کاشتکاروں کوگندم کی کٹائی و گہائی کے بعدزمینوں میں نامیاتی مادے کی مقدار بڑھانے کے لیے دیسی یاسبز کھادوں کے استعمال کو بڑھانے کی ہدایت کردی گئی

کاشتکاروں کوگندم کی کٹائی و گہائی کے بعدزمینوں میں نامیاتی مادے کی مقدار ...

فیصل آباد (بیورو رپورٹ)ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کے انسٹیٹیوٹ آف سائل کیمسٹری اینڈ اینوائر نمنٹل سائنسز کے ڈائریکٹر ریاض حسین سیال اورایگری کلچرل انفارمیشن ریسرچ انفارمیشن فیصل آباد کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد اسحاق لاشاری نے کاشتکاروں کوگندم کی کٹائی و گہائی کے بعدزمینوں میں نامیاتی مادے کی مقدار بڑھانے کے لیے دیسی یاسبز کھادوں کے استعمال کو بڑھانے کی ہدایت کی ہے اور کہاہے کہ کاشتکارفصلوں کی زیادہ سے زیادہ پیداوار کے حصول اور فی ایکڑ رقبہ سے بہتر نتائج حاصل کرنے کے لیے زمین میں نامیاتی کھادوں کی مطلوبہ مقدار یقینی بنائیں کیونکہ اگر زمین میں نامیاتی مادوں کی مقدار کم ہوگی تو زمین کی پیداواری صلاحیت بھی بری طرح متاثر ہوسکتی ہے۔

جبکہ دیگر کھادوں کے استعمال کے خاطر خواہ فوائد بھی حاصل نہیں ہوسکتے۔ایک ملاقات کے دوران انہوں نے کہ اکہ اس مقصد کے حصول کے لیے گوبر کی گلی سڑی کھادتین سے چار ٹرالی فی ایکڑ ضرور ڈالیں اور اگر ممکن ہو تو سبز کھاد کا استعمال بھی کریں۔ انہوں نے کہا کہ سبز کھاد والی اہم فصلوں میں گوارہ، جنتر، برسیم اور سینجی کی فصلات شامل ہیں نیزجب یہ فصلیں زیادہ سے زیادہ نباتاتی بڑھوتری مکمل کرلیں تو ان فصلات کو روٹا ویٹر کے ذریعے زمین میں دبا دیاجائے جبکہ کاشتکار اس عمل کے 30سے35دن بعدزمین کودیگر فصلوں کی کاشت کے لیے تیار کریں تو اس کے بہت مفید نتائج حاصل ہوں گے۔ انہوں نے کاشتکاروں کو ہدایت کی کہ وہ نئی فصلوں کی کاشت سے پہلے اپنی زمین کا تجزیہ ضرور کرائیں اور اس تجزیہ کی روشنی میں حسب ضرورت مناسب مقدار میں کھادیں استعمال کی جائیں تاکہ وسائل کا ضیاع نہ ہو ۔ انہوں نے سفارش کی کہ فاسفورس ، پوٹاش ، زنگ اور بوران کھادوں کا استعمال بوقت کاشت استعمال کرنے سے فصلوں کی پیداوار میں اضافہ یقینی ہوجاتا ہے۔

مزید : کامرس