ننانوے فیصد پاکستانی خواتین کا موقف بھی سناجائے!!!

ننانوے فیصد پاکستانی خواتین کا موقف بھی سناجائے!!!
ننانوے فیصد پاکستانی خواتین کا موقف بھی سناجائے!!!

  

پاکستان میں گزشتہ دنوں بچوں کے تحفظ کےلیے زینب الرٹ بل منظور کیاگیا۔ بل کا مقصد اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کے زیادہ زیادتی اور قتل کے واقعات کا سدباب کرنے کےلیے میکنزم تشکیل دینا تھا۔ پاکستان کے 99% عوام بچوں سے زیادتی اور قتل کے مجرم کےلیے " سزائے موت " کے حق میں تھے۔ علماء اکرام کی واضح اکثریت بھی بچوں سے زیادتی کے بعد قتل کرنے والوں کےلیے " قصاص "کی شریعی سزا کے حق میں تھی  کیونکہ اسلامی نقطۂ نگاہ سے قاتل کو " قصاص " کی سزا معاف کرنے کی اور کوئی صورت نہیں جب تک کہ مقتول کے ورثاء " دیت " قبول کرکے معاف نہ کردیں ۔ گویا " قصاص " زیادتی کے بعد قتل ہونے والے بچوں کے ورثاء کا ایک شریعی حق ہے۔

مجھے بڑی حیرت یہ جان کر ہوئی کہ نام نہاد " عورت مارچ " کے حمایتیوں نے زینب الرٹ بل کی تیاری کے مرحلہ پر ہی یہ حق چھین لیا۔ یہ حق چھیننے والے وہی لبرل ہیں جو مادرپدر آزاد معاشرے کےلیے بلند کیے گئے " میرا جسم , میری مرضی " کے نعرےکے درپردہ ایجنڈے سے مکمل آگاہی کے باوجوداس کےخلاف مزاحمت نہیں کرنا چاہتے مگر ٹھیک یہ ہی لبرل جو ہروقت " انسانی حقوق " اور " حقوق نسواں " کے علمبردار بنےرہتےہیں عین موقع پر عورتوں اوربچوں سے وہ حق بھی چھین کرلےگئےجو مذہب اسلام نےدیاتھا ۔ عجیب تماشابرپاہےکہ آزادی دلانے کےدعویدار ہی حقوق چھین رہےہیں۔

بھئی لبرل طبقےسےکوئی پوچھےکہ زیادتی کےبعدقتل ہونےوالےبچےکا" قصاص "لینےکا ورثاء کوحاصل شرعی حق سلب کرنےکااختیارآپ کوکس نےدیاتھا ؟ ؟؟ بتایاجارہاہے کہ جب زینب الرٹ بل قائمہ کمیٹی میں تھا تو بلاول بھٹو زرداری نے " قصاص " کی مخالفت کی تھی ۔یہ ہی بلاول بھٹو زرداری ہیں جوکہ " عورت مارچ " کی حمایت کرچکےہیں،اگردیکھاجائےتو دراصل " میرا جسم میری مرضی " کا نعرہ ایک مغربی نعرے " My Body My Choice " کا چربہ ہے اور "Robin Stevenson " نامی ایک مصنف نے اس پر ایک کتاب بھی تحریرکی ہے۔ اس تمام تر کاوش کا حقوق نسواں سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ یہ قبل از شادی حاملہ ہونے والی خواتین کے " اسقاط حمل " کو قانونی حثیت دلوانے کےلیے کی گئی تھی۔

پاکستان میں بھی صورتحال اس سے مختلف نہیں ہے "میراجسم میری مرضی " کا نعرہ صرف اور صرف " نکاح اور ازدواجی زندگی سے فرار , اسقاط حمل اور ہم جنس پرستی کو قانونی حثیت دلوانے کی ایک درپردہ کاوش ہے اور ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت پاکستانی خواتین کو " خاندانی نظام " کے خلاف اکساکراس کا شیرازہ بکھیرنے اور ایک مادرپدر آزاد معاشرے کی بنیاد ڈالنے کی چال ہے اور اس مقصد کےلیے پاکستان کی مٹھی بھر لبرل خواتین کو مبینہ طورپر این جی اوز کے نام پر اسلام اور پاکستان دشمن ممالک کی جانب سے فنڈنگ بھی ہورہی ہے جسےپاکستان کی 99% خواتین نےبھی اس طرزِ فکرکومسترد کردیاہے۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -