کرونا وائرس سے بچاؤ،سپریم کورٹ سمیت ملک بھر کی عدالتوں میں غیر متعلقہ افراد کا داخلہ بند

کرونا وائرس سے بچاؤ،سپریم کورٹ سمیت ملک بھر کی عدالتوں میں غیر متعلقہ افراد ...

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)کرونا وائرس سے بچاؤ کے لئے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس سمیت ملک بھر کی عدالتوں میں غیر متعلقہ لوگوں کا داخلہ روک دیاگیا،اس سلسلے میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کی طرف سے ہدایات جاری کردی گئی ہیں،بلوچستان ہائی کورٹ نے سائلین اور قیدیوں کے داخلہ پر بھی پابندی عائد کردی،جس کا اطلاق بلوچستان کی ماتحت عدالتوں پر بھی ہوگا،چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ نے بلوچستان ہائی کورٹ اور بلوچستان کی ماتحت عدالتوں کے ججوں کے چیمبر میں ہر قسم کی ملاقاتوں پر بھی 15دن کیلئے بھی پابندی عائد کردی ہے،تمام ہائی کورٹس نے یہ ایڈوائزری سپریم کورٹ کی زبانی ہدایات کے بعد جاری کی ہے،سپریم کورٹ کی طرف سے جاری احکامات کے مطابق صرف ان لوگوں کو داخلے کی اجازت ہوگی جن کے کیس لگے ہوئے ہیں،دیگر افراد کا داخلہ ممکنہ حد تک کم رکھنا ہے،کورٹ رومز کے اندر ہجوم پر پابندی ہوگی اور لوگ ایک دوسرے سے فاصلے پر بیٹھیں گے،جن افراد کے کیس کا نمبر ہوگا وہی کورٹ روم کے اندر جائیں گے باقی لوگ باہر انتظارکریں گے،سپریم کورٹ میں آنے والے سائلین اپنے کارڈ ہاتھوں میں پکڑنے کی بجائے ڈسپلے کریں گے اور صرف متعلقہ دفتر یا کورٹ روم جائیں گے کسی دوسری جگہ جانے پر پابندی ہوگی۔سپریم کورٹ نے مزید ہدایات جاری کی ہیں کہ کورٹ رومز کے تمام دروازے مناسب طور پر کھلے رکھے جائیں گے تاکہ ہوا کی آمد ورفت جاری رکھی جاسکے،لاہورہائی کورٹ کی طرف سے جاری احکامات میں کہاگیاہے کہ عدالت عالیہ اور ماتحت عدالتوں میں صرف وہی سائلین اور فریقین مقدمہ کمرہ عدالت میں داخل ہوسکیں گے جنہیں عدالت نے طلب کیا ہوگا یا پھر ان کی حاضری قانونی تقاضہ ہوگی،لاہورہائی کورٹ نے مزید ہدایت جاری کی ہے کہ صرف وہی وکلاء کمرہ عدالت میں داخل ہوسکیں گے جنہوں نے کسی کیس میں دلائل دینا یا پیش ہوناہوگا،ان کے جونیئرز اور ایسوسی ایٹس کو کمرہ عدالت میں داخلہ کی اجازت نہیں ہوگی،جن وکلاء،موکلین اور سرکاری ملازمین کے کیس اس روز نہیں لگے ہوں گے وہ عدالتوں کے احاطہ میں آنے سے اجتناب کریں،پولیس اورسکیورٹی اہلکار وں کے لئے فیس ماسک پہننا ضروری ہوگا، وہ کسی سے ہاتھ نہیں ملائیں گے، کورٹ رومز،دفاتراور عدالتی احاطہ کی دن میں کم ازکم دو مرتبہ جراثیم کش مواد سے صفائی کی جائے گی،دروازوں اور ان کے دستوں کی بھی صفائی یقینی بنائی جائے گی،ملازمین آپس میں ہاتھ نہیں ملائیں گے اور جسمانی طور پر ایک دوسرے سے دور رہیں گے،عدالتی کمروں میں تازہ ہوا کی آمد و رفت کو یقینی بنانے کیلئے دروازے اور کھڑکیاں کھلی رکھی جائیں گی،ایئر کنڈیشنر