2013 ءکے تاریخ سازانتخابات

2013 ءکے تاریخ سازانتخابات
2013 ءکے تاریخ سازانتخابات

  

11 مئی2013ءکے انتخابات کو ہماری سیاسی تاریخ میں بہت اہمیت حاصل ہے، کیونکہ اس روز پاکستانی قوم نے اپنے فیصلے سے کئی توہمات کو شکست دی اور نئے حقائق کو اجاگر کیا ہے جوپاکستان کے روشن مستقبل کی نوید ہے۔ایک ایسی قوم جو سالہاسال سے بدعنوان اور نااہل ترین حکمرانوں کے ہاتھوں اٹھائے جانے والے دکھوں کی گہرائی میں جا چکی تھی، آج اس قوم نے ایسا فیصلہ کیا ہے کہ دنیاحیران ہے۔عام تاثر یہ تھا کہ پاکستانی قوم کی 45 فیصد آبادی چونکہ ناخواندہ ہے لہٰذایہاں جمہوریت پروان نہیں چڑھ سکتی لیکن اس خیال کو بھی قوم نے اپنے عمل سے دن کی روشنی میں محض دس گھنٹوں کے اندر اندر شکست دےتے ہوئے ملک کے بدعنوان اور نااہل عناصر کو مسترد کر دیا ہے اور جمہوریت کو نئی زندگی بخش دی ہے ....11مئی 2013ءکوپاکستانی قوم نے جو فیصلہ دیا ہے، وہ 1947ء کی تحریک پاکستان کے فیصلے کااعادہ ہے، یعنی:”پاکستان ایک جمہوری مملکت ہوگاجس کا نظام سماجی انصاف کے اسلامی اصولوں پر مبنی ہوگا“۔

پاکستانی قوم نے اپنے فیصلے سے نہ صرف سیکولرازم کو رد کر دیا ہے ،بلکہ مذہبی بنیادپرستی کے ساتھ ساتھ تمام قسم کے ”ازموں(isms)“ کو رد کرتے ہوئے1947ءکی طرح صرف اعتدال پسندقوتوںکوووٹ دیاہے جو قوم کی درست اور مثبت سوچ کا عکاس ہے۔یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ جب بھی پاکستانی قوم کو صاف اور شفاف طریقے سے انتخاب کا موقع فراہم کیا گیا تواس نے اعتدال پسندعناصرکوہی چناہے۔یہ ایسی کھری حقیقت ہے جوقوم کی جمہوریت اور اسلامی نظریات سے دلی وابستگی کی واضح مثال ہے۔آرمی اور عدلیہ دو ایسے قومی ادارے ہیںجوماضی میں ملک کوجمہوریت کی پٹڑی سے اتارنے کا سبب بنتے رہے ہیں ،لیکن اب ان اداروں نے بھی قوم کو جمہوریت کے راستے پر گامزن کرنے میں بھرپور تعاون اور مدد فراہم کی ہے اور جمہوریت مخالف عناصر کی جانب سے انتخابی عمل کوسبوتاژ کرنے کی کوششوں کو مستردکر کے قوم کو ایک بڑے حادثے سے بچا لیاہے۔ وہ ایسا حادثہ تھا ،جس سے ہمارابرادر اسلامی ملک انڈونیشیا تقریبÉ نصف صدی قبل دوچار ہو چکاہے، جہاں ایک خون آشام انقلاب بپا ہوا جس میں دس لاکھ سے زیادہ لوگ مارے گئے اورملک میں اسلامی جمہوری نظام رائج ہوا۔ایساہونے کا بڑاسبب یہ تھا کہ انڈونیشیا میں پُرامن انتقال اقتدار کے لئے انتخابات نہیں کرائے جا سکے، جبکہ مصر، ترکی اور اب پاکستان، انتخابات کے ذریعے امن و استحکام کی راہ پر گامزن ہوچکے ہیں۔

