وسیب کوایک دوسرے سے لڑانا کرونا وائرس سے زیادہ خطرناک، ظہور دھریجہ

وسیب کوایک دوسرے سے لڑانا کرونا وائرس سے زیادہ خطرناک، ظہور دھریجہ

  



ملتان(سپیشل رپورٹر)وسیب کی ایک دوسرے سے لڑانا کرونا وائرس سے زیادہ خطرناک ہے۔پابندیاں توڑ کر سرائیکستان صوبے کے لئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ان خیالات کااظہار سرائیکستان صوبہ محاذ کے رہنماؤں ظہور دھریجہ، مہر مظہر کات،ثوبیہ ملک(بقیہ نمبر13صفحہ12پر)

، حافظ خدا بخش واقف ملتانی، رشید خان دھریجہ،علی خان دھریجہ نے کروناوائرس کے حوالے سے بلائے گئے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر رضوان دھریجہ، جام اجمل،بابا ممتاز اور حاجی عید احمد دھریجہ موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس مگر مچھ کے آنسوؤں کے سوا کچھ نہیں۔پہلے وسیب کو لڑا دیا گیا اب وہ کہہ رہے ہیں کہ میں نے بات نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ سول سیکرٹریٹ کو دو حصوں میں تقسیم کرنا بھی آدھا تیتر اور آدھا بٹیر کے مترادف ہے اور اس سے حکمرانوں کے نااہلی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لفظ جنوبی پنجاب کو تسلیم نہیں کرتے کہ یہ لفظ گالی ہونے کے ساتھ لغوی اعتبار سے بھی غلط ہے کہ سرائیکی وسیب کے بہت سے اضلاع پنجاب کے جنوب میں نہیں آتے۔ فنڈز میں ہم پچاس فیصد حصے کے حقدار ہیں۔سرائیکی رہنماؤں نے کہا کہ کرونا وائرس کیلئے احتیاطی تدابیر ضروری ہیں مگر جس طرح پورے ملک کو وائرس کے خوف سے بلاک کر دیا گیا ہے اور ہر طرح کے اجتماعات پر پابندی عائد کردی گئی ہے وہ سوفیصد غلط اقدام ہے ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ ہم پابندیاں توڑ کر صوبے کیلئے جلسے کریں گے کہ جس طرح حکمرانوں نے دارالحکومت اور سیکرٹریٹ کے مسئلے پر وسیب کو تقسیم کرکے رکھ دیا ہے یہ کرونا وائرس سے زیادہ مہلک ہے۔ انہو ں نے کہا کہ ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ یہ صوبہ نہیں بنانا چاہتے بلکہ وسیب کو ایک دوسرے سے لڑانا چاہتے ہیں۔ حکومت کے حالیہ اقدامات سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی دارالحکومت کے لئے ملتان ہر لحاظ سے موزوں ہے۔ میرٹ کے خلاف من پسند فیصلوں کو تسلیم نہیں کریں گے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر