیق کی مبادیات سمجھنے کے لیے باقاعدہ اساتذہ کے لیکچر اٹینڈ کیے، اسائنمنٹس تیار کیں اور پی ایچ ڈی مقالہ کا خاکہ(Synopsis) بنایا جس کی بورڈ آف سٹڈیز پنجابی نے منظوری دی۔ آج کل وہ اسی شعبہ میں ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی کلاسیں بھی پڑھاتے ہیں اور ریسرچ اسکالرز کی باقاعدہ رہنمائی بھی کرتے ہیں۔اس وقت ان کا ڈاکٹریٹ ورک بصورت کتاب بعنوان: ’’پنجابی ادب وچ ترجمیاں دی روایت‘‘ ہمارے سامنے ہے۔ اسے اورئینٹل لینگوایجز فیکلٹی نے نہایت خوبصورت گیٹ اَپ پر زیورِ طباعت سے آراستہ کیا ہے۔ یہ ذکر کرنا بے جا نہ ہو گا کہ جناب ڈاکٹر مجاہد کامران کی وائس چانسلر شپ کے دور میں اساتذہ کے ریسرچ ورک کی اشاعت کا اہتمام یونیورسٹی کی طرف سے تسلسل کے ساتھ ہوتا رہا۔ اس کے علاوہ علمی و ادبی مسائل پر سیمینارز اور کانفرنسیں بھی بہت منعقد ہوئیں۔ ڈاکٹر صاحب ان سرگرمیوں کی بہت زیادہ حوصلہ افزائی کرتے رہے۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ موجودہ وائس چانسلر جناب ڈاکٹر ظفر معین ناصر بھی اس روایت کو جاری رکھیں گے۔ یہی سرگرمیاں دراصل یونیورسٹیوں کا امتیازی مقام متعین کرتی ہیں۔

فاضل مصنف نے اپنی تحقیقی کاوش کو چھ ابواب میں تقسیم کیا ہے: پہلے باب میں ترجمہ نگاری اور ادب میں اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی ہے۔ دوسرے باب کا عنوان ہے: ترجمے کی قدیم روایت۔۔۔ اس میں ترجمے کی عالمی سطح پر روایت کے ارتقا کو موضوع بنایا ہے۔ اس کے علاوہ پنجابی زبان و ادب میں ترجمہ نگاری کا بھی جائزہ لیا ہے۔ ڈاکٹر ظہیر کی تحقیق موجب پنجابی میں پہلا ترجمہ عیسائی مبلغ ولیم کیری نے کیا۔اس نے نئے عہد نامہ کا 1815ء میں ترجمہ مکمل کیا تھا۔ تیسرے، چوتھے اور پانچویں باب میں ان ترجموں کو موضوع بحث بنایا گیا ہے جو فارسی، عربی، اُردو اور انگریزی سے پنجابی میں ہوئے یا پنجابی سے ان مذکورہ زبانوں میں ہوئے۔ پھر یہ بھی کہ منظوم متون کو نثر میں اور نثری متون کو منظوم پنجابی میں ڈھالا گیا۔ یہی تین ابواب اصل میں محقق کی بے پناہ محنت و ریاضت اور ادب فہمی کا نشان ہیں، کیونکہ دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ ترجمے میں اصل فن پارے کی روح کس حد تک کامیابی سے منتقل ہوئی ہے۔ خاص طور پر اصل شعر یا نثر پارے میں جو روانی اور بیان کی صفائی تھی، ترجمہ کار نے اسے کیسے نبھایا۔ اگر کسی شعر میں لہجے کا تیکھا پن تھا تو وہ ترجمے میں بھی منتقل ہوا یا نہیں۔ کلام غالب پر کئی پنجابی شاعروں نے طبع آزمائی کی ہے،لیکن اس حوالے سے سب سے زیادہ شہرت و مقبولیت اسیر عابد مرحوم کے منظوم پنجابی ترجمے کو ملی۔ ڈاکٹر ظہیر کا کہنا ہے کہ اسیر عابد نے غالب کے کلام کے متبادل پنجابی میں ترکیبیں بنائی ہیں جیسے: ’’جذب�ۂ بے اختیار شوق‘‘ کیلیے سدھرا تھری شوق شہادتاں دی، ’’داغ عیوب برہنگی‘‘ کیلیے ننگی عیباں دی کا لکھ،’’نال�ۂ دل لئی‘‘ ہُوک دلے دی‘‘۔ ڈاکٹر ظہیر نے اسیر عابد کے ترجمے کی جہاں تحسین کی ہے وہاں کچھ نقائص کا بھی ذکر کیا ہے مثلاً: اسیر عابد نے کئی جگہوں پر غالب کے قوافی کو اسی طرح پنجابی میں ترجمہ کر دیا ہے جس میں وہ رنگ جما نہیں سکے۔ (ص427:)

