مکئی کی فصل پرکیڑوں کابروقت خاتمہ کیا جائے، محکمہ زراعت

  مکئی کی فصل پرکیڑوں کابروقت خاتمہ کیا جائے، محکمہ زراعت

  



لاہور (کامرس ڈیسک)بہاریہ مکئی کی فصل پربہت سے کیڑے حملہ آورہوتے ہیں اگران کابروقت انسداد نہ کیا جائے تو کاشتکاروں کی آمدن کا کافی حصہ ان کیڑوں کی نذر ہوجاتاہے۔ بہاریہ مکئی کی فصل کو نقصان پہنچانے والے کیڑوں میں تنے کی سنڈی بڑی اہم ہے۔یہ کیڑا پاکستان کے مکئی کا شت کرنے والے تمام علاقوں میں پا یا جاتاہے۔پروانے کا رنگ زردی مائل ہوتا ہے۔ انڈے چپٹے، بیضوی اور پیلے رنگ کے ہوتے ہیں۔ سنڈی کا رنگ گدلا سفید ہوتاہے اور جسم کے پچھلے حصہ پر چار بھورے رنگ کی لائنیں ہوتی ہیں۔پورے قد کی سنڈی تقریباً20 سے 25ملی میٹر لمبی ہوتی ہے۔ اس کی مادہ پتوں کی نچلی سطح پر انڈے دیتی ہے جو پیلے رنگ کے ہوتے ہیں اور گچھوں کی شکل میں دیے جاتے ہیں۔ ایک مادہ اپنی زندگی کے دوران 2سے 12دن میں 300سے زائد انڈے دیتی ہے جن سے4یا 5 دن میں سنڈیاں نکل آتی ہیں۔ سنڈی پورے قد کی ہونے تک 6 حالتو ں سے گزرتی ہے۔ سنڈی کی حالت 14سے 28دن ہوتی ہے۔ پھر کویا کی حالت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ کویا عموماًتنے میں سوراخ کر کے بناتی ہے۔

کوئے سے 3ہفتوں کے بعد پروانے نکل آتے ہیں۔ یہ سنڈی مکئی کی فصل کو سب سے زیادہ نقصان پہنچاتی ہے۔ بعض صورتوں میں جب سنڈی کا حملہ زیادہ ہو تو فصل بالکل ہی تباہ ہوجاتی ہے ا س سنڈی کا حملہ اس وقت شروع ہوتاہے۔

