فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر380

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر380
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر380

  


فلم ’’چاند ‘‘کاروباری طور پر ایک کامیاب فلم تھی جس میں بیگم پارہ کے حُسن و جمال اور بے باک اداکاری کا نمایاں ہاتھ تھا لیکن اداکارہ کی حیثیت سے وہ نقّادوں کو متاثر نہ کرسکی تھیں۔ بعد کی فلموں میں انہوں نے خاصی بہتر اداکاری کا مظاہرہ کیا۔ ان میں سوہنی مہینوال‘ چھمیا اورجِھرنا قابل ذکر ہیں۔ لیکن بیگم پارہ کو معیاری اور صف اوّل کی ہیروئن کا مرتبہ کبھی حاصل نہ ہوا۔ انہیں اس کی پروا بھی نہ تھی۔ وہ بخوبی جانتی تھیں کہ محدود اداکارانہ صلاحیتوں کے ہوتے ہوئے وہ محض جسمانی کشش اور نمائش کے ذریعے ہی کامیابی حاصل کرسکتی ہیں۔ یوں بھی انہوں نے اپنی توّجہ فلموں اور اداکاری کے مقابلے میں دوسری سرگرمیوں اور دلچسپیوں پر مرکوز رکھی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کل 30 کے لگ بھگ فلموں میں کام کیا مگر کوئی نقش نہ چھوڑ سکیں۔ وہ فلمی حلقوں میں اپنی ’’فاسٹ لائف‘‘ کے حوالے سے مشہور تھیں جن کو مہمیز کرنے میں ان کی بھاوج پروتیما داس گپتا کا بھی نمایاں ہاتھ تھا۔ یہ دونوں اس قدر شیر و شکر ہو چکی تھیں کہ بھائی کی طرف سے پروتیما داس گپتا کو طلاق دینے کے بعد بھی یہ دونوں گہری سہیلیاں ایک ساتھ ہی رہا کرتی تھیں۔

بیگم پارہ ایک خوب صورت چہرے اور پُرکشش جسم کی مالک تھیں۔ اداکاری کے سلسلے میں وہ کسی پابندی کی قائل نہ تھیں۔ فلم سازوں کا ہر مطالبہ وہ بخوشی پورا کردیتی تھیں اور ایسے کردار ادا کرنے میں ذرا بھی پس و پیش نہیں کرتی تھیں جو ان کی بہت سی سنجیدہ اور متین ہم عصر اداکارائیں کسی قیمت پر بھی قبول نہیں کر سکتی تھیں۔ ان کی پہچان ایک جارحانہ مزاج کی لڑنے جھگڑے والی ہیروئن کی حیثیت سے رہی تھی۔ وہ گھریلو اور معاشرتی فلموں کے لیے موزوں نہ تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ چُلبلے اور بے باک قسم کے کرداروں کے لیے فلم سازوں نے انہیں مخصوص کردیا تھا۔ گلیمر اور نازو انداز کے سوا ان میں اداکارانہ صلاحیتیں مفقود تھیں۔ 

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر379 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ایک مشکل یہ بھی تھی کہ بیگم پارہ ایک ایسے دور میں فلمی دنیا میں آئی تھیں جب بمبئی کی فلمی صنعت پر بڑی بڑی ایکٹریسوں کا راج تھا۔ نرگس‘ ثریا‘ نور جہاں‘ مدھو بالا‘ مینار کماری ان کی ہم عصر اداکارائیں تھیں۔ بھلا ایسی ایکٹریسوں کے سامنے ان کی دال کیسے گل سکتی تھی۔ محض اپنی آزاد روی‘ سماجی سرگرمیوں اور تعلقات کی بنا پر ہی وہ فلموں میں کام حاصل کرتی رہی تھیں۔ اداکارہ کی حیثیت سے وہ کسی شمار و قطار میں نہ تھیں۔