مکمل طور پر بند ہوں گے،عدالتی ملازموں کو ہاتھ دھونے کی ایڈوائس بھی کی گئی ہے،بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جمال خان مندوخیل کی طرف سے ہدایت جاری کی گئی ہے کہ قیدیوں کو مقدمات میں حاضری سے استثنیٰ حاصل ہوگا،فریقین مقدمہ ہائی کورٹ اور سول کورٹس میں داخل نہیں ہوسکیں گے،ان کے وکیل کیسوں کی پیروی کریں گے،دائر کئے جانے والے کیسوں کی وصولی ہائی کورٹ اور سول کورٹس کے گیٹ پر کی جائے گی،عدالتوں کے ملازمین اور وکلاء کیلئے دفتر اور عدالتوں میں جانے سے قبل ہاتھ دھونا لازمی ہوگا،بلوچستان کی عدالتوں میں سینیٹائزررکھوا دیئے گئے ہیں، بلوچستان ہائی کورٹ نے فیصلہ کیاہے کہ عدالتی عملے کی تعداد کو کم کرنے کیلئے نصف عملے کو متبادل دنوں میں چھٹی دی جائے گی،بلوچستان ہائی کورٹ اور بلوچستان کی ماتحت عدالتوں کے ججوں کے چیمبر میں ہر قسم کی ملاقات پر بھی 15دن کے لئے بھی پابندی عائد کردی گئی ہے،سندھ ہائی کورٹ کی طرف سے ہدایت جاری کی گئی ہے کہ کمرہ عدالت میں صرف وہی لوگ داخل ہوسکیں گے جن کی کیس میں حاضری ضروری ہے،باقی لوگ کمرہ عدالت میں داخل نہیں ہوسکیں گے،کمرہ عدالت اوردفاتر میں داخل ہونے سے قبل جراثیم کش مواد سے مناسب صفائی کوضروری قراردیاگیاہے،چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے سندھ کے سیکرٹری ہیلتھ اور ہوم سیکرٹری کو کرونا وائرس سے قیدیوں کوبچانے کے لئے جیلوں میں بھی خصوصی حفاظتی انتظامات کی ہدایت کی ہے، سندھ ہائی کورٹ نے مزید ہدایت کی ہے کہ قیدیوں سے ملاقاتوں پر پابندی ہوگی۔اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ کرونا وائرس سے بچنے کیلئے بائیومیڑک سسٹم کی بجائے مینول سسٹم کے تحت حاضری لگائیں گے،عدالتی ملازمین آپس میں ہاتھ نہیں ملائیں گے وہ دن میں بار بار صابن سے ہاتھ دھوئیں گے اور ایک دوسرے سے کھانے پینے کی چیزیں لے کر استعمال نہیں کریں گے،کیفے ٹیریا اور کچن کو حفظان صحت کے اصولوں کے تحت صاف رکھا جائے گا،اسلام آباد ہائی کورٹ نے مزید ہدایت کی ہے کہ ٹشو پیپرز کو استعمال کرنے کے بعد ردی کی ٹوکری میں پھینکنے کی بجائے فلش میں بہایاجائے گااور واپسی پر جراثیم کش مواد سے ہاتھ دھونا ضروری ہوگا۔اعلیٰ عدلیہ کی ان ہدایات پر تاحکم ثانی عمل ہوگا۔مختلف ہائی کورٹس کی طرف سے عدالتی احاطہ میں ہاتھ دھونے کے لئے جراثیم کش محلول رکھنے کی منظور ی بھی دی گئی،لاہورہائی کورٹ کی طرف سے ایڈوائزری جاری کرنے سے قبل چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس مامون رشید شیخ کی سربراہی میں فاضل جج صاحبان کا طویل اجلاس ہوا، جس میں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لئے حفاظتی اقدامات کے لئے مختلف اقدامات پر غور کیا گیا، اجلاس میں فوجداری عدالتوں میں جیلوں سے قیدیوں کو پیش نہ کر نے کے معاملہ کا بھی جائزہ لیا گیا۔

عدالتیں /پابندی

مزید : صفحہ اول