”میرانام ہے جمہوریت “

”میرانام ہے جمہوریت “
”میرانام ہے جمہوریت “

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سا بقہ وزیر اعظم میاں شریف کی نا اہلی کے بعد مُلک میں عجیب قسم کا اضطراب پایا جاتا ہے۔ جمہوریت کا پرچہ تھام کر وہ عدلیہ اور نظام کے خلاف اظہار حق کا ایسا حق استعمال کررہے ہیں جو ایک ڈکٹیٹر کا وطیرہ ہوتا ہے۔نااہلی کے باوجود وہ نظام حکومت پر قابض ہیں۔ جناب شاہد خا قان عباسی کی وزارت عظمیٰ بیشک موجود ہے لیکن پھر بھی عوام میں یہ تا ثر پایا جاتا ہے کہ حکومتی پالیسیوں کے پیچھے میاں نواز شریف صاحب کی ہی سوچ کار فرما ہے۔ عباسی صاحب کے نزدیک میاں صاحب کے ساتھ عدلیہ کی جانب سے زیادتی ہوئی ہے۔ عدالت عالیہ نے جے آئی ٹی کی گمراہ کن رپوٹوں سے متاثر ہو کر اُن کو بر طرف کیا ہے۔ انہوں نے کئی بار اس حقیقت کا بر ملا اظہار کیا ہے کہ عدالت عالیہ کا فیصلہ عوام کی منشاءکے خلاف ہے۔ اور پانامہ کیس میں نواز شریف اور دوسرے شرکاءکو بے قصور تسلیم کرتے ہیں۔ وُہ ابھی تک میاں نواز شریف صاحب ہی کو اپنا وزیر اعظم سمجھتے ہیں ۔ قانونی طور پر اب نواز شریف حکومت کے سر براہ نہیں بلکہ اب حکومت کی باگ ڈور شا ہد خاقان عباسی کے ہاتھ میں ہے۔ لیکن وُہ نواز شریف سے اپنی وفاداری ثابت کرنے میں مصروف ہیں۔ جبکہ نواز شریف اپنے سیاسی بیانوں میں اپنی ہی حکومت کی دھجیاں یہ کہہ کر ادھیڑ رہے ہیں کہ انکے کے بغیر حکومت ہر شعبے میں ناکام جا رہی ہے۔ با الفاظ دیگر، اُنکی قابلیت اور صلاحیت کا بندہ مُسلم لیگ اور پاکستان میں موجود نہیں جو اُنکی ذ ہانت اور فطانت کا مقابلہ کر سکے۔ اُنکی سیاسی پختگی کا اندازہ اس بات سے لگا یا جا سکتا ہے کہ وُہ اپنی ہی جماعت کی حکومت کی جڑیں کاٹنے میں مصروف ہیں۔ اُنکو مُلک قوم یا پارٹی کے مفاد کی کوئی فکر نہیں۔ اُن کے نزدیک اُن کی اپنی ذات مُلک اور قوم سے بالاتر ہے۔ اُن جیسی سوچ کا مالک مُلک میں کہیں دوسرا موجود نہیں ہے۔ایسی ہی بد گمانیوں نے اُنہیں سر کش اور متکبر بنا دیا ہے۔

بعض حلقوں کے مُطابق، انہوں نے امریکہ میں ایک ایسی فرم خرید رکھی ہے جس کا کام نواز شریف کے لئے ا مریکہ اور دُنیا کے دوسرے مُلکوں میں لابنگ کرنا ہے۔ اِس کے علاوہ پاکستانی فوج کو بد نام کرنے کے لئے عذرِ لنگ تلاش کرنا ہے۔ کُچھ حلقے اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ پاکستان کے سابق سفیر جناب حسین حقانی بھی اس فرم سے منسلک ہیں۔ وُہ بھی فوج کی مخالفت کرنے میں ہمیشہ ہی سب سے آگے رہے ہیں۔ مُلک کی فوج کے خلاف تما م سیکرٹ خبریں مبینہ طور پروُہ سی آئی اے اور امریکی اعلیٰ حکام کو فر اہم کرتے ہیں۔ تاکہ امر یکی حکام کوپاکستان کے خلاف بھڑکایا جا سکے۔بدگمانی  اور خدشات کے ایسے ماحول میں نواز شریف اور حسین حقانی سے کسی بھی اچھائی کی توقع رکھنا بالکُل عبث ہے۔

