کرونا، ہم اور تقریبات؟

کرونا، ہم اور تقریبات؟
کرونا، ہم اور تقریبات؟

  

محکمہ موسمیات کی اطلاع کے مطابق بارشوں، ژالہ باری اور ہلکی برف باری کا موجودہ سلسلہ آج (اتوار) تک ہے اور سوموار سے موسم صاف،شفاف ہو جائے گا، جس کے بعد میدانی علاقوں میں درجہ حرارت بتدریج بڑھنا شروع ہو گا اور جلد ہی 30سے 35درجہ سنٹی گریڈ کو چھو لے گا، یونیسیف کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس 26سے 27سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں مر جاتا ہے اور مسلسل دھوپ سے ایسے درجہ حرارت والے علاقوں میں صورت حال بہتر ہو جائے گی جبکہ سرد علاقوں میں اس وباء پر قابو پانے کے لئے جنگی بنیادوں پر کوشش جاری رکھنا ہو گی۔ پاکستان میں بھی پہاڑی سلسلے بہت احتیاط کا تقاضا کرتے ہیں، جبکہ یورپ میں زیادہ پھیلاؤ کا باعث موسم بھی ہے، یہ سب اپنی جگہ، جیسا ہم نے گزشتہ روز عرض کیا، اس کے عین مطابق چین اور امریکہ کے درمیان لفظی جنگ بھی شروع ہو گئی، اب تو چین کے دفتر خارجہ نے شبہ ظاہر کیا کہ یہ امریکہ کی پیداوار ہے جبکہ امریکہ نے اس الزام کی تردید کی اور جوابی طور پر کہا کہ ایسے ”لغو“ الزام برداشت نہیں کئے جائیں گے، الفاظ کی یہ لڑائی بہرحال ان سائنسی تجربات ہی کی وجہ سے ہے، جو انہی ترقی یافتہ ممالک کی سائنس لیبارٹریوں میں کیمیائی جنگ کے لئے جرثومے تیار کرنے کے لئے کئے گئے اور ماضی میں ایڈز جیسے موذی مرض کے پھیلاؤ کا الزام بھی ایسے ہی تجربے پر لگایا گیا تھا، بہرحال یہ الگ بحث ہے، مسئلہ زیر بحث تو کرونا وائرس ہے، ان شاء اللہ یہ جلد ہی پاکستان کے بیشتر علاقوں سے دفع ہو گا اور درجہ حرارت زیادہ والے حصے محفوظ ہو جائیں گے۔

پوری دنیا نے بچاؤ کے لئے حفاظتی انتظامات کئے تو پاکستان نے بھی بتدریج مریضوں کی بڑھتی تعداد اور سرحدی آمد و رفت کے خدشات کی وجہ سے ملک بھر میں طبی ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ تعلیمی ادارے اور اجتماعات پر پابندی لگا دی گئی۔ حتیٰ کہ شادی ہال اور سنیما بھی بند کر دیئے گئے ہم ان سب احتیاطی تدابیر کی تائید کرتے ہیں، تاہم ضروری گزارش یہ ہے کہ ساری توجہ کرونا پر ہی مرکوز نہ رکھی جائے، ہمارے ملک کا بہت بڑا مسئلہ ایک دوسرا وائرس بھی ہے، جسے ڈینگی کہاجاتا ہے،حالیہ بارشوں سے نشیبی مقامات پر پانی جمع ہو چکا، صفائی کی حالت ابتر ہے۔ بہتر تو یہ تھا کہ کرونا کے ہنگامے میں ”ڈینگی“ کو نظر انداز نہ کیا جاتا۔ اگر کرونا ہی کے خطرے کی روشنی میں ڈینگی والے پھیلاؤ کو پیش نظر رکھ لیا جائے تو بہت بہتر ہوگا کہ مناسب سپرے صفائی اور ڈینگی کے ساتھ ساتھ کرونا والے حفاظتی انتظامات بھی کر لئے جائیں۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ ڈینگی سکواڈ بھی متحرک کئے جائیں اور سپرے بھی شروع کیا جائے۔