 نئی منتخب سیاسی قیادت کے لئے ،جو جلدہی عنان اقتدار سنبھا لنے والی ہے، ملک کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنا قدرے آسان ہوگا،کیونکہ انہیں عوام کی اکثریت کی حمایت وتعاون حاصل ہے۔ ہماری قوم باشعور اورجمہوری اقدار کوپروان چڑھانے کی ہمت و حوصلہ رکھتی ہے،اگر مَیں یہ کہوں توغلط نہ ہو گا کہ نئی منتخب ہونے والی سیاسی قیادت کے دلوں میں خوف خدابھی ہے جوانہیںگزشتہ حکمرانوں سے ممتاز کرتا ہے۔ قوم نے جس طرح پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کومسترد کیا ہے ،نہایت افسوسناک امر ہے۔عوامی نیشنل پارٹی کا تو نام ونشان ہی مٹ گیا ہے جس سے پاکستان تحریک انصاف کو قدم جمانے کی جگہ ملی ہے جوخیبرپختونخوا میں اکثریتی جماعت کی حیثیت سے ابھری ہے ۔بری طرح شکست کھانے کے بعد پیپلز پارٹی اندرون سندھ تک محدود ہو کر رہ گئی ہے، جبکہ ایم کیو ایم کوسندھ کے بڑے شہری علاقوں میں پذیرائی ملی ہے اورسیاسی ہم آہنگی کی خاطراتحادیوں کے ساتھ مل کرصوبہ سندھ میں حکومت بنانا آسان ہوگا۔

یہ امرحیرانی کا باعث ہے کہ عمران خان کا اصل ہدف پنجاب تھا، لیکن انہیںپذیرائی صوبہ خیبر پختونخوا سے ملی، تقدیر کے رنگ نرالے ہیں۔ہم امید کرتے ہیں کہ انہیں خیبر پختونخوا میں حکومت سازی کا موقع دیا جائے گا تاکہ پاکستان کے اس ہنگامہ خیز صوبے کے مسائل حل کرنے کے حوالے سے ان کی قائدانہ صلاحیتوں اور نوجوان نسل کا امتحان ہو سکے۔افغانستان کے ساتھ ملحقہ ہمارے سرحدی علاقے اسلامی مدافعتی قوت کا گڑھ ہیں۔یہی اسلامی مدافعتی قوت ہے جس نے روس، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو بری طرح شکست سے دوچار کیا ہے اور انہی علاقوں سے پاکستان اور پاکستانی فوج کے خلاف مزاحمت اُبھری ہے۔امریکہ اس قوت کو کچل دیناچاہتا ہے ،جبکہ عمران خان امریکہ کے ساتھ تعلقات کو محدود کرناچاہتے ہیں۔ سوچ کا یہی وہ فرق ہے ،جسے دور کرناضروری ہے۔نوازشریف کو چاہیے کہ دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے عمران خان کو ہر طرح کی مدد فراہم کریں تاکہ وہ اس صوبے کے نہایت پیچیدہ معاملات کو سلجھا سکےںاور ملک میں امن وامان قائم ہوسکے۔

پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کو بڑا تلخ تجریہ ہوا ہے کہ انہوں نے اقتدار میں رہ کر عوام کے لئے کچھ نہیں کیا۔اب عوام نے اپنی محرومیوں اورناانصافیوں کا انتقام لیا ہے، جسے ہم بجا طور پر ”جمہوریت کے انتقام“ کانام دے سکتے ہیں۔ملک کی اقتصادی حالت ناگفتہ بہ ہے، لیکن اس کے باوجود مجھے قوم کی قوت برداشت اور جذبے پر مکمل بھروسہ ہے۔اس کاثبوت یہ ہے کہ گزشتہ چند سال سے ملک کو توانائی کے بحران کا سامنا ہے، لیکن ہمارے زرعی و صنعتی ماہرین نے توانائی کی کمی کو اپنی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا اور برآمدات کا معیارتیس(30) ملین امریکی ڈالر کی حد تک برقرار رکھاہے۔اس کے ساتھ ساتھ ہمارے بیرون ملک ہم وطن مسلسل پندرہ بلین ڈالر سالانہ کا زر مبادلہ وطن بھیجتے رہے، جس سے ملک پر قرضوں کابوجھ کم کرنے میںنمایاں مدد ملی ہے۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ہمارا سٹاک ایکسچینج جوگزشتہ کئی مہینوں سے تمام تر بری خبروں کے باوجود اوپر ہی جا رہا تھا ،آج بیس ہزار پوائنٹ کی حد عبور کر گیا ہے۔یوں لگتا ہے، جیسے ہمارے اقتصادی ماہرین اور سرمایہ کاروں کو معلوم تھا کہ عنقریب کون سی نئی قیادت اُبھر کر سامنے آنے والی ہے۔

انشاءاللہ ملک میںموجودہ دہشت گردی کی لعنت بھی افغانستان سے قابض فوجوں کے انخلاءکے ساتھ خودبخود ختم ہو جائے گی، کیونکہ اس کی سب سے بڑی وجہ یہی بیرونی جارحیت ہے جوپاکستان میں دہشت گردی کا سبب ہے۔ہمیں ”پاکستان و افغانستان میں دہشت گردی کو شکست دینے کی خاطر کسی قسم کے تزویراتی تعاون“ کی کوششوںکاحصہ بننے کے حوالے سے محتاط رہناہوگا۔دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کی خاطرمیاں نواز شریف، عمران خان اور مولانا فضل الرحمن کی سوچ میں ہم آہنگی ہے، جس کا اظہار 28 فروری 2013 ءکو منعقد ہونے والی آل پارٹیزکانفرنس کے اعلامیہ میں کیا گیا تھا ، پھر پارلیمنٹ نے بھی اس کی توثیق کی تھی۔

ایسالگتا ہے کہ میاں نواز شریف کو بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے اور مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی بہت جلدی ہے۔بلاشبہ یہ نہایت اہم معاملہ ہے، لیکن کوئی بھی قدم اٹھانے سے قبل خطے میں روپذیر ہونے والے جغرافیائی و تزویراتی حقائق کو لازمی مد نظر رکھناہوگا، خصوصÉ امریکہ کا ”تزویراتی سرگرمیوں کامرکز“ اب ایشیا پیسیفک کی جانب منتقل ہو چکا ہے ۔افغانستان سے قابض فوجوں کا انخلا شروع ہے، خطے میں روس اور چین کے مفادات آپس میںمدغم ہوتے نظر آرہے ہیں،خطے میں برتری کے بھارتی عزائم واضح ہیں اور عالم اسلام کے خلاف بیرونی جارحیت پر مسلم امہ کے ضمیر کی بیداری اورپاکستان پر ان کے ممکنہ اثرات نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ دریاﺅں کے پانی کا معاملہ؛ گوادر پورٹ کو چین کے حوالے کرنا اور پاک،ایران گیس پائپ لائن منصوبے جیسے اہم معاملات مدبرانہ غور و خوض کے متقاضی ہیں ۔

بلاشبہ نواز شریف کی سربراہی میںقائم ہونے والی حکومت کو متعدد اہم چیلنجز کا سامناہے، لیکن 11 مئی 2013ءکے عوامی فیصلے نے ان کے لئے بے شمار مواقع فراہم کئے ہیں۔اب یہ ان کی سیاسی سوچ‘ قائدانہ صلاحیت اور فہم و فراست کا امتحان ہے کہ وہ کس طرح ان مواقع سے فائدہ اٹھاکر قوم کو ایک اہل اور دیانتدارانہ انداز حکمرانی فراہم کرتے ہیں۔قوم کو ان سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔   ٭

مزید :

کالم -