حبیب جالب کی برسی، ایک ذاتی حوالہ

حبیب جالب کی برسی، ایک ذاتی حوالہ
حبیب جالب کی برسی، ایک ذاتی حوالہ

  



عزیز و اقارب کو ائر پورٹ لانے لے جانے کے منظر میں مجھے اُن خوش باش مسافروں پر رشک آتا ہے جو ٹرالی اور پورٹر سے بے نیاز دو دو پہیہ دار سُوٹ کیس ایک ہی وقت میں کھینچ رہے ہوتے ہیں۔ رشک کی وجہ کبھی تو حرکت کی روانی ہوتی ہے اور کبھی بیگیج کی فراوانی۔ پھر یہ حیرت بھی کہ وطن پہنچتے ہوئے اِن بکسوں میں جو ”سامان سو برس کا“ تھا، واپسی کے سفر میں اِس سے کہیں زیادہ تعداد میں کپڑے، جوتے اور دیگر ملبوسات ائر لائن کو فالتو کرایہ مانگنے کی دعوت دے رہے ہوں گے۔ منفرد کرکٹ کمنٹیٹر اور صحافی عمر قریشی مرحوم نے، جو ’باکمال لوگ، لاجواب پرواز‘ کے دَور میں پی آئی اے کے ڈائرکٹر تعلقات عامہ رہے، ایک بار سامان کا ڈیوڑھا کرایہ بھرنے کی آزمائش سے گزرتے ہی یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ مادی اشیا ہوں یا ذہنی دباؤ، آج سے ہر قسم کا اضافی بوجھ میرے لئے حرام ہے۔

ایسے آزاد منش انسانوں کو اثاثے بنانے کی مہلت کم ملتی ہے، اور ملے بھی تو اپنی جماندرُو کاہلی کے باعث اس پہ توجہ نہیں دے پاتے۔ پھر بھی آپ کسی پاکستانی گھر کی اچانک تلاشی لیں تو الماریوں میں متروکہ ٹیبل فین، کمپیوٹر اور بجلی کے کچھ ناقابل فہم آلات کے علاوہ کونوں کھدروں میں پرانے کپڑے، بوسیدہ جوتے اور ایسا گھسا پٹا سامان آرائش ضرور ملے گا، جس کو سنبھال کر رکھنے کی افادیت سمجھ میں نہیں آتی۔ اِس کے برعکس میری یادوں کا خزینہ جن نوادرات سے بھرا ہوا ہے، اُن میں سے اکثر تصویریں، اخباری تراشے اور تعریفی اسناد سنبھال کر نہیں رکھیں۔ ہاں، میری خوش قسمتی کہ حبیب جالب کی پچھلی برسی پر بی بی سی کے سینئر ساتھی راشد اشرف نے سوشل میڈیا پر میرے اُس چھوٹے سے فیچر کا لِنک مہیا کر دیا جو 13مارچ 1993ء کو جالب کے انتقال کی خبر کے طور پر لندن سے نشر کیا تھا۔

آغاز ہوتا ہے جالب کی صوتی جھلک سے: ’ہم نے جو بھول کے بھی شہ کا قصیدہ نہ لکھا‘۔ اِس شعر کے پس منظر میں میری صدا ابھر رہی ہے: ”یہ تھا اناالحق کا وہ نعرہ جو 1960 ء کے عشرے میں احتجاج کی مؤثر اور گمبھیر آواز بن کر گونجا اور دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں دلوں کی دھڑکن بن گیا۔ ایک انقلابی شاعر نے مایوسی کے عالم میں کہا تھا کہ ’لفظ بندوق نہیں ہوتے‘ ……لیکن یہ ماننا ہی پڑے گا کہ اگر کسی ہم عصر شاعر کے کلام میں جبر و استبداد کے ایوانوں کو لرزہ بر اندام کر دینے کی طاقت تھی تو وہ صرف حبیب جالب ہے۔ اب سے پینسٹھ برس پہلے مشرقی پنجاب کے ایک پسماندہ علاقے میں صوفی عنایت اللہ کے ہاں پیدا ہونے والا حبیب احمد ’عہد ِ ستم‘ کے ’مہ و سال‘ میں ’برگ ِ آوارہ‘ کا پیچھا کرتے ہوئے ’سرِ مقتل‘ کیسے پہنچ گیا؟“۔۔۔ اِس کے بعد سوال کا مختصر سا جواب ہے۔

یہ جواب حبیب جالب کے ساتھی اور معروف دانشور پروفیسر امین مغل نے دیا جو میری ’نیچرل چوائس‘ تھے اور آج بھی ہیں۔ ایک فوری وجہ تو اُن کی دستیابی تھی کہ جنرل ضیا الحق کے زریں عہد میں شاہی قلعہ میں تواضع کے بعد برطانیہ جو گئے ہیں تو آج سینتیس سال ہو جانے پہ بھی وطن لوٹنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت قائم ہونے سے ذرا پہلے منفرد کالم نویس منو بھائی نے اپنی لندن یاترا کے دوران اپنے اعزاز میں ہونے والی تقریب کے صدر امین صاحب کو ایک سفید ریش میں ملفوف پا کر کہا تھا کہ ”اگر آپ چاہیں تو اب ڈی ایچ لارنس کے روپ میں بھی پاکستان جا سکتے ہیں جہاں اشفاق احمد ارنسٹ ہیمنگوے بنے ہوئے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ امین مغل نے ایک سفید داڑھی کے پیچھے روپوشی اختیار کی ہے ا ور اشفاق احمد نے دینِ ظل ِ الہی کے تقاضوں کے ماتحت ’رونمائی‘ کی ہے“۔ منو بھائی کی گفتگو میں اسی نوعیت کے دو ایک اشارے اور بھی تھے، جنہیں دہرانے کا یہ موقع نہیں۔

بہرحال، حبیب جالب کے بارے میں پروفیسر امین مغل سے کچھ کہنے کی فرمائش صرف بُش ہاؤس لندن سے قرب مکانی کے سبب نہیں، بلکہ ہمارے انقلابی شاعر کے ساتھ اُن کی دیرینہ قربت کی بدولت تھی۔ جالب کا تعزیت نامہ لکھتے ہوئے کانوں میں منو بھائی کی ’چادر جنرل رانی دی تے چار دیواری جالب دی‘ گونجنے لگی۔ ساتھ ہی میری آنکھوں میں اسلامیہ کالج، سول لائیز میں امین صاحب کی تاریخی ’پھڈے بازی‘، صاحبِ طرز ایڈیٹر مظہر علی خان کے ’ویو پوائنٹ‘ والے دفتر میں ’گھس بیٹھیا‘ طرز کی ملاقاتیں اور سیالکوٹ میں میری طالب علمی کے دوران نیشنل عوامی پارٹی کے دفتر کی افتتاحی تقریب کے مناظر بھی گھومنے لگے۔ یہیں پہلی بار پارٹی کے صوبائی جنرل سکرٹری امین مغل اور مقبول ترین عوامی شاعر حبیب جالب کو ایک ساتھ دیکھا اور سنا تھا۔ دونوں سماج، سیاست اور معاشی نظام کے باغی، مگر ایک سرتاپا نثر، دوسرا مجسم نغمہ۔

صحافت ادب ہی کی ایک قسم ہے جس کی تخلیق جلد بازی میں ہوتی ہے۔ رہا ریڈیو جرنلزم تو اِس میں درست حقائق ہی نہیں، ایسا لب و لہجہ بھی چاہیے کہ دو ٹوک سچائی کو سننا اور سنتے ہی سمجھ جانا عام آدمی کے لئے مسئلہ نہ بنے۔ سو، کبھی اختصار برتتے ہیں، کہیں تفصیل ہوتی ہے، اسی طرح متن کے ڈھانچے میں جہاں حرکت کا احساس دلانا بھی ضروری ہے اور آوازوں کی ترتیب میں بھی ایک فرحت بخش توازن۔ یوں کہہ لیں کہ نشریاتی صحافی اخبار جیسی ’پیج میکنگ‘ کرتا ہے مگر ریڈیو کی ’لے آؤٹ‘ کاغذ یا اسکرین پہ نہیں، ہوا میں بنتی ہے۔ انیس سو ساٹھ کی دہائی میں ’سرِ مقتل‘ کی ضبطی، منظوم پیروڈی کی شکل میں ایوب خاں کا قصیدہ، مادر ملت کی وفات پر ’اب رہیں چین سے دنیا میں زمانے والے‘ اور ذوالفقار علی بھٹو کے استعفے پہ ’چھوڑ کر نہ جا‘۔۔۔ یہ سب تو یاد تھا، لیکن اپنے قلم برداشتہ مسودہ کے لئے آوازوں کا تنوع کہاں سے لاؤں؟

آزمائش کے اس لمحے میں اردو براڈکاسٹنگ کے گُرو رضا علی عابدی روایتی زیرِ لب مسکراہٹ کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئے اور اپنی الماری کو چابی لگا کر حبیب جالب کی صوتی ٹیپ میری میز پہ رکھ دی۔ وہ جانتے تھے کہ گہری ادراکی اور جذباتی وابستگی کی بنا پر آج انقلابی شاعر کی آبچری یہی کارکن کرے گا۔ دراصل، یہ ٹیم اسپرٹ اور ’لج پالی‘ کے کھیل ہیں، ورنہ عابدی صاحب نے چار سال پہلے ’حرف ِ سرِ دار‘ کی رونمائی کے موقع پر جالب کی نظم و نثر کے یہ مسحور کن ٹکڑے دفتری ڈیوٹی سمجھ کر نہیں، بلکہ اپنے شوق سے ذاتی ذخیرے کے لئے محفوظ کیے تھے۔ اُسی تقریب میں ایک اردو شناس سکھ بزرگ کے ہاتھ میں مجموعے کا نسخہ دیکھ کر جالب نے یہ کہہ کر حاضرین کو لوٹ پوٹ کر دیا تھا کہ ”سردار جی، آپ خوش تو ہیں مگر عنوان ہے ’حرفِ سرِ دار‘ جس میں ’سر‘ اور ’دار‘ کے درمیان اضافت ہے، اِسے ’حرفِ سردار‘ نہ پڑھیے گا۔“

