جوہری جنگ اور اس کا انجام    (1)

        جوہری جنگ اور اس کا انجام    (1)
        جوہری جنگ اور اس کا انجام    (1)

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  ایک وقت تھا  کہ TIME اور NEWS WEEK انگریزی زبان کے دو ایسے ہفتہ واری میگزین تھے کہ جن کا مطالعہ پاکستان آرمی کی آفیسرز کلاس کے لئے پیشہ ورانہ مشاغل کا ایک جزو لازم شمار کیا جاتا تھا۔ اب تو بیشتر ملٹری میس (Mess) تقریباً ویرانی کا منظر پیش کرتے ہیں۔ یہ عمارات تو موجود ہیں لیکن ان کے مکین جو تین چار عشرے پہلے شام ہوتے ہی سوٹ بوٹ پہن کر میسوں کی راہ لیتے تھے وہ نجانے کیوں دبک کر رہ گئے ہیں۔

کہا جاتا تھا کہ جب سے ٹیلی ویژن کی ایجاد نے ہر گھر میں بسیرا کرلیا، ملٹری میسوں کی رونقیں اول اول تو ماند پڑنے لگیں لیکن بعد میں جب موبائل سمارٹ فون تشریف لے آئے تو گویا قصہ ہی ختم ہو گیا۔

ہر ملٹری میس (Mess) میں جب تک کمانڈنگ آفیسر/ کمانڈانٹ تقریباً روزانہ آتے جاتے رہے یہ ملن گاہیں آباد رہیں۔ بعض کمانڈنگ آفیسر اپنے ماتحت/ جونیئر افسروں کی ہمہ جانبی ٹریننگ کا اہتمام کرنے کے لئے ٹائم اور نیوزویک جیسے رسالوں میں چھپنے والے مضامین پر بحث و مباحثہ کا آغاز کیا کرتے تھے۔ یونٹ / فارمیشن کے قصے، میسوں میں بیٹھ کر ڈسکس کرنا Taboo گردانا جاتا تھا۔ سارا زور معلوماتِ عامہ کے حصول پر صرف کیا جاتا تھا۔ سیاسیات پر بات چیت، تبصرے اور تجزیئے وغیرہ بھی ملٹری میسوں میں حدود باہر (Out of Bounds) گردانے جاتے تھے۔ رات گئے تک شطرنج، برج اور بلیرڈ کے مخصوص کمرے آفیسرز کلاس سے گویا اَٹے رہتے تھے۔ مجھے معلوم نہیں کہ یہ اندازِ بودوماند برٹش آرمی کی دین تھی یا پاک آرمی/ نیوی/ ایئر فورس کی آفیسرز کلاس کی پیشہ ورانہ ٹریننگ کا حصہ تھی لیکن جب سے یہ ملن گاہیں بے رونق اور بے آباد ہوئی ہیں، ملٹری کلچر کا یہ خصوصی تانا بانا بکھر کے رہ گیا ہے۔ فیلڈ یونٹوں اور فارمیشن ہیڈکوارٹروں کے گنے چنے Mess اگرچہ ماضی کی یادیں تازہ کرنے کا ایک جبری وسیلہ بن گئے ہیں لیکن میرے خیال کے مطابق پھر بھی یہ کوئی مستحسن روائت نہیں کہ ملٹری کی ساکن تنصیبات کے میسوں میں پہلی سی اقدار کو فراموش کر دیاجائے۔ لیکن چونکہ زمانہ بدلتا ہے  اور یہ تبدیلی ایک ناگزیر حقیقت بھی ہے، اس لئے اس تغیر کو نہ چاہتے ہوئے بھی گلے لگانا پڑتا ہے۔

یہ تمہید اس لئے باندھنی پڑی ہے کہ ہمارے دور میں ہمارے کمانڈنگ آفیسرز باقاعدہ ٹائم اور نیوز ویک کا خود مطالعہ کرکے نہ صرف بین الاقوامی دفاعی موضوعات پر نقد و نظر کا ڈول ڈالا کرتے تھے بلکہ ان میگزینوں میں شائع ہونے والے بعض مضامین (Articles) پر تبصرہ کرنے کی دعوت بھی دیا کرتے تھے اور اس ایکسرسائز کو زیرِکمانڈ آفیسرز کی تعلیم و تربیت کا ایک جزو خیال کیا جاتا تھا۔ میں آج بھی یہ دونوں میگزین جہاں دیکھتا ہوں خرید کر پڑھنے کی پرانی عادت کو تازہ کر لیتا ہوں۔ اگرچہ آج اِن رسالوں کی وہ اہمیت نہیں رہی جو ہمارے زمانے میں ہوتی تھی لیکن اب بھی ایک آدھ مضمون ایسا پڑھنے کو مل جاتا ہے جو اردو زبان میں شائع ہونے والے کسی رسالے یا اخبار میں بھولے سے بھی دیکھنے کو نہیں ملتا۔

چند روز پہلے TIMEہی میں ایک لکھاری کا وہ مضمون پڑھنے کا اتفاق ہوا جو ”مستقبل قریب میں جوہری جنگ“ کی ممکنہ تباہ کاریوں پر تھا۔ اس کی تفصیل اس قدر ہولناک تھی کہ میں اگرچہ ایک عرصے سے ان موضوعات پر کچھ نہ کچھ مغزماری کرتا رہتا ہوں لیکن اس لکھاری نے تو جوہری جنگ کے انجام کا ایسا خوفناک نقشہ کھینچا ہے کہ جو حد درجہ قابلِ توجہ ہے۔ لیکن اس آرٹیکل میں جوہری جنگ کی جو اصطلاحیں استعمال کی گئی ہیں ان سے ہمارے اردو کے قارئین کو ترجمہ کرکے بتانا بھی گویا آسمان کے تارے توڑ لانے کے مترادف ہے…… ہم پاکستان میں دن رات اپنی داخلی سیاست کے حسن و قبح پر بحث کرتے رہتے ہیں لیکن یہ نہیں سمجھتے کہ پاکستان بھی دنیا کے نو(9)جوہری ممالک میں سے ایک ہے اور وہ بھی جوہری بم کی تباہ کاریوں میں برابر کا شریک ہوگا۔

ٹائمز (Times) میں شائع ہونے والے اس تازہ ترین آرٹیکل کی مصنفہ کا نام کیتھلین کنگز بری (Kathleen Kingsbury) ہے اور اس کے آرٹیکل کا عنوان ہے ”ایک نئے جوہری عہد کا سامنا“…… اس کا افتتاحی پیراگراف یہ ہے:

”ایک طویل عرصے سے جوہری جنگ کا خطرہ بنی نوعی انسان کے سروں پر منڈلا رہا ہے۔ اگر ہم آج تک اس جنگ سے بچے ہوئے ہیں تو یہ محض ہماری خوش نصیبی ہے یا یہ کہئے کہ ہماری سیاسیات کے موضوع پر ایک حقیقت پسندانہ عالمی پالیسی ہے۔ لیکن وہ قدیم حفاظتی اقدامات کہ جنہوں نے ہمیں ”سردجنگ“کے دور میں جنگ سے بچائے رکھا، وہ ختم ہوگئے ہیں۔ دنیا کی جوہری طاقتوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بات بھی قابل غور ہے کہ یہ نئی جوہری طاقتیں اس احتیاط پسندی کا مظاہرہ نہیں کر رہیں جو پرانی (اور پہلی) طاقتیں کیا کرتی تھیں۔ ہم اپنی اگلی نسل کی ہلاکت کا سامان کررہے ہیں۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ دنیا صرف ایک بٹن دبانے کی سرحد تک آ پہنچی ہے۔ لیکن ہمارے رہنماؤں کو خبر ہی نہیں کہ وہ کس آتش فشاں کے دہانے پر بیٹھے ہیں …… اس روشِ خیال کو تبدیل ہونا چاہیے۔“

مسز کیتھلین نے جس ”روشِ خیال“ کی تبدیلی کا ذکر کیا ہے اس کا ”جواب“ آج کے پاکستانی اخبار میں شائع ہونے والی ایک خبر میں دے دیا گیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبون میں 14مارچ 2024ء کو صفحہ نمبر10پر جو خبر AFP کے حوالے سے شائع ہوئی ہے وہ دراصل دو روز پہلے رشین ٹی وی (RT) پر آ چکی ہے۔ اس خبر کا عنوان دیکھئے: ”روس، جوہری جنگ کے لئے تیار ہے: پیوٹن“۔

اس خبر کا پہلا پیراگراف اس طرح شروع ہوتا ہے: ”صدر پیوٹن نے ماسکو کے جوہری ترکش کی تعریف کی ہے اور وارننگ دی ہے کہ اگر روس کی آزادی اور خود مختاری کو کوئی خطرہ لاحق ہوا تو روس اپنے جوہری ہتھیاروں کو صف بند (Deploy) کرنے سے گریز نہیں کرے گا“۔

صدر پوٹن ایک عرصے سے کہتے چلے آ رہے ہیں کہ جوہری جنگ کا خطرہ حقیقی ہے۔ دوسال پہلے جب یوکرین کے ساتھ روس کی جنگ شروع ہوئی تھی (فروری 2022ء میں) تو تب بھی روسی صدر کا کہنا تھا کہ روس کو گھیرنے کی کوشش نہ کرو وگرنہ جوہری جنگ کے لئے تیار ہو جاؤ۔ ان کا یہ بیان ریکارڈ پر ہے: ”ہم اپنے ہتھیار استعمال کرنے کے لئے تیار ہیں اور ان میں ہر طرح کا ہتھیار شامل ہے۔ اگر روس کی بقاء کا کوئی مسئلہ درپیش ہوا یا ہماری آزادی کو کوئی خطرہ لاحق ہوا تو ہم جوہری اسلحہ کو ضرور استعمال کریں گے۔“(جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -