دنیا کے لئے کرونا وائرس ایک سبق

دنیا کے لئے کرونا وائرس ایک سبق
دنیا کے لئے کرونا وائرس ایک سبق

  



ڈری اور سہمی ہوئی دنیا میں کرونا وائرس نے یہ احساس پیدا کیا ہے کہ سینکڑوں ممالک اپنی اپنی سرحدیں رکھتے ہیں، مگر ان کا جینا مرنا سانجھا ہے، سرحدوں پر باڑ لگائی جا سکتی ہے، فضاؤں اور ہواؤں کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ ہر ملک یہ کوشش کرتا رہا ہے کہ اس کے اندر کرونا وائرس نہ آئے، مگر کون سا ملک اس میں کامیاب ہو سکا ہے؟……نہ تو انسانوں کی آمد و رفت روکی جا سکتی ہے اور نہ فضاؤں کو محدود کیا جا سکتا ہے، اس لئے یہ وائرس پھیلتا جا رہا ہے،اقوام متحدہ کے ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ جلد یا بدیر دنیا کا ہر ملک اس کی زد میں آئے گا اور اس سے بچاؤ کے لئے صرف احتیاطی تدابیر ہی کارگر ثابت ہوں گی، کیونکہ ابھی تک اس سے بچاؤ کی کوئی ویکسین ایجاد نہیں ہوئی۔ دیکھا جائے تو اس وقت دنیا کے باقی تمام جھگڑے، لڑائیاں، اختلافات اور دیگر ایشوز پس پشت چلے گئے ہیں، صرف انسانیت کو بچانے کا ایشو سامنے آ گیا ہے۔ یہ اس بات کی غمازی ہے کہ دنیا کو تقسیم کرنا یا کمزور ملکوں پر طاقتور ممالک کا تسلط جمانا، انہیں معاشی طور پر نیچے رکھ کر اپنی برتری ثابت کرنا ایک فضول حرکت ہے…… یہ توکرونا وائرس کا قصہ ہے، مگر اس سے پہلے دنیا دیکھ چکی ہے کہ جب بڑے ممالک کی پالیسیوں کے باعث دنیا کے ایک دو علاقوں سے دہشت گردی شروع ہوئی تو وہ بالآخر ہزاروں میل دور یورپ اور امریکہ تک بھی پہنچی،مگر اسے کوئی نہ روک سکا۔ یہ سرحدیں، یہ انتظامی اقدامات، یہ ہتھیاروں کی رکاوٹیں کچھ کام نہیں آتیں۔ یہ دنیا ایک گھر ہے، جس کے مختلف کمرے اور مختلف راستے ہیں، لیکن اس میں رونما ہونے والے ہر واقعہ کی گونج اور اثر دوسرے کمروں اور راستوں کے ذریعے باہر ضرور نکلتا ہے۔

آج دنیا کا ہر ملک یہ کوشش کر رہا ہے کہ دوسرے ممالک سے بڑھ چڑھ کر کرونا وائرس کے ضمن میں تعاون کرے۔ خود بھی اقدامات اٹھائے اور اس سلسلے میں دوسروں کی بھی مدد کرے۔ یہی انسانیت کا درد ہے اور اسی بنیاد پر اس دنیا کو کھڑے ہونا چاہیے۔ آج امریکہ کے بھی اس وائرس سے پَر جل رہے ہیں اور یورپ کے ممالک میں بھی اس کی وجہ سے ہوکا عالم ہے۔ ایشیا بھی اس کے ہاتھوں زچ ہو چکا ہے اور مشرق وسطیٰ بھی پریشان ہے۔ افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ممالک میں بھی کرونا وائرس سے کاروبارِ زندگی ٹھپ ہو چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے آگے یہ دنیا بڑی چھوٹی ہے، وہ جب چاہے اس دنیا کے نظام کو منجمد کر دے اور جب چاہے چلا دے۔ یہ جو دنیا میں سپرپاور، سپرپاور کی گردان ہوتی رہی ہے، اس کے غبارے سے بھی کرونا وائرس کی وجہ سے ہوا نکل گئی ہے۔ آج امریکہ اس معاملے میں سب سے زیادہ متاثرہ ملک نظر آ رہا ہے۔ سڑکیں ویران ہو گئی ہیں، بڑے بڑے شاپنگ مال بند ہو گئے ہیں، ریسٹورنٹ اور ہوٹل ویران پڑے ہیں …… وہ امریکہ جس کی زندگی نائن الیون کے بعد بھی جام نہیں ہوئی تھی، اب رکی اور ٹھہری ہوئی نظر آتی ہے۔ سپرپاور کی کوئی تدبیر کارگر ثابت نہیں ہو رہی۔ بے تحاشا ٹیکنالوجی، تحقیق اور وسائل کے باوجود امریکہ بھی اس کرونا وائرس کے آگے اتنا ہی بے بس ہے، جتنا افریقہ یا ایشیا کا کوئی چھوٹا غریب ملک نظر آتا ہے۔ نجانے امریکی تھنک ٹینکوں نے ان حالات سے کچھ سبق سیکھا ہے یا نہیں؟ وہ اپنی طاقت کے بل بوتے پر پُرامن دنیا کا امن تباہ کرنے کی کوشش میں مبتلا نظر آتے ہیں، حالانکہ انہیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ امریکہ میں امن اور سلامتی بھی صرف اسی صورت میں ممکن ہے، جب وہ دنیا کے امن و سلامتی کی قدر کرے۔

پچھلی چار پانچ دہائیوں میں یہ اپنی نوعیت کی پہلی مثال ہے کہ دنیا ایک بیماری کے خوف سے سہمی ہوئی ہے۔ بعض لوگ تو اس شک و شبہ میں پڑ گئے ہیں کہ کہیں اس سارے کھیل کے پیچھے کوئی منصوبہ بندی ہی نہ ہو؟ پہلے پہل یہ افواہ اڑی تھی کہ امریکہ نے چینی معیشت کو ناکام بنانے کے لئے چین میں وائرس داخل کیا ہے۔ بعدازاں چین نے بھی الزام لگایا کہ صوبہ ووھان میں تعینات امریکی فوجیوں نے کرونا وائرس کو پھیلایا ہے، تاہم ابھی تک کسی آزاد ذریعے سے اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ پھر یہ بات بھی اہم ہے کہ خود امریکہ بُری طرح اس وائرس کی زد میں ہے…… اگر یہ وائرس امریکی ساختہ تھا تو اس کا توڑ بھی اس کے پاس ہونا چاہیے تھا، لیکن ایسا کوئی ثبوت نظر نہیں آتا کہ امریکہ نے اس وائرس کو ختم کرنے میں کوئی کامیابی حاصل کی ہو؟ یہ ایک ناگہانی آفت ہے اور بحیثیت مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ اس کا توڑ بھی اللہ تعالیٰ ہی پیدا کرے گا، البتہ دنیاکے ہر ملک کو اس ضمن میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنا پڑیں گی۔ اس کا خاتمہ تبھی ہو سکے گا جب یہ دنیا کے ہر ملک سے ختم ہو جائے…… جب اس وائرس کا چین سے آغاز ہوا تو دنیا نے بڑی کوشش کی کہ چین سے قطع تعلق کرکے اس وائرس کو اپنے ملک میں نہ آنے دیا جائے، مگر اس میں کسی ملک کو کامیابی حاصل نہیں ہوئی، کیونکہ کوئی بھی ملک دنیا سے کٹ کر زندہ نہیں رہ سکتا، نہ ہی دنیا کسی ملک کو الگ تھلگ کر سکتی ہے۔ اگرچہ زمین اپنی اپنی ہے، آسمان تو سانجھا ہے، ہوا اور فضا پر تقسیم کیسے لاگو ہوگی؟ یہ ایک بنیادی حقیقت ہے۔ دنیا اگر اسے سمجھ لیتی ہے تو اس کرۂ ارض کے بہت سے مسائل ختم ہو جائیں گے، مگر ایسا ہوگا نہیں، کیونکہ اس دنیا میں ایسی قوتیں پیدا ہو چکی ہیں جو دنیا میں انتشار اور تقسیم کی بنیاد پر اپنی اقتصادی بادشاہت قائم کئے ہوئے ہیں، مگر اس ناگہانی صورت حال میں ان کی خواہش بھی یہی ہے کہ دنیا بھر سے کرونا وائرس ختم ہو جائے۔ کسی ایک ملک میں بھی یہ زندہ رہا تو باقی دنیا تمام تر کوشش کے باوجود اس کی زد میں آنے سے محفوظ نہیں رہے گی۔

پاکستان کے بارے میں اس تشویش کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ اس نے ایسے کڑے فیصلے نہیں کئے جو اس آفت سے نمٹنے کے لئے ضروری ہیں اور دنیا بھر میں جاری ہیں۔ شائد اس کی وجہ یہ تھی کہ پاکستان نے احتیاطی تدابیر اختیار کرکے اس وائرس کی پاکستان میں آمد کو خاصا مشکل بنا دیا تھا۔ بیرون ملک سے آنے والوں کی سکریننگ اور بعض ممالک کی فلائٹس پر پابندی کی وجہ سے بہت کم کیس سامنے آئے، لیکن یہ سب کافی نہیں تھا، کیونکہ مریض میں علامات ظاہر ہونے میں بھی وقت لگتا ہے اور جب علم ہوتا ہے تو اکثر بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ پھر اچانک مختلف علاقوں سے چند کیس سامنے بھی آنا شروع ہوئے، دنیا کی نظریں بھی ہم پر لگی ہوئی تھیں۔ یہ بات دنیا کے لئے حیران کن تھی کہ اس حالت میں بھی پاکستان کے اندر پی ایس ایل کے میچز جاری ہیں، جن میں بیک وقت تیس چالیس ہزار افراد کندھے سے کندھا ملا کر بیٹھے ہوتے ہیں، جبکہ ساری دنیا میں کھیلوں کی سرگرمیاں معطل کی جا چکی ہیں، غالباً عالمی دباؤ بھی ہم پر بڑھنا شروع ہوا کہ ہم احتیاطی تدابیر اختیار کریں، جس کے بعد حکومت کو ہوش آیا اور کڑے فیصلے کئے گئے۔ تعلیمی اداروں اور عوامی اجتماعات کے تمام مراکز پر پابندی سے کم از کم یہ ہوگا کہ لوگ زیاد تر گھروں میں رہیں گے، رش اور اجتماع میں اس وائرس کے پھیلنے کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے، خدانخواستہ اگر یہ بیک وقت سینکڑوں افراد کو لاحق ہو جائے تو اس پر کنٹرول مشکل ہوجائے گا۔ ہمیں چین کی مثال سامنے رکھنی چاہیے، جس نے کڑے فیصلوں کے بعد بالآخر اس وائرس کو بڑی حد تک شکست دے دی ہے۔ اس کے لئے جو خصوصی ہسپتال قائم کیا گیا تھا، وہ بند کر دیا گیا ہے، کیونکہ مریضوں کی مطلوبہ تعداد نہیں آ رہی۔ حالیہ حکومتی اقدمات سے امیدہے کہ آئندہ دوچار ہفتوں میں صورت حال بہتر ہو جائے گی۔ اس سلسلے میں پوری قوم کو اپنی اپنی جگہ احتیاطی تدابیر کے ساتھ ساتھ صفائی اور پاکیزگی پر بھی خاص توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔ امید ہے عالمِ انسانیت اس آفت کے خلاف کامیابی حاصل کرے گا اور دنیا اس کے خوف اور خوفناکیوں کو ناکام بنانے میں اپنا اجتماعی کردار پوری دلجمعی سے ادا کرے گی۔

مزید : رائے /کالم