حکومت کی طرف سے قومی سلامتی کے لئے جو انتظامات کئے گئے، ان میں شادیوں کا التوا بھی شامل ہے، شادی گھروں کو بند کرنے کا حکم جاری ہوا، اجتماعات پر بھی پابندی لگائی گئی، تاہم یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ شادی کے جو اجتماعات نجی طور پر رہائشی کالونیوں میں ہونا ہیں، وہ بھی منسوخ کئے گئے ہیں یا نہیں، اگرچہ تکنیکی طور پر تو جو ہدایات جاری ہوئیں اور جن اجتماعات کا ذکر ہوا، ان کا اطلاق یہاں بھی ہوتا ہے کہ یہ بھی اجتماعات ہی ہیں۔ شادیوں اور تفریح گاہوں کے اجتماعات پر پابندی سے شہریوں کو مایوسی ہوئی۔ اب یہ حضرات بڑی دعوتوں کو نجی دعوتوں میں منتقل کرنے پر مجبور ہوں گے، تاہم ایک نیا تنازعہ شروع ہوگا جو شادی ہالوں کی انتظامیہ اور شادی والے گھرانوں کے درمیان رقوم کی واپسی پر ہو گا کہ یہ شادیوں کا موسم بھی ہے اور لوگ کئی کئی ماہ پہلے تاریخیں متعین کرکے بکنگ حاصل کرتے ہیں اور شادی گھروں کو پیشگی ادائیگی بھی کی جاتی ہے، اب تقریبات منسوخ ہوئیں تو شادیوں والے منتظمین رقوم کی واپسی کا مطالبہ کریں گے اور شادی ہال والے حضرات لیت و لعل سے کام لیں گے کہ یہ بھی ہمارا کلچر اور شیوہ ہے، لہٰذا منتظر رہیے کہ کئی امور میں پولیس اور پھر عدالتوں کو مصروف رہنا ہوگا۔ بہرحال ہمیں تو اپنے دیرینہ دوست خالد چودھری سے معذرت ہی کرنا ہو گی کہ 23مارچ کو ان کے بھتیجے کی تقریب ولیمہ میں شرکت مقصود تھی۔ ہمارے خیال کے مطابق یہ نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں ہونے کے باوجود پابندی کی زد میں ہوگی۔ بہرحال خالد چودھری تو شاید ایسا نہ ہونے دے، دیکھئے کیا ہوتا ہے۔

حفاظتی انتظامات کے حوالے سے جو ہوا اور ہو گا اس نے عام شہریوں کو مجبور کر دیا کہ وہ زیادہ وقت گھروں پر گزاریں، ہمارے گھر میں بچوں کا اجتماع ہے میری بڑی صاحبزادی اور بچے سالانہ امتحان کی مشق پوری کرکے رہنے کے لئے آئے قیام مختصر ہونا تھا، اب طویل ہو گا، تاہم ان کی بیرونی تفریحات تو محدود کرنا ہوں گی اور ہم بھی دفتر سے گھر تک محدود، پڑھتے اور ٹی وی دیکھتے رہیں گے، اور دعاگو ہیں۔

کرونا نے ایسی صورت حال پیدا کر دی کہ دوسرے مسائل پر لکھنا ہی بھول سے گئے ہیں کہ آج دوستوں کی ایک نوک جھونک اور شجر کاری پر بھی بات کرنا تھی، جسے اب مختصر کرتے ہیں۔ پی ایچ اے نے موسم بہار کی شجر کاری کے لئے لاکھوں پودے لگانے کا اعلان کیا اور ہم اپنی رہائش سے دفتر آتے ہوئے اس کا نظارہ بھی کر رہے ہیں کہ باغبان حضرات نے پارکوں، گرین بیلٹوں اور نہر کنارے گڑھے (ٹوئے) کھودنا شروع کر رکھے ہیں، دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ گڑھے تھوڑے تھوڑے (دو سے تین فٹ) فاصلے پر ہیں مقصد زیادہ سے زیادہ پودے کھپانا نظر آتا ہے، کیونکہ وحدت روڈ کے علاقے اور اردگرد کی گرین بیلٹوں میں تو یہ کام سال میں دو بار ہوتا اور یہ پودے بھینسیں، گائے اور بکریاں کھا جاتی ہیں جو مصطفے ٹاؤن، اقبال ٹاؤن اور وحدت روڈ پر کھلے پھرتی اور ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں، یوں بھی وحدت روڈ کمرشل ہونے سے گرین بیلٹ پارکنگ بن چکی اور یہاں سے سبزہ ختم ہو چکا، ہم اب افتتاحی تقریب کے منتظر ہیں۔

چلتے چلتے اپنے اخبار کی ایک خبر سے متاثر ہو کر محترم اورنگ زیب برکی اور برادرم چودھری اسلم گل سے گزارش کرتے ہیں کہ تعلقات زیادہ اچھے ہوتے ہیں۔ پارٹی امور پر بات حتیٰ کہ بحث بھی ضرور کریں تو تکا رنہ کریں، ہم دونوں کو محترم جانتے اور ان کی وفاداری بھی مشکوک نہیں، پھر آپس میں تنازعہ نہیں دوستانہ مذاکرات بہتر ہوتے ہیں، یوں بھی سیاست کرونا زدہ ہو رہی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -