کر ر ونا۔۔۔۔۔۔پی ایس ایل کا رستہ نہ روک سکا

کر ر ونا۔۔۔۔۔۔پی ایس ایل کا رستہ نہ روک سکا

  



کرونا وائرس نے جہاں پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے وہی کھیلوں کی سر گرمیاں بھی گلوبل سطح پر متاثر ہورہی ہیں اور اس وائرس کی وجہ سے یا تو کھیلوں کے ایونٹس ختم کئے جارہے ہیں، یا پھر محدود کئے جارہے ہیں پاکستان سپر لیگ جو پاکستان میں زور و شور سے جاری ہے اس کے شیڈول میں بھی تبدیلی کردی گئی ہے پاکستان کرکٹ بور ڈ نے ایونٹ کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے یہ ایونٹ اب چار روز قبل ہی ختم ہوجائے گا بائیس مارچ کے بجائے اب 18 مارچ بدھ کو ایونٹ کا فائنل میچ رکھا گیا ہے جبکہ اسی طرح سے اب پلے فار کے بجائے ڈائریکٹ سیمی فائنل مقابلے ہوں گے اور یہ دونوں سیمی فائنل میچز بھی لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں ہی ایک ہی روز منعقد کئے جائیں گے جبکہ دوسری طرف شائقین کرکٹ کا سٹیڈیم میں داخلہ پر بھی پابندی کا فیصلہ کیا گیا ہے کراچی کے بعد اب لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں بھی میچز کا انعقاد شائقین کی موجودگی کے بغیر ہوگا اور اس وجہ سے شائقین تومایوس ہی ہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھی اس سے بہت مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا، جبکہ دوسری طرف شائقین کے داخلہ پر لگنے والی پابندی سے بہت بڑا نقصان پاکستان کرکٹ بورڈ کو برداشت کرنا پڑے گا اور اس سے یقینی طور پر اس لیگ سے جو مالی فوائد حاصل ہونے تھے ان پر بھی واضح فرق پڑے گا ذرائع کے مطابق اس لیگ سے پاکستان کرکٹ بورڈ پہلے ہی وہ مالی فوائد حاصل نہیں کرسکا جس کا اس نے تخمینہ لگایا تھا او ر اب ان میچز میں شائقین کی پابندی سے مزید نقصان ہوسکتا ہے اور اس کے کھیل پر منفی اثرات مرتب ہوں گے،ذرائع کے مطابق نیشنل اسٹیڈیم میں طے شدہ میچز سے پی سی بی کو پاکستان سپر لیگ کے سینٹرل ریونیو پول میں کم از کم 100ملین پاکستانی روپے کی آمدنی کی توقع تھی لیکن اب پی سی بی اس سے محروم ہوگیا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ یہ رقم پاکستان کرکٹ بورڈ کو ٹکٹوں کی فروخت، میزبانی اور دیگر برینڈ ایکٹی ویشن کی مد میں حاصل ہونا تھی۔ اب پی ایس ایل کے سینٹرل پول کا یہ نقصان پاکستان کرکٹ بورڈ اور پی ایس ایل کی تمام فرنچائز کو پہلے سے طے شدہ فارمولے کے مطابق برداشت کرنا ہوگا۔ فارمولے کے مطابق سینٹرل پول میں پی سی بی کا حصہ 30 فیصد جب کہ 6 فرنچائززاسلام آباد یونائیٹڈ، پشاور زلمی، کراچی کنگز، کوئٹہ گلیڈی ایٹز، لاہور قلندرز اور ملتان سلطانزکا مشترکہ حصہ 70 فی صد ہوتا ہے۔یاد رہے کہ کراچی میں پی ایس ایل کے بقیہ 3 میچز اور ایک پلے آف میچ اب خالی اسٹیڈیم میں ہوں گے۔خدشہ ہے کہ اگر پنجاب میں بھی اس طرح کے معاملات رہے تو پی سی بی کا نقصان مزید بڑھ جائے گا۔جبکہ پاکستان سپر لیگ فائیو میں کراچی کنگز اور لاہور قلندرز کے میچ کے دوران چھکوں کی ٹرپل سنچری مکمل ہوگئی۔ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ چھکے لاہور قلندرز کے بلے باز بین ڈنک نے لگائے جو اب تک 23مرتبہ گیند کو بانڈری کے پار لگاچکے ہیں۔ڈنک نے سات میچوں میں اب تک 266 رنز کی اوسط اور 186کے اسٹرائیک ریٹ سے 266رنز بنا رکھے ہیں۔فہرست میں دوسرا نمبر اسلام آباد یونائیٹڈ کے آل رانڈر شاداب خان کا ہے جنہوں نے اب تک 15چھکے لگائے ہیں۔وہ 41.83کی اوسط اور 166.22 کے اسٹرائیک ریٹ سے مجموعی طور پر 251 رنز بناچکے ہیں۔شاداب کی ہی طرح اسلام آباد یونائیٹڈ کے کولن منرو نے 15 چھکے لگائے ہیں۔ وہ 35.42 کی اوسط اور 147.61 کے اسٹرائیک ریٹ سے ٹورنامنٹ میں 248 رنز بناچکے ہیں۔ جبکہ چیف ایگزیکٹو پی سی بی وسیم خان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں صورتحال مسلسل تبدیل ہورہی ہے جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان نے کہا کہ پی سی بی اور تمام ٹیموں کے مالکان نے اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے تمام کھلاڑیوں کو اپنی مرضی سے لیگ چھوڑنے کی اجازت دے دی ہے کیونکہ کھلاڑیوں کااعتماد اور یقین پی سی بی کے لیے سب سے اہم ہے۔چیف ایگزیکٹو نے کہا کہ وہ یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ فی الحال 10 کھلاڑیوں اور ایک کوچ کی جانب سے لیگ چھوڑنے کا فیصلہ اس لیے لیا گیا ہے کہ انہیں مستقبل میں فلائیٹ آپریشن معطل ہونے یا اپنے ممالک کے بارڈر بند ہونے کا خطرہ ہے جب کہ ہم ان تمام کھلاڑیوں کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنائیں گے اور دیگر کھلاڑیوں، اسپورٹ اسٹاف کے لیے بھی یہی پروٹوکول اپنایا جائے گا۔وسیم خان نے مزید کہا کہ ماضی کی طرح پی سی بی صورتحال کا مسلسل جائزہ لیتا رہے گا اور ایونٹ کے شرکاء کی حفاظت اور صحت سے متعلق کوئی بھی فیصلہ کرنے سے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔جبکہ کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر پاکستان سپر لیگ میں شریک غیر ملکی کھلاڑی اپنے وطن روانہ ہوگئے۔پشاور زلمی کے ویسٹ انڈین کھلاڑی کارلوس براتھ ویٹ، ملتان سلطانز کے رائیلی روسو بھی وطن روانہ ہوگئے۔اپنے الوداعی بیان میں روسو نے کہا کہ بد قسمتی سے پی ایس ایل کا مزید حصہ نہیں ہوں گا، ملتان سلطانز کی نمائندگی کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، پاکستانیوں کی میزبانی پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں، پی ایس ایل میں شرکت یادگار تجربہ رہا۔پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل ٹیمیں انٹرنیشنل پلیئرز کے بجائے مقامی کھلاڑیوں کو لے سکتی ہیں۔جبکہ دوسری جانب کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم میں شامل آسٹریلوی کرکٹر شین واٹسن نے اپنی انفرادی اور ٹیم کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بدقسمتی سے ہم پرفارم نہیں کر سکے۔کرکٹر شین واٹسن کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے ہم ایونٹ میں اچھا نہیں کھیل سکے ہیں، آغاز اچھا تھا لیکن اس مومنٹم کو برقرار رکھنے میں ناکام رہے۔ان کا کہنا ہے میں سمجھتا ہوں کہ دیگر ٹیمیں پہلے کی نسبت مضبوط ہوئی ہیں اور انہوں نے اچھے کھیل کا مظاہرہ کیا ہے، ایسے میں ہمارے لیے مایوس کن ہے کہ ہم اچھا نہیں کھیلے لیکن ہم سب کے لیے اس میں سیکھنے اور تجربہ حاصل کرنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ بولروں کے اچھا پرفارم نہ کرنے کی وجہ سے بیٹسمینوں پر دباو بڑھا ہے، اچھا نہ کھیلنے کی وجہ سے سب دبا وکا شکار ہوئے، ایسا نہیں ہے کہ ینگ بولرز اچھا نہیں کھیلے تو تجربہ کار اور سینئیر بیٹسمینوں دباو میں آئے اور وہ اچھا نہیں کھیلے، میں ایک بار پھر جیسا پرفارم کرنا چاہا رہا تھا میں ویسا نہیں کر سکا، میں اس طرح اپنا حصہ نہیں ڈال سکا جس طرح میں نے گزشتہ برس ڈالا تھا۔انہوں نے کہا کہ میں پچھلے سال صرف کراچی میں رہا لیکن پی ایس ایل فائیو کی وجہ سے مجھے پاکستان میں گھومنے کا موقع ملا، کراچی، لاہور، اسلام آباد اور ملتان جانے کا موقع ملا۔آسٹریلوی بلے باز نے کہا کہ پاکستان ایک خوبصورت ملک ہے، سیکیورٹی شاندار ہے، ہمارا بہت اچھا خیال رکھا جا رہا ہے، میری زندگی کا یہ ایک اچھا تجربہ ہے، میرا ہی نہیں دیگر غیر ملکی کھلاڑیوں کے لیے بھی یہ ایک اچھا تجربہ ہے۔شین واٹسن کہتے ہیں کہ میں اگر اپنی بات کروں تو مجھے یہاں انٹرنیشنل سیریز ہونے میں اب کوئی شک نہیں ہے، کرکٹرز ایسوسی ایشن، کھلاڑی یا کرکٹ آسٹریلیا کی کیا سوچ ہے، مجھے نہیں علم لیکن میں پر امید ہوں کہ پی سی بی اور کرکٹ آسٹریلیا سیریز کے حوالے سے ضرور بات چیت کر رہے ہیں اور مستقبل میں بھی کریں گے۔ان کا کہنا ہے میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں سیکیورٹی بڑی غیر معمولی ہے، کراوڈ کرکٹ کے حوالے سے بہت جذباتی ہے اور عوام میچز دیکھنا چاہتے ہیں۔جبکہ پاکستان سپر لیگ کی دفاعی چیمپئین کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کپتان سرفراز احمد نے کہا ہے کہ پی ایس ایل فائیو میں ابھی تک اچھی کرکٹ نہیں کھیل سکے ہیں۔اپنے ایک انٹرویومیں سرفراز احمد نے کہا کہ اس حوالے سے مینجمنٹ اپنا موقف دے چکی ہے، ہم پروفیشنل کرکٹرز ہیں اور ہم نے ابھی تک اچھی کرکٹ نہیں کھیلی جو کہ کھیلنی چاہیے تھی، بقیہ دو میچز میں جیتنے کی کوشش کریں گے اور دعا بھی کریں گے کہ وہ ٹیمیں اپنے میچز جیتیں جنہیں ہم جیتتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔کپتان سرفراز احمد کہتے ہیں کہ عمر اکمل کا ہمیں بہت نقصان ہوا ہے، ان پچز پر عمر اکمل جیسے بیٹسمین کی ضرورت تھی، اعظم خان کے ساتھ مڈل آرڈر میں عمر اکمل جیسے پاور ہٹر ہوتے تو اس کا بہت فائدہ ہوتا لیکن ان کی عدم موجودگی سے ہماری ٹیم کو بہت نقصان ہوا۔کوئٹہ گلیڈی ایٹرز میں نسیم شاہ اور محمد حسنین جیسے تیز رفتار بولرز شامل ہیں لیکن سرفراز احمد سمجھتے ہیں کہ ہمیں بولنگ میں ناتجربہ کاری کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے، محمد حسنین اور نسیم شاہ باصلاحیت تیز بولرز ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہیں پلان پر بھی عمل کرنا ہو گا جس کی کمی نظر آئی، ابھی وہ ناتجربہ کار ہیں، وہ جتنا کھیلیں گے ان کی کارکردگی میں نکھار آئے گا۔سرفراز احمد نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اور پاکستان کی پچز میں بھی بہت فرق ہے، یہاں بہت رنز بن رہے ہیں،کوالٹی پچز ہیں، ان بیٹنگ پچز پر تجربے کی بہت ضرورت ہوتی ہے اور یہ بولرز جتنا کھیلیں گے اتنا تجربہ آئے گا۔پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سرفراز احمد کہتے ہیں کہ میرا س وقت فوکس صرف پی ایس ایل پر ہے، میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے قومی ٹیم میں جگہ بنانے کے بارے میں نہیں سوچ رہا، جو قسمت میں لکھا ہوا وہ گا۔انہوں نے کہا کہ ابتدا میں میری کارکردگی اچھی تھی اور پی ایس ایل کے میچز سے اعتماد میں اضافہ ہوا، لیکن اس کے بعد کارکردگی تھوڑی خراب ہوئی، بیٹنگ آرڈر بدلنے سے بھی فرق پڑا لیکن میں پرامید ہوں کہ ابھی جو دو میچز باقی ہیں ان میں پرفارم کروں گا۔پاکستان سپر لیگ میں ملتان سلطانز کی نمائندگی کرنے والے انگلینڈ کے معروف آل راؤنڈر معین علی نے کہا ہے کہ پی ایس ایل میں ان کی شرکت کی ایک اہم وجہ پاکستان میں عالمی کرکٹ کی واپسی تھی۔معین علی نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ میں یہاں کا ماحول اور فرنچائز کرکٹ سے بھی لطف اندوز ہونا چاہتا تھا لیکن پی ایس ایل میں شرکت کی اصل وجہ یہ تھی کہ میں پاکستان میں دوبارہ کرکٹ ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتا تھا تاکہ ان کے شائقین بھی اچھے کھلاڑیوں کو سامنے کھیلتا ہوا دیکھ سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ میرے آباؤ اجداد کا پاکستان سے تعلق ہونے کی وجہ سے یہاں آنا اور آ کر کھیلنا ایک مختلف تجربہ ثابت ہوا، میرے والد بھی چاہتے تھے کہ میں یہاں آ کر کھیلوں، یہ تجربہ بہت شاندار رہا، میں نے یہاں جو تین میچز کھیلے، ان میں ماحول ناقابل یقین تھا اور یہ اب تک کا میرا سب سے بہترین تجربہ رہا۔

مزید : ایڈیشن 1