اقلیتوں کا تحفظ ، حکومتی نصب العین

اقلیتوں کا تحفظ ، حکومتی نصب العین
اقلیتوں کا تحفظ ، حکومتی نصب العین

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

انڈین پائلٹ ’’ ابھی نندن ‘‘کو انسانی ہمدردی کے تحت رہا کرکے وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے ساری دنیا کو ایک انتہائی اعلیٰ اقدار پر مبنی پیغام دیا ، اس عمل کو تمام اقوام نے سراہا ، مسلمان ہی نہیں بلکہ ہر مذہب کے پیرو کار نے اس عمل کو قابل ستائش قرار دیتے ہوئے عمران خان کو خراج تحسین پیش کیا اتنا خراج تحسین کہ بات نوبل پرائز تک جا پہنچی ، اس عمل سے پاکستان اور انڈیا پر منڈلانے والے جنگ کے بادل بھی چھٹ گئے ، کئی دن رہنے والا تناؤ کا ماحول کم ہوا ، پرندوں ، باد صبا اور ہواوں نے بھی سکھ کا سانس لیا ، انڈین فوجی ’’ ابھی نندن ‘‘ کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ وہ ایک ہندو ہے ، کچھ ہندو گائے کو ماں کا درجہ دیتے ہیں ، کچھ گائے کو متبرک سمجھتے ہیں اور اُس کے پیشاب کو پانی پر ترجیح دیتے ہوئے استعمال کرتے ہیں ، اس کے باوجود کہ ہندو بال ٹھاکرے اور وزیر اعظم مودی انڈیا میں مسلمانوں کو سر عام قتل کروانے کا حکم صادر کر دیتے ہیں ، پھر بھی ابھی نندن کو چھوڑ دیا گیا ،انڈین جاسوس کلبھوشن یادیو ابھی تک پاکستان میں ہے

اور جرم ثابت ہونے پر بھی پھانسی کی سزا سے بچا ہوا ہے کیوں ؟ ابھی نندن کے بدلے انڈیا نے ایک پاکستانی قیدی کی لاش اُسی راستے سے پاکستان بھیجی جس راستے سے ابھی نندن کو زندہ اور صحیح سلامت انڈیا کے حوالے کیا گیا تھا ، لیکن پھر بھی انسانیت کی اقدار جیت گئیں اور عمران خان حکومت کا شاندار فیصلہ ایک تاریخ رقم کر گیا ۔ موجودہ حکومت کے صوبائی وزیر اطلاعات و نشریات فیاض الحسن چوہان نے ہنددوں کے خلاف کچھ کہا تو انہیں اپنی وزارت سے ہاتھ دھونے پڑے ،

اب ایسے عوامل کو ہندووں کا ڈر کہیں یا انسانی ہمدردی سمجھ میں نہیں آرہا ۔پاکستان کے جھنڈے میں سفید رنگ وطن عزیز میں اقلیتوں کی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے ، قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے اپنے فرمودات میں اقلیتوں کے حقوق کا بیسیوں بار ذکر کیا ہے ، ایک طرف ہم ہندووں کی مدد کی مد میں ان سے رعایت کرتے ہیں اور دوسرے طرف پاکستان میں اقلیتوں سے ہونے والی زیادتی کے خلاف کوئی آواز بلند نہیں کرتے ، داود کالونی فیصل آباد میں گذشتہ رات ’’ واسا ‘‘ نے ایک اقلیتی سکول کی دیوار یہ کہہ کر گرا دی ہے کہ یہاں ’’ گندے کنویں ‘‘ یعنی ڈسپوزل پمپس ‘‘ بنیں گے ، سکول کی انتظامیہ ہانگ کانگ ، چائنا اور امریکہ کی مشنری ہے ، سکول میں 1400بچے اور بچیاں مفت تعلیم حاصل کر رہی ہیں ، گندے کنویں لگانے کے بعد اُس بد بودار ماحول میں بچے تعلیم کیسے حاصل کر سکیں گے

