پیپلز پارٹی کے بانی رکن ڈاکٹر مبشر حسن انتقال کر گئے،لاہور میں سپرد خاک

  پیپلز پارٹی کے بانی رکن ڈاکٹر مبشر حسن انتقال کر گئے،لاہور میں سپرد خاک

  



لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی رکن ڈاکٹر مبشر حسن 98ویں برس کی عمر میں انتقال کر گئے، ڈاکٹر مبشر حسن کو نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد مقامی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ ڈاکٹر مبشر حسن کافی عرصے سے علیل اور زیر علاج تھے اور وہ گزشتہ روز ان کا 98برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ڈاکٹر مبشر حسن کی نماز جنازہ معروف عالم دین سید عدیل عباس نے پڑھائی۔ نماز جنازہ میں اعتزاز احسن،غلام مصطفی کھر،بیرسٹر سلمان اکرم راجہ،ڈاکٹر مہدی حسن،افتخار شاہد،اسلم گل، نوید چوہدری سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی نامور شخصیات نے شرکت کی۔ڈاکٹر مہدی حسن نے کہا کہ ڈاکٹر مبشر میرا بھائی تھا اور میرا نقصان سب سے زیادہ ہے،ان کی وفات سے ترقی پسند اور جمہوری قوتوں کو نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے۔اسلم گل نے کہا کہ ڈاکٹر مبشر حسن پیپلز پارٹی کے بانیوں میں سے تھے،پارٹی کے لوگ ان کی خدمات کو کبھی نہیں بھولیں گے،پارٹی کے لوگوں کو ان کی خدمات کا ادراک ہے۔ غلام مصطفی کھر نے کہا کہ ڈاکٹر مبشر حسن انتہائی ایماندار اور سچے انسان تھے۔ایک بار بھٹو صاحب نے پوچھا کہ میری بات پر یقین ہے کہ ڈاکٹر مبشر حسن کی جس پر میں نے جواب دیا کہ ڈاکٹر مبشر کی بات پر یقین کروں گا۔1967میں ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر پر پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی گئی اور وہ ذوالفقار علی بھٹو کی پہلی کابینہ میں وفاقی وزیر خزانہ بھی رہ چکے۔ڈاکٹر مبشر حسن 22 جنوری 1922ء کو مشرقی پنجاب کے علاقے پانی پت میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی اور سول انجینئرنگ میں گریجویشن کی۔ 1950ء میں امریکہ چلے گئے اور وہاں سے سول انجینئرنگ میں ماسٹر کیا۔ پاکستان واپس آنے کے بعد لاہور میں انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی میں بطور استاد فرائض سرانجام دئیے۔1967ء میں ڈاکٹر مبشر حسن کی رہائش گاہ پر کنونشن میں ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی، ذوالفقار علی بھٹو کی پہلی کابینہ میں ڈاکٹر مبشر حسن نے وفاقی وزیر خزانہ کا عہدہ سنبھالا، 1972ء میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے تحت ایٹمی منصوبے میں سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ 1974ء میں ذو الفقار علی بھٹو نے وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے امور کا مشیر مقرر کیا۔1976ء میں انہیں اڈیالہ جیل میں ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ رکھا گیا جہاں وہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد بھی 7 سال تک قید رہے۔ 1984ء میں ڈاکٹر مبشر حسن نے یو ای ٹی لاہور میں دوبارہ استاد کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں۔ 1988 میں بے نظیر بھٹو نے انہیں وزارتِ خزانہ کا قلمدان سنبھالنے کی پیش کش کی جسے انہوں نے بعض سیاسی اختلافات کے باعث رد کر دیا۔ ڈاکٹر مبشر حسن نے سیاست سے ریٹائرمنٹ اختیار کرلی تاہم اپنا قلمی جہاد جاری رکھا۔

ڈاکٹر مبشر حسن

مزید : صفحہ اول