مہمند میں کرونا وائرس کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کے زیر صدارت اجلاس کا انعقاد

مہمند میں کرونا وائرس کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کے زیر صدارت اجلاس کا انعقاد

  



ضلع مہمند) نمائندہ پاکستان)مہمند، ہیڈکوارٹر غلنئی میں کرونا وائرس کے خطرات سے نمٹنے کیلئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سید سیف الاسلام کی سربراہی میں تمام محکمہ جات کے اعلیٰ سطح کا اجلاس۔اجلاس کمشنر پشاور اور ڈپٹی کمشنر مہمند افتخار عالم کے خصوصی ہدایت پر منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر حیات خان آفریدی اور محکمہ تعلیم کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر جدی خان خلیل کے علاوہ مختلف محکموں کے اہلکاروں نے شرکت کی۔اجلاس میں ہیڈکوارٹر غلنئی ہسپتال،یکہ غنڈ،مامد گٹ،خویزئی اور پنڈیالی میں کرونا وائرس کے متاثرہ لوگوں کے لئے سنٹرز قائم کئے گئے ہیں۔جبکہ اس کے علاوہ تمام تحصیلوں میں سرکاری سکولوں اور ہسپتالوں کے علاوہ سرکاری بلڈنگز بھی استعمال میں لائے جائینگے۔اب تک ڈسٹرکٹ مہمند میں ایک بھی کیس سامنے نہیں آیا ہے۔اخباری نمائندوں کو ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر حیات خان آفریدی نے بتایا کہ پڑانگ غار تحصیل میں 25 سالہ سکین اللہ ولد فقیر محمد سکنہ نوے کلے غیر قانونی طریقے سے ایران کے راستے ترکی جارہا تھا وہاں سے ان کو واپس کیا گیا۔جس کامعائنہ روزانہ کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، تاہم اس میں کرونا وائرس موجود نہیں ہے۔حیات آفریدی کا کہنا تھا کہ ڈسٹرکٹ مہمند احتیاطی تدابیر کے بناء پر اقدامات کر رہے ہیں۔ضلع میں اب تک کوئی کیس موجود نہیں ہے لیکن عوام کو اختیاطی تدابیر اپنانے چاہئے۔معلومات اور علاج کے لئے ان سنٹرز سے رابطہ کریں۔ تاکہ بروقت علاج ہوسکے ان کا کہنا تھا اس وائرس سے دو فیصد اموات کا خطرہ ہے اسلئے عوام ذیادہ ہجوم میں جانے سے گریز کریں اور زکام کی صورت میں ماسک کا استعمال کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ مہمند ڈسٹرکٹ میں مختلف ڈاکٹروں کے ٹیمیں تشکیل دیا گیا ہے جس میں عام لوگوں کو کرونا وائرس،پولیو اور ڈینگی مختلف معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پیر کے دن 16 مارچ سے 5 روزہ پولیو مہم کا آغاز ہوگا جس میں تمام اقوام کو مدد کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔مہمند میں تحصیل صافی کے علاقہ ساگی کے 70 فیصد لوگ چین اور گلگت میں تجارت کرتے ہیں جس میں سے کرونا وائرس کی خطرات کا خدشہ ہے۔مہمند ڈسٹرکٹ میں بھی کھیلوں،سکولوں اورہجوم بنانے پر پابندی عائد کردی گئی۔

مزید : پشاورصفحہ آخر