ذخیرہ اندوز معاشرے کے گندے اور بدترین لوگ ہیں،حکومت ڈرنے کی بجائے۔۔۔علامہ طاہر اشرفی نے مصنوعی مہنگائی کے خاتمے ایسا حل پیش کر دیا کہ ہر کوئی حمایت کرے گا

ذخیرہ اندوز معاشرے کے گندے اور بدترین لوگ ہیں،حکومت ڈرنے کی بجائے۔۔۔علامہ ...
ذخیرہ اندوز معاشرے کے گندے اور بدترین لوگ ہیں،حکومت ڈرنے کی بجائے۔۔۔علامہ طاہر اشرفی نے مصنوعی مہنگائی کے خاتمے ایسا حل پیش کر دیا کہ ہر کوئی حمایت کرے گا

  



لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین علامہ حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ کرونا وائرس ایک خطرناک وبا ہے لیکن اس سے گھبرانے کی نہیں احتیاط کی ضرورت ہے ،روز مرہ عام استعمال کی اشیاء مہنگی کرنے والے اللہ سے ڈریں، ذخیرہ اندوز اس قوم کا مافیا  ہیں جو اس معاشرے کے گندے اور بدترین لوگ ہیں،حکومت ڈرنے کی بجائے دو چار بڑے ذخیرہ اندوزوں کو پکڑ کر لٹکا دے،معاملات ٹھیک ہو جائیں گے۔

نجی ٹی وی چینل ’’نیو نیوز‘‘ کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے علامہ حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ کرونا وائرس ایک خطرناک وبا ہے لیکن اس سے گھبرانے کی نہیں احتیاط کی ضرورت ہے،احتیاطی تدابیر کو اختیار کرنا اللہ پر توکل کے خلاف نہیں اور نہ ہی شریعت کے خلاف ہے،لوگ  ذکر اذکار بھی کریں، توبہ بھی کریں ، آیت کریمہ اور درود شریف کی کثرت بھی کریں اور اس کے ساتھ ساتھ احتیاطی تدابیر اور علاج بھی کریں ،اللہ کے رسول ﷺ نےہمیں حکم دیا ہے کہ ہم احتیاطی تدابیر بھی کریں جیسے آپﷺ نے فرمایا جہاں طاعون پھیل جائے تو  طاعون والے باہر نہ جائیں اور باہر والے جہاں طاعون ہو وہاں نہ آئیں ،یہ احتیاطی تدبیر ہے ، اسی طرح اور امراض کے بارے میں بھی بتایا گیا ،ہمیں احتیاطی تدبیر بھی کرنی چاہئے ،اللہ سے معافی بھی مانگنی چاہئے،یہ ایک وباء اور بیماری ہے جس کا مقابلہ ہم نے ہمت اور حوصلے سے کرنا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت سیاست نہیں بلکہ تعاون ہونا چاہئے،حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ جو کر سکتی ہےکرے جبکہ اصحاب خیر کی ذمہ داری ہے کہ وہ سڑکوں ،چوکوں ،چوراہوں اور محلوں میں سنیٹائزر اور صابن اور دیگر حفاظتی چیزیں مہیا کریں ۔

علامہ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ اللہ کا خوف ختم ہو چکا ہے،اگر خدا کا خوف ہوتا تو یہ وبا آتی ہی نہ،مجھے اسلام آباد اور لاہور سے کچھ لوگوں نے رسیدیں بھیجی ہیں کہ سنیٹائزر جو  پہلے150 روپے کا تھا اب 250 کا ہو چکا ہے،آج سے چند دن پہلے میں اس حوالے سے  وزیر اعظم عمران خان اور دیگر حکومتی ذمہ داران سے بھی عرض کر چکا ہوں،میں سمجھتاہوں کہ حکومت کو سب سے زیادہ اس طرف توجہ دینی چاہئے،ذخیرہ اندوز مافیا اگر روز مرہ کی اشیاء ذخیرہ کرنا شروع کر دے تو پھر کیا کریں گے آپ؟ابھی رمضان تو مہینے کے بعد ہے لیکن مجھے خوف ہے اور میں دیکھ رہا ہوں ،صابن سے لے کر سنیٹائزر تک ہر چیز مہنگی ہو چکی ہے، ذخیرہ اندوز اس قوم کا مافیا  ہیں جو اس معاشرے کے گندے اور بدترین لوگ ہیں ،یہ یاد رکھیں یہ اللہ کا اصول ہے اور میں یہ بات شریعت اسلامیہ کے حوالے سے کہہ رہا ہوں کہ جو اس طرح کے ذخیرہ اندوز ہیں وہ باز نہ آئے تو یاد رکھیں کہ وہ خود ان حالات کا شکار ہو جائیں گے،روز مرہ عام استعمال کی اشیاء مہنگی کرنے والے اللہ سے ڈریں ، میں وفاقی حکومت ،پنجاب حکومت اور باقی حکومتوں سے ہاتھ جوڑ کر کہنا چاہتا ہوں کہ وہ ڈرنے کی بجائے اس طرح کے دو چار بڑے ذخیرہ اندوزوں کو پکڑ کر لٹکا دیں، معاملات ٹھیک ہو جائیں گے۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور