بھار ت میں کورونا وائرس سے متاثرہ شخص کی بیوی حکام سے بچ کر بھاگ نکلی

بھار ت میں کورونا وائرس سے متاثرہ شخص کی بیوی حکام سے بچ کر بھاگ نکلی
بھار ت میں کورونا وائرس سے متاثرہ شخص کی بیوی حکام سے بچ کر بھاگ نکلی

  



نئی دہلی(ڈیلی پاکستان آن لائن)بھار ت میں کورونا وائرس سے متاثرہ شخص کی بیوی حکام سے بچ کر بھاگ نکلی اوربنگلور سے دہلی پہنچ گئیں اوروہاں سے بذریعہ فضائی سفر اپنے سسرالی گھرآگرہ جاپہنچیں۔بھارتی اخباربزنس ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق آگرہ جانے والی یہ خاتون خود بھی کرونا وائرس سے متاثرہ ہیں۔

نئی دہلی سے فرار ہونے والی یہ خاتون گوگل کمپنی کے ایک عہدیدارکی بیوی ہیں جن میں 7مارچ کوکرونا وائرس کی تشخیص ہوئی۔یہ جوڑا حال ہی میں یورپ میں کرونا وائرس سے متاثرہ یورپ کے سب سے بڑے ملک اٹلی میں اپنا ہنی مون مکمل کرکے واپس آیاتھا۔

محکمہ صحت کے ملازمین نے خاتون تک رسائی حاصل کی اور اسے علاج کیلئے قائل کرنے کی کوشش کی تاہم انہوں نے بھرپور مزاحمت کی جس پر پولیس اور ضلعی مجسٹریٹ نے مداخلت کی اور اسے تعاو ن کیلئے آمادہ کیا۔

محکمہ صحت کے اہلکاروں کے مطابق جب وہ خاتون کے گھر پہنچے تو اس کے والد نے جو کہ ایک ریلوے انجینئرہیں جھوٹ بولا کہ وہ واپس بنگلور چلی گئی ہیں تاہم جب پولیس اور ضلعی مجسٹریٹ نے مداخلت کی تو انہیں خاتون تک رسائی ملی۔ حکام کے مطابق اس گھر میں نو افرادمقیم تھے جنہیں سکریننگ کیلئے ہسپتال منتقل کردیاگیاہے۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق اس جوڑے کی فروری کے شروع شادی ہوئی تھی جس کے بعد یہ اٹلی چلے گئے تھے ۔وہاں سے انہوں نے فرانس اور یونان کا بھی سفر کیااور ستائیس فروری کو واپس لوٹے۔بنگلور آنے پر وہ قرنطینہ میں چلے گئے ، مذکورہ خاتون ایس این میڈیکل کالج کے آئسولیشن وارڈ میں تھیں پھر وہاں سے فرار ہوکر آٹھ مارچ کو اپنے والدین سے بات چیت کیلئے آگرہ چلی گئی۔دوسری جانب گوگل کمپنی کا کہنا ہے کہ پچیس سالہ خاتون کے شوہر میں کرونا وائرس کی تشخیص سات کو نہیں بلکہ 12مارچ کو ہوئی تھی، اور جب وہ خاتون وہاں سے گئی تھیں تو اس وقت تک کورونا وائرس کی تشخیص نہیں ہوئی تھی۔

مزید : بین الاقوامی