عدالتیں اظہار رائے کی آزادی پر قد غن نہیں آنے دیں گی:اسلام آباد ہائیکوررٹ

عدالتیں اظہار رائے کی آزادی پر قد غن نہیں آنے دیں گی:اسلام آباد ہائیکوررٹ

  



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ آئینی عدالتیں اظہار رائے کی آزادی پر قدغن نہیں آنے دیں گی، جو پڑوسی ملک میں ہو رہا ہے وہ یہاں نہیں ہونے دیں گے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سابق وزیراعظم نوازشریف کی ضمانت کے معاملے پر متنازع تبصروں پر توہین عدالت اور زیرسماعت مقدمات پر میڈیا رپورٹنگ سے متعلق کیس کی سماعت کی۔اس موقع پر عدالت میں اینکر حامد میر، پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا)کے نمائندے اور کورٹ رپورٹرز پیش ہوئے۔دوران سماعت حامد میر نے کہا کہ یہ توہین عدالت کا کیس ہے تو ایک اور نکتہ بھی عدالت کے علم میں لانا چاہتے ہیں، اس عدالت نے ایک فیصلہ دیا تھا جس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نیب نے جنگ اور جیو گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ عدالت نے کہا تھا کہ کوئی نیب کے ساتھ تفتیش میں تعاون کر رہا ہے تو گرفتاری کی ضرورت نہیں۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئیے کہ وہ الگ کیس تھا،اس گرفتاری پر اْس فیصلے کے مطابق توہین عدالت کا کیس نہیں بنے گا۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ہم نے اپنے فیصلے میں قانون اور اختیار کی تشریح کی تھی اور بنیادی حقوق بتائے تھے۔ قوانین تو یہاں موجود ہیں لیکن ان پر عمل نہیں کیا جارہا۔ پاکستان آزادی اظہار رائے کے حوالے سے 143 ویں نمبرپر موجود ہے، جس معاشرے میں اظہار رائے کی آزادی نہیں ہوتی وہ معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔اس موقع پر حامد میر نے بتایا کہ سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کا نوٹیفکیشن آیا ہے، وفاقی کابینہ نے سوشل میڈیا رولز کی منظوری دی ہے حکومت کے اپنے وزراء کہہ رہے ہیں کہ اس پر بحث نہیں ہوئی۔عدالت میں موجود وکیل جہانگیر جدون نے کہا کہ پیمرا نے کیبل آپریٹرز کو جیو نیوز کے نمبرز تبدیل کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔اس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دئیے کہ اس عدالت کے پاس ازخود نوٹس کااختیار نہیں ہے۔کسی کو تنقید سے گھبرانا نہیں چاہیے، یہ تو آگے بڑھنے کی کنجی ہے، آئینی عدالتیں اظہار رائے کی آزادی پر قدغن نہیں آنے دیں گی، جو پڑوسی ملک میں ہو رہا ہے وہ یہاں نہیں ہو گا۔عدالت نے کونسل آف نیوزپیپر ایڈیٹرز کو جواب داخل کرانے کی مہلت دیتے ہوئے سماعت 3 اپریل تک ملتوی کر دی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ

مزید : صفحہ اول