پشاور،کرونا کے خطرات،سکول، یونیورسٹیز بند،ہاسٹلز خالی

پشاور،کرونا کے خطرات،سکول، یونیورسٹیز بند،ہاسٹلز خالی

  



پشاور (سٹی رپورٹر)پشاور میں کرونا وائرس کے خطرہ کے باعث یونیورسٹی بند کرنے اور ہاسٹلز خالی کرنے کے بعد مختلف اضلاع کے طلبہ کو ابائی علاقوں میں واپس جانے کیلئے شدید دشواری کاسامنا کرنا پڑھ رہا ہے ہاسٹلز کے طلبہ سے ٹراسپورٹرز دگنے کرایہ اصول کرنے لگے جسکی وجہ سے نہ صرف پشاور کے مختلف علاقوں میں طلبہ اور ٹراسپورٹرز کے مابین لڑائی جگڑے ہوئے بلکہ طلبہ گھنٹوں اڈوں میں اپنے ابائی علاقوں کو جانے کے منتظر رہے تفصیلات ے مطابق پشاور کے نجی اور سرکاری جامعات ہاسٹلز میں مقیم گھروں کو واپس جانے کیلئے گھنٹوں گاڑیوں کا انتظار کرنے پر مجبور ہے ٹراسنپورٹرز نے خود ساختہ کریہ اصول کرنے کا بازار گرم کر رکھا ہے پشاور سے بنوں جانے کیلئے فی مسافر 1000روپے جبکہ کرک 750اور اسی طرح دیگر دوردراز اضلاع دیر،ملاکنڈ اور صوبای جانیوالے ہاسٹلز کے طلبہ سے ٹرانسپورٹرز من پسند کریہ لینے لگی جسکی وجہ سے طلبہ شدید پریشانی کا شکار ہے تاہم اس حوالے سے ضلعی انتظامیہ سارے صورت حال پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔مختلف جامعات کے ہاسٹلز میں مقیم طلبہ نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ خود ساختہ کرایے لینے والے ٹراسپورٹرز کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے،اسکے علاوہ شہر میں ٹیکسی سروس بھی طلبہ سے مہنگے کریہ لینے لگی۔

مزید : صفحہ اول