وہ تاریخ ساز صحافی جس نے لاء کالج لاہورکے ہاسٹل میں چھپ کر ایسے کام کئے کہ جس پر کئی نسلیں فخر کریں گی 

وہ تاریخ ساز صحافی جس نے لاء کالج لاہورکے ہاسٹل میں چھپ کر ایسے کام کئے کہ جس ...
وہ تاریخ ساز صحافی جس نے لاء کالج لاہورکے ہاسٹل میں چھپ کر ایسے کام کئے کہ جس پر کئی نسلیں فخر کریں گی 

  

لاہور (ایس چودھری )پنجاب یونیورسٹی لاء کالج لاہور کے ہاسٹل میں بھی پاکستان کی تاریخ دفن ہے۔اسکی پناہ میں آنے والوں نے پاکستان کا مقدمہ لڑااور کئی ایسے مجاہد تھے جنہیں لاء کالج میں چھپ کر پاکستان کے لئے تگ و دو کرنا پڑی۔آغا شورش کاشمیری نے لاء کالج کے ہاسٹل میں کئی بار چھپ کر انگریز و ہندو سامراج کوتگنی کا ناچ نچوایا ۔مولانا ظفر علی خان کے اخبار زمیندار میں آپ کی تحاریر شائع ہوتیں تو آپ کی گرفتاری کے احکامات صادر کردئے جاتے ۔مخبر رات دن آپ کا تعاقب کرتے مگر آپ انہیں چکمہ دیکر لاء کالج کے ہاسٹل میں پہنچ جاتے۔

آغا شورش کاشمیری کی تقاریر سے ہندوستان کے مسلمانوں میں غیر معمولی جوش پیدا ہواتھا ،مولانا ظفر علی خان کی تربیت نے آپ پر گہرا اثر چھوڑا تھا ۔ان پر پولیس دائرہ حیات تنگ کرتی اور کہیں چھپ کر اپنا مشن جاری رکھنی کی جگہ نہ ملتی تو وہ لاء کالج کے ہاسٹل میں اپنے مداحوں کے پاس چلے جاتے اور وہاں چھپ کر اپنا قلمی کام جارے کئے رکھتے۔ محقق سلمان کھوکھر نے آغا شورش کاشمیری کے حوالے سے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ قیام پاکستان کے بعد بھی لاء کالج ہاسٹل سے آنے والے مداحین کیلئے آغا صاحب محبت کا ایک خاص گوشہ رکھتے تھے۔ بقول ان کے پیسہ اخبار کے علاقے کے مخبروں سے تنگ آکروہ اکثر کلبیر سنگھ کے ساتھ ہاسٹل میں کسی دوست کے پاس آجاتے اور پہروں وہیں قیام کرتے۔ کلبیر سنگھ تحریک آزادی کا متوالا اور جگر دار آدمی تھا۔ اس کا نہ صرف سیاسی بلکہ بھگت سنگھ کے ساتھ خونی قرابت داری کا تعلق بھی تھا۔آغا صاحب نے منٹگمری (ساہیوال) سنٹرل جیل کی چودہ چکیوں کے قصائی خانے میں جو پانچ سال گزارے اس جہنم میں کلبیر سنگھ اور مولانا گل مشیران کے ساتھی تھے جن کا ذکر کرکے ان کی آنکھیں آبدیدہ ہوجاتیں ۔وہ کہا کرتے کہ لاء کالج ہاسٹل نے انہیں کئی بار گرفتار ہونے سے بچایا۔اگر یہ عافیت کدہ نہ بنتا تو وہ تحریک کا کام جاری نہ رکھ پاتے۔اس میں کوئی شک نہیں۔آغا صاحب نے جس جرات مندی سے صحافت اور سیاست کے میدان میں مسلمانان ہند اور نوجوانوں میں سرگرمی پیدا کی تھی،آج پاکستان کی نسل ان کی مرہون منت ہے کہ آغا صاحب جیسے محسنان ملت نے اپنا سب کچھ تیاگ کر انہیں محفوظ وطن دیا ہے۔

مزید : ادب وثقافت