مسلم لیگ (ن) اور ایم کیو ایم

مسلم لیگ (ن) اور ایم کیو ایم
مسلم لیگ (ن) اور ایم کیو ایم

  

گزشتہ روز جب ایک ٹی وی چینل پر مستقبل کی حکومت سازی کے مراحل کے بارے میں بات ہو رہی تھی تو ایک صاحب نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) کے کچھ دوستوں کے ایم کیو ایم کے کچھ دوستوں سے رابطے ہوئے ہیں۔ اگر یہ سچ ہے تو سیاسی مفاد پرستی کے حوالے سے نہایت افسوسناک بات ہے اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو ثابت کرنا چاہےے کہ وہ 1988ءسے 2008ءتک 20برس کا زمانہ پیچھے چھوڑآئی ہے اور گزشتہ غلطیوں اور حماقتوں کو قطعی نہیں دہرائے گی۔ جس طرح 2008ءسے 2013ءتک پیپلز پارٹی کا پانچ سالہ اذیت ناک دور اب قصہ پارینہ بن گیا ہے، اسی طرح 1978ءسے1988ءتک ضیاءالحق کی دس گیارہ سال کی حکمرانی کا عرصہ اور 1988ءسے2008ءتک بہت سی غلطیوں اور حماقتوں سے آراستہ سیاسی ناپختہ کاری کا دو عشروں پر محیط طویل عرصہ اس قابل نہیں کہ اسے یاد رکھا جائے۔

ایم کیو ایم کو ضیاءالحق کے دور میں وجود بخشا گیا تھا ، پھر یہ 1986ءسے 1996ءتک صرف ایک عشرے میں عنفوان شباب کو پہنچ گئی ،چنانچہ اس نے جنرل پرویز مشرف کی مسلم لیگ قاف سے زیادہ قابل بھروسہ سیاسی ٹیم کی حیثیت سے اقتدار اور اختیار کو خوب انجوائے کیا۔مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو پرویز مشرف کی ڈکٹیٹرشپ میں جن اذیتوں کا سامنا رہا، اس کی ذمہ داری مسلم لیگ قاف کی طرح ایم کیو ایم پر بھی ہے۔ اس بات کو جانے دیجئے کہ ایم کیو ایم نے سندھ میں اردو بولنے والوں کو سندھ کے لاکھوں پختونوں اور پنجابیوں کے لئے اجنبی اور ناقابل بھروسہ بنا دیا اور اپنے خمیر سے اجنبیت کی وہ دیوار کھڑی کر دی کہ سیاسی طور پر تنہائی کا احساس سماجی اور کاروباری زندگی کی بنیاد یں ہلا دےں۔ اس بات کو بھی بھول جائےے کہ ایم کیو ایم چاہے جتنی مرتبہ سندھیوں کو اپنے علاقوں سے جتوائے اور چاہے سندھی ٹوپی اور اجرک پہن کر خوب رقص کیا کرے اور چاہے پیپلز پارٹی کی حکومت سازی میں معاون، کالا باغ ڈیم کی مخالفت اور بہت سے سندھی قوم پرستوں اور سندھی ادیبوں، صحافیوں اور دانشوروں سے نیاز مندی کے ذریعے وہ خود کو باربار سندھ کا سچا سپوت ثابت کیا کرے، غور طلب اور یاد رکھنے کی بات صرف یہ ہے کہ سندھ کی اردو بولنے والی آبادی کو کیا ملا ہے؟