حبیب جالب کی بے تکلف گفتگو، چھوٹے چھوٹے چٹکلوں اور بے پناہ ترنم کے ہوتے ہوئے، مجھے تیار شدہ مال دیکھ کر خود یہ لگا کہ مَیں ریڈیو پروگرام کی کیاری میں پلاسٹک کے جو گل بوٹے بو رہا تھا، اُن میں عابدی صاحب نے سچ مچ کے پھول کھِلا دیے ہیں۔ حرف و آواز کی اِس کھیتی میں کہیں کہیں میری ’کھرپا کاری‘ کی جھلک بھی دکھائی دے جاتی ہے۔ نمونہء کلام ملاحظہ ہو: ”شعر و سخن کی دکانیں سجا کر مصلحت اور مفاد کا سودا بیچنے والے ادبی آڑھتی لاکھ کہتے رہیں کہ فن کے ذریعے کائنات کی خوبصورتی میں اضافہ کرنا ہی شاعر اور ادیب کا بنیادی وظیفہ ہے، لیکن کیا اس سے بھی اہم فریضہ یہ نہیں کہ کھُل کر سچ بولا جائے اور سچ لکھا جائے۔۔۔ اور اگر سچ بد صورت ہو تو اِس میں شاعر کا کیا قصور۔ وہ تو ’ظلمت کو ضیا، سر سر کو صبا، بندے کو خدا‘ لکھنے سے انکار کرتا ہی رہے گا۔‘‘

طبیعت نے اُس دن کچھ اور جولانیاں بھی دکھائیں۔ مثال کے طور پہ ”ایک بار فیض احمد فیض کا ذکر کرتے ہوئے جالب کی زبان سے یہ لفظ نکلے کہ فیض کا انقلاب سکاچ وہسکی ہے اور میرا انقلاب ٹھرا ہے۔ یہ در اصل اِس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ حبیب جالب کا تعلق زندگی بھر معاشرے کے اس طبقے سے رہا جس کے ہاں مئے ایام کی تلخی کا ذکر محض تکلفاً نہیں آتا۔ اُس کی اپنی زندگی اِسی تلخی سے عبارت تھی، او ر ایوب خان سے لے کر جنرل ضیاالحق کے عہدِ حکومت تک قید و ببند کی صعوبتوں سے پیدا ہونے والے معاشی مسائل، خانگی مشکلات اور کسی حد تک جسمانی عوارض اُس کے تخلیقی وجود کا مستقل حصہ بن گئے تھے۔“

عمومی تائید و پسندیدگی کے باوجود اردو سیکشن کے کہنہ مشق ’سرخے‘ محمد غیور نے اگلی ٹرانسمیشن میں فیض صاحب کا حوالہ حذف کر دینے کا مشورہ دیا تھا۔ مَیں نے یہ بات نہ مان کر ایک ایسے دوست کی نافرمانی کی جو اب دنیا میں نہیں رہے۔ خیر، اسی دوران ایک جگہ حبیب جالب کے اِس جملے پر خود فیض کا یہ تبصرہ پڑھنے کو مل گیا کہ ”بھئی، کہتا تو وہ ٹھیک ہی ہے‘‘۔ اب عادت کے مطابق چھوٹا منہ اور بڑی بات۔ فیض کی رجحان ساز تخلیق کاری، پرانے الفاظ کو نئے معنی پہنانا اور سیاسی موضوعات کے لئے محبت کی علامتیں، یہ کوئی معمولی کام تو نہیں تھا۔ پھر بھی لائبریریوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے ماحول کے مقابلے میں جالب کے یہاں کھیتوں کھلیانوں، کارخانوں اور گلی بازاروں کی پر کیف فضائیں اگر فطری سہولت کے ساتھ عام فہم شعری پیرائیوں میں ڈھل گئیں تو مجھے بتائیے کہ بڑا ادب اُور کہتے کسے ہیں۔ جس کسی کو میری رائے سے اختلاف ہو اُسے فیض کے ’زنداں نامہ‘ میں سید سجاد ظہیر کا تعارفی مضمون ایک بار پھر پڑھ لینا چاہئے۔ یہ نہ ہو سکے تو فیض کا اپنا شعری پیغام:

کون ایسا غنی ہے جس سے کوئی

نقدِ شمس و قمر کی بات کرے

جس کو شوقِ نبرد ہو ہم سے

جائے تسخیرِ کائنات کرے

مزید : رائے /کالم