روئے زمین پر ساتویں جنت غُوْطَہْ کی تباہی

روئے زمین پر ساتویں جنت غُوْطَہْ کی تباہی
روئے زمین پر ساتویں جنت غُوْطَہْ کی تباہی

  

کچھ عرصہ سے ہم اپنے اردو اور انگریزی اخبارات کو ایک مشکل میں دیکھ رہے ہیں اور وہ ہے لفظِ غُوْطَہْ کی املاء اور اس کی ادائیگی، ویسے ہمارا میڈیا بلکہ ہم سب لوگ عربی اور فارسی کے الفاظ کی ادائیگی میں بڑے دلیر اور لاپروا واقع ہوئے ہیں، لیکن اصل تماشا تو ہمارے ٹی وی چینل کے ماہرین اور ماہرات پیش کرتی ہیں، یہ لوگ کسی لفظ کی ادائیگی کے لئے کسی استاد یا ڈکشنری کا احسان اٹھانا گناہ سمجھتے ہیں اور جو منہ میں آتا ہے، جیسے آتا ہے اگل دیتے ہیں!

بہرحال اس وقت تو صرف ’’غُوْطَہْ دمشق‘‘ کی بات کرنا ہے، اس خوبصورت لفظ اور مقام کی ہم نے مٹی پلید ہوتی دیکھ لی ہے، ملک شام کے دارالحکومت دمشق کے آس پاس تقریباً بیس کلومیٹر لمبا اور کہیں دس کلومیٹر اور کہیں پندرہ کلومیٹر چوڑا ایک خوشنما اور روح افزا خطہ زمین ہے جو پھولوں اور پھلوں کے درختوں، قسم قسم کی سبزیوں اور سامان خوردونوش سے بھرا ہوا ہے، مَیں نے اپنے استاد گرامی پروفیسر عبدالعزیز میمن سے بھی سنا تھا اور خود مطالعہ سے مزید تصدیق بھی کی ہے کہ ماہرین، دنیا کے سات مقامات کو روئے زمین پر جنت سے تعبیر کرتے ہیں اور ان میں سے ایک ’’غوطہء دمشق‘‘ بھی ہے۔

اسلامی اندلس میں قرطبہ کی جنت ارضی وادی کبیر بھی سات میں سے ایک جنت قرار دی گئی ہے۔

غْوطہ گویا خوبصورت باغات سے عبارت ایک خطہ زمین ہے جو تقریباً شہر دمشق کا حصہ ہی ہے، یہ سب باغات سنی مسلمانوں کی ملکیت ہیں اور جگہ جگہ ان کے خوبصورت چھوٹے چھوٹے مکانات بھی ہیں، دریائے بردیٰ (بردا بولا جائے گا) ان باغات کو اپنے میٹھے اور صحت بخش پانی سے سیراب کرتا ہے، بردیٰ شام کا اکلوتا دریا ہے، شامی اس پر اسی طرح فخر کرتے ہیں جس طرح ہمارے مصری بھائی اپنے دریائے نیل پر اتراتے ہیں، مجھے غوطہ کے باغات کی سیر کرنے، پھل کھانے اور بردیٰ کا پانی پینے کا کئی بار اتفاق ہوا ہے، یہ غوطہ کے باغات واقعی اس دنیا میں جنت کا تاثر دیتے ہیں اور اس طرح گویا غوطہء دمشق روئے زمین پر ساتویں جنت ہے!

شام ہمارے رسول پاکؐ کا پسندیدہ ملک ہے جہاں آپؐ کئی مرتبہ تشریف بھی لے گئے تھے، مَیں اس لحاظ سے خود کو بڑا خوش نصیب انسان تصور کرتا ہوں کہ عرب اور اسلامی دنیا کے اس پرامن، پرسکون اور خوبصورت ملک کا چپہ چپہ دیکھنے کا ایک سے زیادہ مرتبہ اتفاق ہوا ہے، ہر جگہ پھلوں اور پھولوں سے بھرے ہوئے باغیچے نظر آتے ہیں، ہمارے لئے تو شام کے اکثر شہر مقدس مقامات بھی ہیں جہاں انبیائے کرام دفن ہیں، صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ کے مزارات ہیں۔

میرا شام کا ایک سفر تو دس بارہ دن کا تھا، میری نگرانی میں یونیورسٹی آف فیصل آباد کے پچاس کے قریب مرد و خواتین، طلباء اور اساتذہ تھے، یونیورسٹی کے سرپرست اعلیٰ جناب میاں محمد حنیف صاحب نے قیام و طعام کا فیاضانہ انتظام کر دیا تھا، ٹرانسپورٹ کے لئے کئی بسیں تیار رہتی تھیں، اس سفر کی خاص بات حضرت عمرؒ بن عبدالعزیز کی سادہ قبر کی زیارت تھی، وہ رعایا کی خبرگیری کے لئے سفر پر تھے، حلب سے دمشق آتے ہوئے معرۃ النعمان کے قریب وقتِ اجل آ گیا، سرکاری طبیب نے بتایا کہ سلو پائزن نے آپ کے جسم کو ناکارہ کر دیا ہے، ان کی رفیقہ حیات بھی ان کے پاؤں میں دفن ہیں۔ عمرؒ بن عبدالعزیز ہماری تاریخ کے عجائبات میں سے ہیں!

اگرچہ شام کی نوے فیصد آبادی سنی مسلمان ہیں مگر اس کے باوجود وہ بے بس اور بے سہارا ہیں، طاقت اور دولت دس فی صدی سے بھی کم دروزیوں کے ہاتھ میں ہے، انگریز اور فرنچ سامراجیوں نے سنی مسلمانوں کی اکثریت سے شام کو چھڑانے کی خوفناک چال چلی تھی جس کا نتیجہ اب سامنے آ رہا ہے۔ دروز شام کا ایک پہاڑ ہے، اس کے گھنے جنگل میں رہنے والے دروزی کہلاتے ہیں، مذہباً یہ خود کو علوی شیعہ کہتے ہیں ایک مدت تک یہ علوی دروز پہاڑ پر ہی رہے، فرانسیسی سامراجیوں کو جب شامی مسلمانوں نے شکست سے دوچار کرکے بھگا دیا تو وہ انتقاماً اپنا تمام اسلحہ دروزیوں کو دے گئے اور شامی مسلمانوں سے بدلہ لینے کے لئے دروزیوں کو فوجی تربیت بھی دی۔ جب شامی فوج تیار کرنے کا وقت آیا تو اس میں دروزیوں کو غالب دیکھ کر شام کے سنی مسلمانوں نے فوجی بننا پسند ہی نہ کیا۔

اس طرح شامی فوج میں صرف دروزی رہ گئے۔

ان دروزی فوجیوں کی کمان اسد فیملی کے قبضہ میں آ گئی، ان کا پہلا فوجی میجر حافظ الاسد تھا جس نے فوجی غلبہ کے ساتھ سیاسی اقتدار بھی چھین لیا، اس نے سنی مسلمانوں پر بڑے مظالم ڈھائے، مسجدوں پر ٹینک چڑھائے، سنی مسلمانوں کی جوان لڑکیوں کو اغوا کرکے بیرکوں میں رکھتا اور جب وہ حاملہ ہو جاتیں تو اس شرط پر والدین کے گھر چھوڑ جاتے کہ وہ اپنے پیٹ میں دروزی بچوں کو سالم اور محفوظ رکھیں گی، ورنہ پھر اغوا کر لی جائیں گی!

شام کا موجودہ ڈکٹیٹر بشار الاسد اسی حافظ الاسد کا بیٹا ہے جسے باپ نے خصوصی تربیت دی، اسے دانتوں کا ڈاکٹر بنانے کے بہانے کچھ سیکھنے اور تیاری کرنے کے لئے انگریز سامراجیوں کی نگرانی میں دے دیا جہاں اسے دانتوں کی ہی ایک یہودن ڈاکٹر کے ہاتھ میں دے دیا گیا، یہی جوڑا اب ایک دروزی دوسری یہودن، گزشتہ چالیس پچاس برسوں سے شام کو انجام بد تک پہنچانے اور مظالم کی انتہا کر دینے میں لگا ہوا ہے امریکہ کی خفیہ اور روس کی کھلی حمایت سے شام کی نصف سے زائد آبادی کو بھگا دیا گیا ہے اور چار لاکھ سے زائد بے گناہ بوڑھے اور بچے بھی قتل کر دیئے گئے ہیں اب دمشق کے باغات کا خوبصورت علاقہ غوطہ بھی ان سنگدل دروزیوں کی زد میں ہے!تمام عربی مشرق وسطیٰ خوفناک شیعہ سنی تصادم کی زد میں ہے، امریکہ کا یہودی وزیر خارجہ ہنری کسنجر لکھ چکا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کوئی جنگ مصر کے بغیر نہیں لڑی جائے گی مگر شام کے بغیر صلح اور امن کا قیام بھی ناممکن ہے۔

مصر میں تو ایک فوجی جرنیل کے ہاتھوں اخوان کی منتخب جمہوری حکومت کو کچلا جا چکا ہے اور روس و امریکہ بلکہ تمام سامراجی غوطہ کو تباہ کرا کر ایک دروزی ڈکٹیٹر بشار الاسد کے ہاتھوں شامی مسلمانوں کا خاتمہ چاہتے ہیں اور مشرق وسطیٰ کو عالمی صہیونیت کی پیداوار عظیم تر اسرائیل کے سپرد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں!

مزید :

رائے -کالم -