سیاسی قدروں سے زیادہ کسی سماج کے منضبط اور مربوط رہنے کی اہمیت ہوا کرتی ہے ،افسوس کہ سندھ میں قوم پرستی کے عفریت نے سماجی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ پیپلز پارٹی بوجوہ نہیں چاہتی کہ شہری سندھ کی اردو بولنے والی آبادی اس کے لئے 1977ءکی طرح درد سر بنے، وہ ایم کیو ایم کی دکان کے ایک کاو¿نٹر سے جب شہری آبادی کو قابو میں رکھنے کی دوا، حکومت سازی کا مرہم اور قومی سطح کے حریفوں کے لئے انجکشن کا ایک ساتھ بندوبست کرلیتی ہے تو پھر اسے اور کیا چاہےے ؟ ....لیکن اگرمسلم لیگ (ن) چاہتی ہے کہ سندھ کے اردو بولنے والوں کا ووٹ چاہے کسی اُمیدوار اور کسی سیاسی جماعت کو پڑے، لیکن 1950ءاور 1960ءبلکہ 1970ءکے عشرے کی طرح سندھ میں اردو بولنے والوں کے سماجی روابط محض سیاست کی وجہ سے اتنے متاثر نہ ہوں کہ باہم رشتے ناتے اور کاروبار تو کیا، بستیوں میںیکجا ہو کر رہنا بھی مشکل ہوجائے۔

مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو اس بات کا احساس اور اندازہ ہے اور یقینی طور پر ہونا چاہئے کہ کسی طبقے یا قوم کی زندگی میں جانی و مالی نقصان کی بے سمت اور بے مقصد سیاست کے لئے چوتھائی صدی کا عرصہ بہت ہوتا ہے، لہٰذا اردو بولنے والوں کی غالب اکثریت اس یرغمالی کیفیت سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہی ہے اور ایک مضبوط پاکستان کی حامی مضبوط وفاقی حکومت ہی کراچی اور حیدرآباد کے عوام کو 25برس کی یرغمالی کیفیت سے نکال سکتی ہے۔ 2013ءکے انتخابات نے یوں تو شہری سندھ میں خصوصاً اور دیہی سندھ میں عموماً بہت ناگوار اور تلخ پہلوو¿ں کو بے نقاب کیا ہے، مگر اس کے باوجود ان انتخابات کا سب سے روشن پہلو یہ ہے کہ کراچی اورحیدرآباد کی اردو بولنے والی آبادی نے یرغمالی کیفیت سے نکلنے کے لئے جس کسمساہٹ کا اظہار کیا ہے اور انتخابات کے روز ہونے والی زور آوری کے خلاف اس کے اندر جو نفرت اُبھری ہے، اسے پورے ملک نے محسوس کیا ہے۔ لہٰذا اردو بولنے والی آبادی کی دلی کیفیت کو محسوس کرکے مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف دونوں کو یکساں طور پر ان کا ہم آواز بننا چاہےے، جبکہ جماعت اسلامی، جے یو پی وغیرہ کے کندھے سے کندھے ملا کر سچی بات کرنی چاہےے ۔

حکومت سازی کے لئے بندوں کی گنتی کے لئے 1990ءکی دہائی کی طرح ایم کیو ایم کو گلے لگا کر ”حاجی “ بنانے کا ناگوار تجربہ یرغمالی ٹی وی چینل کے تجزیہ کار کو شاید بھلا لگے، مگر یہ قدم سندھ کے لاکھوں اردو بولنے والوں کو غار سے باہر نکالنے کے بجائے غار کا دروازہ ”بھاری پتھر“ سے بند کرنے کے مترادف ہوگا جس پر مسلم لیگ (ن) کو تاریخ میں ندامت کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔جیسا کہ اطلاعات ہیں پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم سے ”مکرر ارشاد“ کی طرح ایک بار پھر مفاہمت اور اشتراک کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ یہ مفاہمت اور اشتراک دونوں کی مجبوری ہے ، مگر مسلم لیگ (ن) کو اسے قطعی اپنی مجبوری نہیں بننے دینا چاہےے۔اگر کراچی اور حیدرآباد کو اسلحہ سے پاک کر کے اور ووٹر لسٹوں کی خامیاں دور کرنے کے بعد فوج کی مکمل نگرانی میں ازسر نو انتخابات کرانے کی حمایت مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف دونوں کا ایجنڈا بن گئی تو سندھ کے لاکھوں یرغمالی اردو بولنے والوں کو نئی سیاسی، سماجی زندگی ملے گی۔دیکھنا یہ ہے کہ نواز شریف اور عمران خان کیا محمد بن قاسم کا کردار ادا کرنا پسند کریں گے۔      ٭

مزید :

کالم -