جب فصل تقریباً 4انچ کے قریب اونچی ہوتی ہے سنڈی تنے میں داخل ہو کر اس کی کونپل کو کاٹ دیتی ہے جس سے کونپل سوکھ جاتی ہے اس طرح پودے کی بڑھوتری رک جاتی ہے بعض اوقات یہ سنڈی مکئی کے نر حصہ پر بھی حملہ آور ہوتی ہے اور چھلیوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔ بہاریہ مکئی پرسنڈی کا حملہ مارچ کے آخر یا اپریل کے شروع میں ہوتاہے۔ کاشتکاروں کو چاہیے کہ فصل کا باقائدگی سے معائنہ کرتے رہیں۔متاثرہ پودوں کو کھیتوں سے نکال کر چارہ کے طور پر استعمال کریں۔ برداشت کے بعد متاثرہ فصل کے بچے کھچے حصوں کو روٹا ویٹ کر دیں۔رات کو روشنی کے پھندے لگا کر پروانے تلف کریں۔فصلوں کا مناسب ہیر پھیر کریں۔فصل کی برداشت کے بعد مڈھوں کو کھیت سے نکال کر زمین میں دبا دیں۔فصل میں موجود جڑی بوٹیوں کا بر وقت تدارک کریں۔ محکمہ زراعت کے مقامی عملہ کے مشورہ سے لیوفینوران 50ای سی بحساب 200 ملی لٹر یا ایمامیکٹن بینزوایٹ1.9ای سی بحساب 200ملی لٹریا فپرونل 5فیصدایس ایل بحساب 500ملی لٹر فی ایکڑ اگاؤ مکمل ہونے پر 8سے 10دن کے وقفہ سے سپرے کریں۔ مکئی کی کونپل کی مکھی کا حملہ فصل کے اگنے سے ایک ماہ تک جاری رہتا ہے۔شدید حملہ کی صورت میں فصل ک. کافی نقصان پہنچا تی ہے۔مکئی کی کونپل کی مکھی فروری مارچ سے اپریل تک فصل پر حملہ آور ہوتی ہے اس کی مادہ چھ.ٹے ا.ر نرم پودوں کے پت.ں پر علیحدہ علیحدہ انڈے دیتی ہے۔ انڈوں سے دو سے تین دن میں بچے نکل آتے ہیں جو نرم پت.ں میں س.راخ کر کے درمیانی حصے تک پہنچ جاتے ہیں ا.ر ان کوچ.ستے ہیں یہاں تک کہ درمیانی ک.نپل گل سڑ کر س.کھ جا تی ہے اس طرح پ.دوں کی بڑھوتری رک جاتی ہے اور پودے کمزور ہو جاتے ہیں جس سے پیداوار میں کمی.اقع ہ.تی ہے کونپل کی مکھی کا حملہ مکئی کی دوغلی اقسام پر زیادہ ہ.تا ہے اور کافی نقصان پہنچاتا ہے۔مادہ مکھی پتوں کے نچلے حص.ں پر علیحدہ علیحدتقریبا40 انڈے دیتی ہے۔2 سے 3 دن میں انڈوں سے بچے نکل آتے ہیں اور رینگتے ہوئے نرم پت.ں میں س.راخ کر کے درمیانی حصے تک پہنچ جا تے ہیں۔ 6 سے10دن تک کونپل کی مکھی درمیانی شاخ میں رہتی ہے ا.ر خوراک حاصل کرتی ہے۔ مکمل نشوونما پائی ہوئی سنڈی یا تو شاخ کے اندر یا پھر زمین پر گر کے ک.یا بنا تی ہے۔کونپل کی مکھی فصل کی 6 پتوں والی حالت میں حملہ آور ہ.تی ہے اور نرم پت.ں میں س.راخ کر کے درمیانی حصے تک پہنچ جا تی ہے۔رس چوسنے کی وجہ سے درمیانی ک.نپل س.کھ جاتی ہے اس طرح پ.دوں کی بڑھوتری رک جاتی ہے اور پودے کمزور ہو جاتے ہیں جس سے پیداوار میں کمی واقع ہ.تی ہے جبکہ شدید حملہ کی صورت میں بھی50 سے60فیصد تک پیداوار میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔آبپاشی والے علاقوں میں اس کا حملہ زیادہ ہوتاہے۔کاشتکاروں کو چاہیے کہ نقصان دہ کیڑوں کے خلاف قوت مدافعت رکھنے والی اقسام کاشت کریں۔ فصل کی برداشت کے بعد مڈھوں کو کھیت سے نکال کر زمین میں دبا دیں۔بیج کو امیڈا کلوپرڈ 70ڈبلیو ایس 7گرام دوائی فی کلو گرام بیج کو لگا کر کاشت کرنے سے فصل ابتدائی 40دن تک نقصان دہ کیڑوں کے حملہ سے محفوظ رہتی ہے۔ محکمہ زراعت کے مقامی عملہ کے مشورہ سے امیڈا کلوپرڈ 200ایس ایل بحساب 200ملی لٹر یا لیمیڈا سا ئی ھیلو تھرن 2.5 ای سی بحساب 250 ملی لٹر فی ایکڑ پہلی مرتبہ اگاؤ مکمل ہونے پر اور دوسری مرتبہ 8سے 10دن کے بعد سپرے کریں۔سست تیلاموسم بہار میں کونپل کی مکھی کے فوراًبعد حملہ کرتاہے۔ شدید حملہ کی صورت میں فصل کو کافی نقصان پہنچتاہے۔ سست تیلاپتوں کا رس چوستاہے جس سے پتوں پر سفید نشان بن جاتے ہیں اور پتے آہستہ آہستہ سوکھنا شروع ہوجاتے ہیں۔ شدید حملہ کی صورت میں اوپر والے چند پتوں کے علاوہ باقی سب پتے سوکھ جاتے ہیں اور پیداوار میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔ چست تیلاچھلیاں بننے سے کچھ عرصہ قبل حملہ آور ہوتاہے اور پتوں کا رس چوستاہے۔چست تیلا کا حملہ عموماًاوپر والے پتوں اور نر حصہ پر زیادہ ہوتاہے۔ شدید حملہ کی صورت میں فصل کی عمل زیرگی میں خاصی کمی واقع ہوجاتی ہے جس سے پیداوار بھی متا

مزید : کامرس