حکمران کیسے ہونے چاہئیں؟ (2)

حکمران کیسے ہونے چاہئیں؟ (2)
حکمران کیسے ہونے چاہئیں؟ (2)

  

وزارت تنفیذ: جس طرح اِس وزارت کا اقتدار و اختیار کم ہے، اِسی طرح اس کے لئے شرائط بھی کم ہیں، کیونکہ اس منصب کی کار گزاری امام (یعنی صدر) کی رائے اور تدبیر پر موقوف ہے اور یہ وزیر، امام اور اس کی رعایا اور والیوں کے درمیان محض ایک ذریعہ یا واسطہ ہوتا ہے، اس کا کام صرف یہ ہے کہ امام جو ہدایتیں اور احکام دے، انہیں وہ نافذ و ساری کر دے، دوسرے عہدیداروں کے تقرر، فوجوں کی تیاری، واقعات حاضرہ اور حادثات فاجعہ سے امام کو مطلع کرتا رہے اور اُن کے متعلق امام سے احکام حاصل کر کے انہیں جاری کرے، اس کاکام ہدایات کی تعمیل ہے، ہدایت نہیں۔ اس وزارت کے صرف دو فرائض ہیں، ایک یہ کہ اہم خبریں صدر تک پہنچا دے، دوسرے جو صدر حکم دے، اسے رعایا تک پہنچادے ۔اس عہدے کے لئے سات صفات کے وجود کا لحاظ کیا جاتا ہے:(1) امانت تاکہ جو بات اس سے کہی جائے، اس میں خیانت نہ کرے اور جس خیر خواہی کی اس سے توقع کی گئی ہے، اسے ملوث نہ کر دے،(2) صدق لہجہ ہو تاکہ ہر قسم کے احکام میں اس پر پورا بھروسہ کیا جائے،(3) یہ کہ لالچی نہ ہو، اگر لالچی ہوا تو رشوت لے کر طرف داری کرے گا یا احکام کی تعمیل میں التوا کر دے گا، (4) یہ کہ اس میں اور عوام میں کوئی بغض و عداوت قائم نہ ہو، کیونکہ عداوت، انصاف و عدل دونوں سے روکتی ہے،(5) یہ کہ مرد ہو، تاکہ وہ ہر بات خلیفہ تک پہنچائے اور ا سے جو احکام ملیں، انہیں رعایا تک پہنچا دے۔ یہ خلیفہ کے لئے گواہوں کی حیثیت رکھتے ہیں، (6) ذکاوت و ذہانت کا مالک ہو تاکہ وہ احکام کو اچھی طرح سمجھ لے کہ ان پر ان کی غرض و غایت پوری طرح واضح ہو، اگر ایسا نہیں ہو گا تو بڑی خرابیاں پیدا ہو جائیں گی، (7) یہ کہ وہ عاشق مزاج اور شوقین نہ ہو، کیونکہ یہ باتیں حق سے باطل کی طرف لے جاتی ہیں اور ایسے شخص کے لئے سچ اور جھوٹ میں امتیاز مشکل ہو جاتا ہے، کیونکہ محبت عقل کو معطل کر دیتی ہے اور صحیح راستے سے ہٹا دیتی ہے، (8) یہ کہ مدبر اور تجربہ کار ہو۔ اس منصب پر کوئی عورت فائز نہیں ہو سکتی۔ اِس لئے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

ترجمہ: اس قوم نے فلاح نہیں پائی، جس نے اپنی حکومت کسی عورت کے حوالے کر دی، علاوہ بریں اس عہدے کے لئے رائے حاصل کرنے کی قوت اور ثبات عزم کی ضرورت ہے، جس میں عورتیں عاجز ہیں، نیز انہیں تمام کام خود انجام دینا پڑیں گے اور اس وجہ سے علانیہ باہر نکلنے کی ضرورت ہے، جس کی انہیں ممانعت ہے۔ الحاصل وزیر تفویض خود ہی احکام نافذ کر سکتا ہے، دوسرے یہ کہ وزیر تفویض کو سرکاری عہدیدار مقرر کرنے کا حق ہے، مگر وزیر تنفیذ کو یہ حق حاصل نہیں، تیسرے یہ کہ وزیر تفویض تمام فوجی اور جنگی انتظامات خود کر سکتا ہے۔ وزیر تنفیذ کو اس کا حق حاصل نہیں ، چوتھے یہ کہ وزیر تفویض کو خزانے پر اقتدار حاصل ہے وہ سرکاری مطالبہ وصول کر سکتا ہے اور سرکار پر جوو اجب الادا ہے، اسے ادا کر سکتا ہے ،یہ حق بھی وزیر تنفیذ کو حاصل نہیں۔ ان کے علاوہ ان دونوں عہدوں کے اختیارات اور شرائط تقریباً یکساں ہیں۔

وزیر میں کیا صفات ہونی چاہئیں: وہ عفیف اور وضعدار ہو، مہذب و تجربہ کار ہو، اسرار حکومت کا امین ہو، مشکل سے مشکل کاموں میں مستعد ہو، جس کے سکوت سے حلم اور گفتگو سے علم نمایاں ہو، صرف آنکھ کے اشارے سے وہ بات سمجھ جائے اور ایک لمحے کی مدت ہی اس کے لئے کافی ہو، اس میں امرا کا سا دبدبہ ہو، حکماءکی سی دُور اندیشی، علماءکی سی تواضع اور فقہاءکی سی سمجھ ہو، اگر اس پر احسان کیا جائے تو وہ ممنون ہو، اگر کسی تکلیف میں مبتلا ہو تو صبر کرے، وہ آج کے فائدے کو کل کے نقصان کی وجہ سے ضائع نہ کر دے، وہ اپنی چرب زبانی اور فصاحت سے قلوب کو موہ لے۔ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ یہ تمام اوصاف کسی ایک شخص میں جمع ہو جائیں اور اگر ایسا ہو جائے، تو اس کے انتظام کی خوبی ہر شے میں پائی جاتی ہے۔ اگر ان شرائط میں کمی ہو گی تو اسی نسبت سے انتظام حکومت میں بھی خلل واقع ہو گا۔

طلب حکومت میں مضرات:حضرت عبدالرحمن بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ، حضور اکرمﷺ نے مجھ سے فرمایا:نہ مانگو، کیونکہ اگر طلب سے حکومت دیئے گئے تو تم اس کے حوالے کر دیئے جاﺅ گے اور اگر بغیر طلب کے حکومت دیئے گئے تو اس پر تمہاری مدد کی جائے گی.... (مسلم، بخاری)۔ حضرت ابو ذر ؓ کہتے ہیں کہ مَیں نے ایک بار رسول اللہﷺ سے عرض کی کہ کیا آپ مجھے کہیں عامل، (حاکم) نہیں بنا دیتے؟ رسول اللہﷺ نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے فرمایا:اے ابو ذر تم کمتر و ناتواں ہو اور بے شک حکومت ایک امانت ہے اور روزِ قیامت ذلت و رسوائی کا باعث ہے۔ ہاں اگر اس فریضے کو عدل و انصاف سے ادا کرے اور اپنی ذمہ داری کو خوب نبھائے تو رحمت الٰہی اس کی دستگیری کرے گی۔ گویا حکمرانی کا اہل وہی شخص ہے جو ایمان، اخلاق، علم و حکمت، عفوو درگزر، تدبر و تفکر جیسی اعلیٰ صفات سے مُتصف ہو۔ جاذب نظر شخصیت، سیاسی، سماجی، معاشرتی اور اعلیٰ قائدانہ صلاحیتیں رکھتا ہو۔ قرآن و سنت پر سختی سے عمل کرنے والا ہو۔ یہود و نصاریٰ سے دوستی نہ رکھتا ہو۔ جیسا کہ سورة المائدہ نمبر5 آیت نمبر 51 میں رب العزت کا ارشاد ہے:” اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناﺅ۔ یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں اور جو شخص تم میں سے ان کو دوست بنائے گا، وہ بھی انہی میں سے ہو گا۔ بے شک اللہ تعالیٰ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا“۔ یا د رہے ہنود بھی انہی کے قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔

حدیث شریف میں ہے کہ ابو ہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جس نے مسلمانوں پر قاضی (حاکم) کے عہدے کی طلب و جستجو کی، یہاں تک کہ وہ اسے حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا اور پھر اس کا عدل و انصاف اس کے ظلم و ستم پر حاوی رہا، تو اس کے لئے جنت ہے اور جس کا ظلم و ستم اس کے عدل و انصاف پر چھایا رہا تو اس کے لئے جہنم ہے: اس بارے میں قرآن کریم میں سورة الحج نمبر22 آیت نمبر41 میں ارشاد ہے:”یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم ان کو ملک میں دسترس دیں تو نماز قائم کریں اور زکوٰة کا نظام بحال کریں، نیک کام کرنے کا حکم دیں اور بُرے کاموں سے منع کریں اور سب کاموں کا انجام اللہ ہی کے اختیار میں ہے“۔ (جاری ہے) ٭

یہ آیت اسلامی حکومت کے قیام میں نہایت اہمیت کی حامل ہے، مگر افسوس جب سے پاکستان انہی وعدوں کی بنیاد پر قائم ہوا، اس پر کبھی بھی سنجیدگی سے عمل نہیں کیا گیا۔ اگر یہ دونوں نظام پوری سختی سے قائم ہو جائیں، تو ہماری سماجی اور اخلاقی کمزوریاں دُور ہو جائیں اور غربت اور افلاس کی جگہ خوشحالی کا دور دورہ شروع ہو جائے۔ جب یہ دونوں نظام اپنی اصل روح کے مطابق قائم و دائم ہو جائیں، تو پھر تعمیری منصوبوں پر عمل درآمد کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

الرجال قوامون علی النسائ: مرد محافظ نگران ہیں۔ یہ الفاظ ہیں سورة النساءنمبر34کے۔ پوری آیت کا ترجمہ: مرد محافظ و نگران ہیں عورتوں پر اس وجہ سے فضیلت دی ہے اللہ تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں پر اور اس وجہ سے کہ مرد خرچ کرتے ہیں اپنے مالوں سے.... (عورتوں کی ضرورت اور آرام کے لئے).... تو نیک عورتیں اطاعت گزار ہوتی ہیں، حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں۔ مردوں کی غیر حاضری میں اللہ کی حفاظت سے اور وہ عورتیں اندیشہ ہو تمہیں جن کی نافرمانی کا تو پہلے نرمی سے انہیں سمجھاﺅ ، پھر الگ کر دو انہیں خواب گاہوں سے اور پھر بھی باز نہ آئیں تو مارو انہیں۔ پھر اگر وہ اطاعت کرنے لگیں تمہاری تو نہ تلاش کرو ان پر ظلم کرنے کی راہ۔ یقینا اللہ تعالیٰ عظمت و کبریائی میں سب سے بالا اور سب سے بڑا ہے“۔ یعنی جس طرح ہر فوج کا ایک کمانڈر ہوتا ہے، ہر مملکت کا ایک فرماں رواں ہونا لازمی ہے، جو نظام مملکت قائم رکھے۔ اِسی طرح گھر بھی ایک سلطنت کی مانند ہوتا ہے، جس کا حاکم اعلیٰ شوہر ہوتا ہے، جو گھر کے نظام کو قائم رکھتا ہے۔ بیوی کا رتبہ ایک مشیر کی طرح ہوتا ہے، اگر وہ معاونت نہ کرے تو گھر کی اہم ریاست کا سکون برباد ہو کر رہ جائے گا، اِس لئے کہ عورت کی نسبت مرد کو اللہ تعالیٰ نے جسمانی قوت،عقل و فہم، دُور اندیشی اور صبرو تحمل جیسی صفات میں عورت پر برتری عصا فرمائی، لہٰذا یہ نہایت ضروری ہے کہ امت مسلمہ حکومت کی سربراہی یا کسی نہایت اہم حکومتی عہدے کے لئے عورت کی بجائے مرد کا انتخاب کرے.... ( المختار۔ اسلام کا نظام حکومت از مولانا انصاری)۔

 اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام نے عورت کو رفعت و عظمت کے جس مقام پر کھڑا کیا ہے، وہ دُنیا کے کسی دوسرے مذہب و ملت میں نظر نہیں آتا، لیکن اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کے فرائض کی تقسیم الگ الگ کر دی ہے۔ اگردونوں اپنے اپنے فرائض پوری دیانت داری سے پوریے کرتے رہیں تو معاشرتی زندگی میں کسی طرح کا کوئی بگاڑ پیدا نہ ہو گا۔ اسلام نے عورت کی سرداری اندرون خانہ رکھی ہے، جبکہ بیرون خانہ مرد کو سرداری عطا کی ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ عورت کو حکمران بنانے والی قوم کبھی فلاح نہیں پائے گی۔ جب نبی کریم تک یہ بات پہنچی کہ ایران والوں نے کسریٰ کی بیٹی کو اپنا بادشادہ بنا لیا ہے، تو آپ نے فرمایا کہ وہ قوم کبھی فلاح نہیں پائے گی، جو اپنے کاموں کو عورتوں کے سپرد کر دے.... (بخاری شریف حدیث نمبر 1976) .... آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان1973ءکی جدول سوم میں صدر، وزیراعظم اور دیگر عمائدین حکومت کے حلف ناموں کی عبارت میں صیغہ مذکر آتا ہے، مگر بعد میں عندالضرورت آرٹیکل263کے تحت ترمیم کرنا پڑی، یعنی وہ الفاظ جن سے صیغہ مذکر کا مفہوم کھلتا ہو، صیغہ مونث پر بھی حاوی ہو جائے۔ اسے کہتے ہیں ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔

قارئین کرام کی توجہ ایک نہایت باریک اور معنی خیز بات کی طرف مبذول کرائی جاتی ہے اور وہ یہ کہ ”عورت عربی کا لفظ ہے، جس کے لفظی معنی ہے جسم کا، وہ حصہ جس کا ڈھانپا یا چھپانا لازمی ہے۔ اصطلاح میں عورت مرد کے مقابل ہے۔ خلقت کے اعتبار سے مرد اور عورت میں نمایاں فرق ہے۔ مرد جسمانی طور پر قوی ہے اور عورت کمزور ہے۔ ایسے جسمانی تفاوت کی وجہ سے عورت ایسے امور کی بجا آوری میں بے بس ہے، جو مرد بآسانی سرانجام دے سکتا ہے، اِس لئے کہ عورت قرآن و حدیث کے مطابق پردے کی پابند ہے، جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے سورہ¿ نور نمبر24، آیت نمبر31میں دیا ہے۔” اور آپ حکم دیجئے ایماندار عورتوں کو کہ وہ نیچی رکھا کریں اپنی نگاہیں اور حفاظت کیاکریں اپنی عصمتوں کی اور نہ ظاہر کیا کریں اپنی آرائش کو، مگر جتنا خودبخود نمایاں ہو اس سے اور ڈالیں رہیں اپنی اوڑھنیاں اپنے گریبانوں پر اور نہ ظاہر ہونے دیں اپنی آرائش کو، مگر اپنی شوہروں کے لئے یا اپنے شوہروں کے باپوں کے لئے یا اپنے بیٹوں کے لئے یا اپنے خاوند کے بیٹوں کے لئے یا اپنے بھائیوں کے لئے یا اپنی ہم مذہب عورتوں پر یا اپنے نوکروں پر، جو عورت کے خواہشمند نہ ہوں (نامرد، خصی) یا ان بچوں پر جو ابھی تک آگاہ نہیں عورتوںکی شرم والی چیزوں پر اور نہ زور سے ماریں اپنے پاﺅں زمین پر تاکہ معلوم ہو جائے وہ بناﺅ سنگار جو وہ چھپائے ہوئے ہیں اور رجوع کرو اللہ تعالیٰ کی طرف، سب کے سب اے ایمان والو، تاکہ تم دونوں جہاں میں بامراد ہو جاﺅ“۔ ان تمام حدودو قیود کے ہوتے ہوئے عورت عورت کس طرح سے کسی حکومتی عہدے یا کسی دوسرے امور میں عہدہ برآ ہو سکتی ہے؟ مگر آج عورتیں نہ صرف ملک کے داخلی بل کہ خارجی امور جن کا تعلق ملک کی سلامتی سے ہے مامور ہیں۔ ایسے جملہ نازک تریں امور کی انجام دہی کے لئے جسمانی اور دماغی قوتوں کا ہونا لازمی ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کی جسمانی اور دماغی قوتوں میں خود نمایاں فرق بنا دیا ہے۔

(جاری ہے)

مزید :

کالم -