ایران سے چھ ہزار لوگوں کی بغیر سکریننگ بلوچستان آمد؟

ایران سے چھ ہزار لوگوں کی بغیر سکریننگ بلوچستان آمد؟

  



قومی اسمبلی کے دو ارکان، آغا حسن بلوچ اور ڈاکٹر شہناز نے اجلاس میں یہ انکشاف کر کے پورے ایوان کو ورطہ ئ حیرت میں ڈال دیا کہ ایران سے لوٹنے والے چھ ہزار سے زیادہ ارکان کورونا وائرس کی سکریننگ کے بغیر سرحدی قصبہ تفتان چلے گئے،ان کی وجہ سے کورونا وائرس ملک بھر میں پھیل سکتا ہے۔ بی این پی(مینگل) کے آغا حسن بلوچ نے کہا کہ اگر کورونا وائرس پھیلا تو اس کی ذمہ دار بلوچستان کی حکومت ہو گی،انہوں نے ایران سے آنے والوں کی اچھی طرح چیکنگ نہ کرنے پر حکومت بلوچستان کو نکتہ چینی کا ہدف بنایا۔ انہوں نے سوال کیا کہ ہم لوگ جو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے اسلام آباد آتے ہیں اگر اپنے ساتھ کورونا وائرس بھی اٹھا لائیں تو کیا ہوگا؟9مارچ کو جب قومی اسمبلی کا سیشن شروع ہوا تھا تو ہاؤس بزنس ایڈوائزری کمیٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ اجلاس 20مارچ تک جاری رہے گا،لیکن جمعہ کے روز یہ سیشن اس وقت اچانک غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دیا گیا، جب پارلیمانی امور کے وزیر مملکت علی محمد خان نے کہا کہ سرکاری اور اپوزیشن بنچوں کے اکثر ارکان کی خواہش یہ ہے کہ سیشن مختصر کر دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان سے بھی اس سلسلے میں مشاورت کی گئی ہے۔ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے اجلاس غیر معینہ عرصے کے لئے ملتوی کرنے کا حکم پڑھ کر سنایا۔

قومی اسمبلی میں جس وقت یہ انکشاف کیا جا رہا تھا کہ چھ ہزار افراد ایران سے آئے اور بغیر سکریننگ کے تفتان چلے گئے اس وقت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں اس وائرس سے بچنے کے لئے اقدامات پر غور کیا جا رہا تھا،جس کے نتیجے میں 23مارچ کو یوم پاکستان کی پریڈ منسوخ کر دی گئی، جس کی تمام تیاریاں مکمل تھیں،ملک بھر میں سکول کالج اور دوسرے ہر قسم کے تعلیمی ادارے 5 اپریل تک بند کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا، امتحان ملتوی کر دیئے گئے۔ایران اور افغانستان کے ساتھ سرحدیں بند کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا، ہر قسم کے عوامی اجتماعات، شادی بیاہ کی تقریبات، شادی ہال، سینما ہال، تھیٹر بند کر دیئے گئے، بین الاقوامی پروازیں صرف تین شہروں اسلام آباد، کراچی اور لاہور سے آئیں جائیں گی، پنجاب اسمبلی کا اجلاس بھی ملتوی کر دیا گیا۔ بلوچستان میں 10افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی لگا دی گئی، دیگر بہت سے ایسے اقدامات بھی تجویز کئے گئے ہیں، جن کا مقصد کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنا ہے۔صدر عارف علوی نے کہا کہ اگر کسی کو نزلہ، زکام، بخار، کھانسی اور دمہ کی شکایت ہے تو وہ نماز کی ادائیگی گھر پر ہی کریں۔ ایران اور ترکی میں مساجد بند کر دی گئی ہیں، کورونا کے خدشات کی وجہ سے میرین اکیڈمی بھی31 مئی تک بند کر دی گئی ہے، فن لینڈ کے نائب وزیر خارجہ کا دورہئ پاکستان ملتوی کر دیا گیا۔

اِن اقدامات کے ساتھ ساتھ بعض ایسے اقدامات بھی سامنے آئے ہیں، جن میں ایسے ڈاکٹروں کے خلاف انضباطی کارروائی کی گئی، جنہوں نے کورونا کے خوف سے خدمات انجام دینے سے انکار کر دیا ہے،اس سلسلے میں شیخ زید ہسپتال کوئٹہ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر منظور بلوچ کو عہدے سے ہٹا کر محکمہ صحت میں رپورٹ کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔ لاہور میں ینگ ڈاکٹروں کو شکایت ہے کہ اُنہیں کورونا وائرس کِٹس اور دوسری سہولتیں نہیں دی گئیں،ان ڈاکٹروں نے دھمکی دی ہے کہ اگر اُنہیں سہولتیں نہ دی گئیں تو وہ ہسپتالوں میں ڈیوٹی نہیں دیں گے۔ان ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ آئسولیشن وارڈ ہسپتالوں کے درمیان میں بنا دیئے گئے ہیں، کِٹس، حفاظتی لباس اور وینٹی لیٹرز بھی مکمل نہیں، گرینڈ ہیلتھ الائنس کے ڈاکٹر سلمان حسیب نے کہا ہے پنجاب میں بنائے گئے آئسولیشن وارڈز میں ماسک اور کِٹس کم ہونے کے ساتھ ساتھ غیر معیاری بھی ہیں،وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ عوام کو کورونا سے بچانے کے لئے ضروری اقدامات کر رہے ہیں، کورونا کِٹس منگوا لیں، راولپنڈی میں کورونا مینجمنٹ سنٹر قائم کردیا، اگر تسلی بخش انتظامات کئے گئے ہیں تو ینگ ڈاکٹر کیوں شکایت کر رہے ہیں اس کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے۔

حکومت کے ادارے اگر کورونا وائرس کے مقابلے کے لئے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں تو بعض منفی خبروں کا سلسلہ بھی ساتھ ساتھ چل رہا ہے۔ایک اطلاع یہ ہے کہ وزیراعظم کے مشیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے دو کروڑ ماسک بیرون ملک برآمد کرنے میں کردار ادا کیا اگرچہ وہ خود اس الزام کی تردید کرتے ہیں،لیکن ایف آئی اے نے اس کی تحقیقات شروع کر دی ہیں،جس کے بعد حقیقت ِ حال سامنے آ جائے گی،لیکن آزمائش کی اس گھڑی میں اگر اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کا کردار ہی مشکوک ہو گا تو عوام الناس اس سے کیا تاثر لیں گے،اِس لئے اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کا فرض ہے کہ وہ اپنے بارے میں ایسا کوئی تاثر قائم نہ ہونے دیں، جس سے یہ لگے کہ وہ اس کڑے وقت کو بھی اپنی مالی منفعت کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔

جہاں تک قومی اسمبلی میں اس انکشاف کا تعلق ہے کہ ایران سے آنے والے چھ ہزار افراد بغیر سکریننگ کے تفتان میں اپنے گھروں کو چلے گئے تو یہ اطلاع بہت ہی تشویشناک ہے،چونکہ دو معزز ارکان نے اسمبلی کے فلور پر یہ بات کی،اِس لئے امید ہے کہ انہوں نے بات کرنے سے پہلے اس کی اچھی طرح تصدیق کر لی ہو گی،کیونکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تو ملک بھر میں اس وقت تک کورونا وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ ستائیس ہے جو چھ ہزار سکریننگ کے بغیر چلے گئے، اُن میں بھی ممکن ہے کچھ مریض ہوں اِس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سرحدی قصبے میں طبی ٹیمیں بھیجی جائیں اور اگر وہاں کوئی مریض ہیں تو اُن کے علاج کی سہولت فراہم کی جائے۔اگر اس جانب توجہ نہ دی گئی تو ممکن ہے ان لوگوں میں بعض مریض وائرس کے پھیلنے کا سبب بن جائیں، بلوچستان کی صوبائی حکومت کو بھی وضاحت جاری کرنی چاہئے، کیونکہ معزز رکن قومی اسمبلی اس تساہل کی ذمہ داری بلوچستان کی حکومت پر ڈال رہے ہیں۔

ویسے دیکھا جائے تو دُنیا بھر کے متاثرہ ممالک کی نسبت پاکستان میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ قابو میں ہے، مقام اطمینان و تشکرہے کہ ابھی تک متاثرین کی تعداد بھی بہت کم ہے اور بعض مریضوں کے صحت یاب ہونے کی اطلاعات بھی ہیں ایسے میں ہسپتالوں میں زیادہ بہتر انتظامات کرنے کی ضرورت ہے اور اگر ینگ ڈاکٹروں کی شکایت درست ہے تو اس کا ازالہ بھی ہونا چاہئے، ویسے تو یہ ڈاکٹر پہلے سے سڑکوں پر ہیں اور پنجاب اسمبلی سے ایم ٹی آئی ایکٹ منظور ہونے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں،حکومت کو اصلاحِ احوال کے لئے ڈاکٹروں کے ساتھ بات چیت کا آغاز کرنا چاہئے، صحت ایمرجنسی کے دوران ہر کسی کو اپنے ذاتی مفادات پس ِ پشت ڈال کر وسیع تر قومی مفاد میں کام کرنا چاہئے۔

مزید : رائے /اداریہ