دلیپ کمار کے بھائی ناصر خان سے شادی سے پہلے فلم بین انہیں تقریباً بھول ہی چکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس شادی کی خبر نے کسی قسم کی ہلچل پیدا نہیں کی۔ خود ناصر خان بھی اس وقت اپنے عروج کا زمانہ گزار چکے تھے اور یہ دونوں ہی قریب قریب ’’سابق‘‘ بن چکے تھے۔ بیگم پارہ اور ناصر خان کے صاحب زادے ایوب خان بھی آج کل بمبئی میں ہیرو بن چکے ہیں اور ابتدائی ناکامیوں کے بعد اب ان کا شمار ٹی وی کے ہونہار اداکاروں میں ہونے لگا ہے۔

بیگم پارہ کو اپنے جیٹھ دلیپ کمار سے یہ شکایت رہی ہے کہ انہوں نے اپنے بھتیجے ایوّب کو فلمی صنعت میں متعارف کرانے کے لیے کوئی خاص کوشش نہیں کی۔ اُدھر دلیپ کمار کا یہ کہنا ہے کہ بھئی‘ اداکار کسی کی سفارش سے نہیں بن سکتا۔ جس کسی میں صلاحیتیں ہوتی ہیں وہ کسی سفارش کے بغیر ہی ترقّی کی منزلیں طے کرسکتا ہے۔

بیگم پارہ نے 1985ء میں ناصر خان سے شادی کی تھی۔ اس وقت وہ دونوں فلم ’’لٹیرا‘‘ میں کام کررہے تھے۔ شادی کے بعد بیگم پارہ نے فلمی دنیا کو خیرباد کہہ دیا تھا۔ بمبئی میں لیبارٹری میں آتش زدگی کے باعث بے شمار پرانی فلموں کے نیگیٹوز جل کر تباہ ہوگئے تھے۔ ان میں بیگم پارہ کی بھی کئی فلمیں تھیں۔ اس کے باوجود بہت سے پرانی بھارتی فلمیں فلم میوزیم میں موجود ہیں۔بیگم پارہ کا 2008 ء میں انتقال ہوگیا تھا۔

بیگم پارہ اور نگار سلطانہ کا دور بہت پرانا ہے۔ ہم نے ابھی باقاعدگی سے فلمیں دیکھنی شروع نہیں کی تھیں جب ان دونوں نے فلمی دنیا کو اپنی حشر سامانیوں سے تہ و بالا کردیا تھا۔ وہ زمانہ ایسا تھا جب نوعمر بچّوں کو آزادی سے فلم دیکھنے کی اجازت بھی نہیں تھی۔ نہ ہی تمام فلمیں گھر کے لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے موزوں تصوّر کی جاتی تھیں۔ ایک سنسر حکومت کا تھا اور دوسرا زیادہ سخت سنسر گھر والوں کا ہوا کرتا تھا۔ گھر والے یہ فیصلہ کرتے تھے کہ لڑکے بالیوں کے لیے کون سی فلم دیکھنے دکھانے کے قابل ہے۔ لڑکیاں خاندان کی عورتوں یا کسی بڑی عمر کی رشتے دار کے بغیر سینما گھر نہیں جا سکتی تھیں اور وہاں بھی علیحدہ زنانہ کلاس میں بیٹھ کر فلمیں دیکھتی تھیں۔ ریڈیو ہر ایک گھر میں نہیں ہوتا تھا۔ جن خوش حال اور ماڈرن گھروں میں ریڈیو موجود تھا وہاں بھی خبروں اور چیدہ چیدہ ڈراموں کے سوا اس کا استعمال ممنوع تھا۔ فلمی گانوں اور فرمائشوں کے پروگرام اس زمانے میں بھی ہوا کرتے تھے مگر گھر کے نوجوانوں کو سننے کی اجازت نہ تھی۔ اور تو اور‘ فلمی رسائل بھی گھروں کے اندر ممنوع سمجھے جاتے تھے۔(جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر381 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ


loading...