ایک جگہ فاضل مصنف نے بابا فرید کے دوہے کے ایک مصرعے

گناہیں بھریا میں پھراں لوک کہن درویش

کے اُردو ترجمے(شفیع عقیل)

لوک کہیں درویش مجھے مَیں جانوں اپنا آپ

پر اعتراض کیا ہے کہ یہ ترجمہ اصل متن کی تفہیم نہیں دیتا۔ شاید ان کا مطلب یہ ہے کہ ’’گناہیں بھریا‘‘ کے ترجمے میں گناہواں کا ذکر نہیں ہوا۔ حالانکہ جب مترجم کہتا ہے کہ لوگ مجھے درویش سمجھتے ہیں، مگر مَیں تو جانتا ہوں کہ مَیں کیا ہوں تو مفہوم میں کوئی رخنہ نہیں پڑتا۔ فاضل محقق نے دوسری زبانوں کے پنجابی میں یا پنجابی سے دوسری زبانوں میں کیے گئے نثری اور منظوم تراجم کا بھرپور جائزہ لیا ہے اور بحث بڑی فنکارانہ جامعیت اور ابلاغ کی خوبصورتی سے کی ہے۔ کسی شاعر یا نثر نگار کے ترجمے میں جہاں کہیں زبان یا مفہوم کی ادائیگی میں کمی بیشی دیکھی ہے اس کا سرا سر علمی انداز کے ساتھ محاکمہ کیا ہے۔ دراصل پی ایچ ڈی کی سطح پر کام کروانے کا ایک مقصد یہ ہوتا ہے کہ اب تک جو تخلیقی یا تنقیدی کام ہوا ہے اس کے محاسن اور نقائص واضح ہو جائیں اور مستقبل کے ادب شناسوں کے لیے مشعل راہ کا کام دیں۔ دوسرا مقصد اسکالر کی تربیت کرنا ہوتا ہے تاکہ وہ آگے نئی نسل کی تحقیقی کاموں میں رہنمائی کر سکے۔ ڈین کلیہ السنہ شرقیہ(Dean Faculty of oriental languaes) جناب پروفیسر ڈاکٹر فخر الحق نوری نے ڈاکٹر ظہیر احمد شفیق کے مذکورہ تحقیقی کام پر بڑی ججی تلی رائے دی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ’’ظہیر شفیق صاحب کی ایک اور خوبی بھی دل لگتی ہے، وہ یہ کہ انہوں نے زبان بڑی رواں دواں اور صاف ستھری برتی ہے۔ ان کا اسلوبِ بیان سنجیدہ علمی اور ادبی اسلوب ہے جو کہ تحقیق، تنقید کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ وہ حقائق کو آرائشی زبان کے پردوں میں مستور نہیں رہنے دیتے، اور ایسی خشک زبان بھی نہیں لکھتے جو قاری کے لئے بوجھ بن جائے۔ ان کی یہ منجھی ہوئی زبان مصنف کی ریاضت کا بھید کھول رہی ہے۔(ص3:)

تحقیق کے موضوع میں غیر معمولی وسعت ہے۔ فاضل مصنف نے اسے جس ہنر مندی کے ساتھ سمیٹا ہے، وہ یقیناًلائق تحسین ہے۔ اسی پر دریا کو کوزے میں بند کرنے والا محاورہ صادق آتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ پنجابی میں ترجمے کے حوالے سے بہت زیادہ کام ہوا ہے۔ہونا یہ چاہئے تھا کہ موضوع کا تعین کرتے ہوئے نثر یا نظم میں سے ایک فیلڈ کا انتخاب کیا جاتا۔ تاہم مقالہ نگار نے بڑی سوجھ بوجھ کے ساتھ ترجمے کی تمام ابعاد کا احاطہ کیا ہے، اس سے پنجابی تحقیق کا راستہ کشادہ ہوا ہے۔ نئے آنے والوں کو اس میں رہنمائی بھی ملے گی اور ادب فہمی کی روایت کو بھی استحکام ملے گا۔ ترقی کے نئے امکانات بھی پیدا ہوں گے۔

حکومتِ پنجاب نے اس علمی کاوش پر مصنف کے لئے ایک لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔ اب اہل پنجاب یہ گلِہ کیسے کر سکتے ہیں کہ پنجابی لاوارث زبان بن کر رہ گئی ہے!

مزید :

کالم -