، واسا اور دوسرے سرکاری اداروں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں ، سکول انتظامیہ نے اپنی طرف سے گندے پمپس لگانے کے لئے متبادل زمین بھی مہیا کر دی تھی جہاں گندے کنویں بناتے وقت وہاں کے مکینوں نے واسا کو ایسا کرنے سے منع کر دیا تھا ، اب اس میں سکول کے بچوں اور بچیوں کا کیا قصور ؟ کیا اُن کا قصور یہ ہے کہ وہ مفت تعلیم حاصل کر رہے ہیں ؟ کیا اُن کا قصور یہ ہے کہ وہ خاکروبوں کے بچے ہیں ؟ کیا اُن کا قصور یہ ہے کہ وہ اقلیت ہیں ؟ حکومت پاکستان کو ابھی نندن جیسی انسانی ہمدردی جیسا مظاہرہ کرتے ہوئے واسا اور دوسرے سرکاری اداروں کو منع کرنا چاہئیے کہ وہ طالب علم بچوں اور بچیوں کو بدبودار ماحول مہیا نہ کریں ، اس سکول میں پڑھنے والے بچے اُن والدین کے ہیں جو تمام مذاہب کے افراد کو بدبو سے محفوظ رکھتے ، علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین جانا پڑے اور اس مذکورہ سکول میں تعلیم دینے کا اہتمام کرنے والے اُسی چائنا سے پاکستان آئے ہیں ۔

این سی سی ایس ’’ نیو کوئینٹ سکول سسٹم‘‘نامی اس تعلیمی ادارے کی دیواریں گذشتہ رات گرا دی گئیں ، افسوس صد افسوس ، سوال یہ ہے کہ جب سکول انتظامیہ نے ایک گندے ’’ جوہڑ ‘‘ کو اپنے خرچ سے گراونڈ کی شکل دی تو تمام محکمے موقع پر موجود تھے اور داد دے رہے تھے ، اب بچوں کے اُسی گراونڈ کو ختم کرکے وہاں گندے کنویں لگائے جا رہے ہیں ۔چیف جسٹس سپریم کورٹ ، آرمی چیف پاک افواج ، وزیر اعظم پاکستان ، وزیر اعلیٰ پنجاب اور گورنر پنجاب کو اس زیادتی پر سخت نوٹس لینا چاہیئے اور تعلیمی ادارے کے تقدس کو دیکھتے ہوئے وہاں اقلیتی بچوں کو تعلیم یافتہ بنانے میں اقلیتوں اور سکول انتظامیہ کا ساتھ دینا چاہیئے ، یورپی ممالک میں مقیم کرسچن کمیونٹی یورپی پارلیمنٹ اور یو این او دفاتر کے سامنے سخت احتجاج کرنے کا حق رکھتی ہے

، اگر ایسا احتجاج ہوا تو حکومت پاکستان کی بد نامی ہو گی ، مذکورہ سکول کا بانی دو سال سے پاکستانی سرکاری اداروں کی دھمکیوں کی وجہ سے اپنے بچوں کے ساتھ سپین میں اسائلم سیکر بنا زندگی گزارنے پر مجبور ہے ، وہ بانی بشپ افتخار آج بھی پاکستان آکر سیکڑوں پرائمری سکولز بنانا چاہتا ہے کیونکہ اُسے دنیا بھر کے امدادی ادارے ایسا کرنے کے لئے کہہ رہے ہیں ، اس کے بر عکس موجودہ حکومتی اداروں کی عدم توجہ بشپ افتخار اور اُن سے جیسے بہت پاکستان کے بارے میں درد دل رکھنے والے افراد کو وطن عزیز سے دور بھگا رہی ہے ، وزیر اعظم پاکستان کو چاہیئے کہ خدارا اقلیتوں کے تحفظ کو مد نظر رکھتے ہوئے این سی سی ایس ’’ نیو کوئنٹ سکول سسٹم ‘‘ پر ہونے والی اس ظلم کی داستان کو لکھا جانے روکنے کا حکم جاری فرمائیں کیونکہ آج بھی سکول انتظامیہ چاہتی ہے کہ گندے کنویں لگانے کے لئے ’’ واسا ‘‘ ہم سے متبادل زمین لے یا سکول گراونڈ میں گندے کنویں نہ لگائے بلکہ وہاں اقلیتی بچوں کو آزاد اسلامی جمہوریہ پاکستان کی فضاؤں میں آزادی سے کھیلنے کا اجازت نامہ حاصل رہے ۔

مزید :

رائے -کالم -