سینٹ کے انتخابات میں نواز شریف نے پیپلز پارٹی کی حمایت حاصل کرنے کے لئے ہر گُرآزمایا ہے لیکن زر داری ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ اُ ن کے نزدیک نواز شریف مُلک میں کرپش پھیلانے میں سب سے زیادہ سر گرم ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پیپلز پارٹی اور مُسلم لیگ ن والے منی لانڈرنگ اور بد عنوانیوں کے لئے خاصے بد نام ہیں۔ کر پشن کے نئے طریقے ایجاد کرنا اور مُلک میں چور بازاری کرنے کے لئے راہ ہموار کرنا نواز شریف اور انکے دوستوں کا محبوب مشغلہ ہے۔ یہ لوگ اپنے مفاد کی خاطر مُلک کے مُفاد کو بھی داﺅ پر لگانے میں عار محسوس نہیں کرتے ، انہوں نے چھانگا مانگا جیسا کرپشن کا فار مولا ایجاد کیا۔ منی لانڈرنگ کے لئے مختلف بینکوں کو استعمال کیا۔ دوسرے مُلکوں میں اپنے دوستوں کے توسط سے کئی بے نام کھاتے کھولے تا کہ کالے دھن کو سفید میں بدلا جاسکے۔ ماضی میں مُسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی میثاقِ جمہوریت قایم کرنے میں ایک دوسرے کی پارٹنر رہ چُکی ہیں۔ ایک دوسرے کے ارادوں سے اچھی طرح واقف ہیں۔ ایک دوسرے کی نیتوں کو اچھا طرح جانتے ہیں۔ آنے والوں الیکشن میں ایک دوسرے سے اتحاد کرنے سے گریزاں ہیں۔ ایک دوسرے پر دھوکہ دینے کے الزامات لگا رہے ہیں۔ حقیقت میں دونوں سیاسی لیڈر آصف زرداری اور نواز شریف صف اول کے کرپٹ ہیں۔ انہوں نے ہر طرح سے مُلک کو لوٹا ہے۔ دونوں لیڈروں کو پیسوں کی کوئی کمی نہیں۔ لیکن یہ لوگ اپنے آپ کو وزارت عظمیٰ کے لئے خُود کو واجب حقدار سمجھتے ہیں۔ انتخابات میں ہارسٹ ٹریڈنگ کرنا انکا محبوب مشغلہ ہے۔ زرداری اور نواز شریف انتخابات میں زر اور زُور کا استعمال کرنا بخوبی جانتے ہیں۔ تاہم زرداری ایک شاطر سیاست دان توہیں لیکن ضدی نہیں۔ انہوں نے پانچ سال تک اپنی پارٹی کی حکومت کو قایم رکھا۔ مشُکل ترین دور میں بھی اپنی صدارت پر قایم رہے۔ اوسامہ کے پکڑے جانے کے بعد امکان اغلب تھا کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات بگڑ جائیں۔ لیکن آصف زرداری نے مُشکل حالات میں بھی اپنی پارٹی کی حکومت کو کامیابی سے چلایا۔ لیکن نواز شیرف کو تین دفعہ وزارتِ عظمیٰ مِلی لیکن تینوں با ر ہی اُنکو اپنی وزارت عظمیٰ معینہ مُدت سے پہلے ہی ختم کرنا پڑی۔ میاں نواز شریف اپنے پاﺅں پر کلہاڑی مارنے کے بارے میں مشہور ہیں۔ وُہ فوج کی پیداوار ہیں اور اقتدار میں آ کر اُسی سے لڑائی مول لیتے ہیں۔ کیونکہ وُہ ہر ایک ادارے کو یرغمال بنا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ اُنکے اختیارات کو سلب کرنا چاہتے ہیں۔ اُنکی نا اہلی کی وجہ سے اداروں کو ایک دوسرے سے لڑانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

عدلیہ حسب دستور قانون کے مُطابق معاملات کو نمٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔ عدلیہ کو نیچا دکھانے کے لئے انصاف کو بحال کرنے کی تحریک چلائی جا رہی ہے۔ ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت عدلیہ پر دباﺅ ڈالا جا رہاہے ۔ کیونکہ موجودہ حکومت کی تمام ا تحادی پارٹیاں عدلیہ سے خائف ہیں۔ خاص کر چیف جسٹس نثار ثاقب کے احکامات سے سہمے ہوئے ہیں۔ لیکن عد التیں اپنے فیصلے بلا خوف وخطر سُنا رہی ہیں۔ دوسری جانب نواز شریف عدلیہ کے رول کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ وُہ ایسی جموریت چاہتے ہیں جہاں اُن کے اختیارات کو چیلنج کرنے والا کوئی نہ ہو۔گویا انکی ذات کانام ہی جمہوریت ہے۔ اس لئے وُہ عوام کی طاقت کو غلط انداز میں استعمال کرکے اپنا اُلو سیدھا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک غلط اور قابل مذمت رویہ ہے جسکی ہر صورت میں مذمت ہو نی چاہیے۔

۔۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