کشمیر کا کوئی بھی شخص حق خودارادیت اور رائے شماری پر یقین نہیں رکھتاامرجیت سنگھ

کشمیر کا کوئی بھی شخص حق خودارادیت اور رائے شماری پر یقین نہیں رکھتاامرجیت ...

سری نگر(کے پی آئی(بھارتی خفیہ ادارے ریسرچ اینڈ اینالیسز ونگ ’’را‘‘ کے سابق سربراہ امرجیت سنگھ دلت نے دعوی کیا ہے کہ کشمیر کے سلسلے میں اقوام متحدہ کی قراردادیں دفن ہو چکی ہیں۔ کشمیر کا کوئی بھی شخص حق خودارادیت اور رائے شماری پر یقین نہیں رکھتا۔ پاکستان کو بھی اس حقیقت کو سمجھ جانا چاہیے بھارتی اخبار سے انٹرویو میں امر جیت سنگھ دلت نے کہا کہ کشمیری علحیدگی ( حریت پسند) پسند رہنماسید علی گیلانی ، مولانا عباس انصاری اور عبدالغنی لون کے علاوہ میں ہر کشمیری رہنما سے مل چکا ہوں۔ میں نے ان کے ساتھ وقت گزارا ہے ۔ کچھ مجھ سے ملنا چاہتے تھے اور کچھ نہیں ملنا چاہتے تھے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ حریت پسند رہنماؤں کے لیے بے پناہ سیاسی مواقع موجود ہیں۔ میر وعظ کا شاندار مستقبل ہو سکتا ہے۔ اگر وہ کشمیری سیاست میں موقع کو محسوس کریں یہ مو قع چھ سال بعد آتا ہے۔ سجاد غنی لون سے جب میں ملا اس کا مجھ سے سوال تھا کہ میں حریت پسند ہوں الیکشن میں کیسے آؤں مگر وہ وقت بھی آیا جب سجاد غنی لون نے ناصرف انتخابات میں حصہ لیا ۔

بلکہ انتخابات جیتے اور وزیر بھی بن گیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ وقت بھی آئے گا جب سجاد غنی لون وزیر اعلیٰ بننے گا۔ سجاد غنی لون کی عمر اس کا ساتھ دے رہی ہے۔ میر واعظ عمر فاروق کی عمر بھی اس کا ساتھ دے رہی ہے۔ مسٹر دلت نے کہا کہ جب میں شبیر احمد شاہ سے ملا تو اس نے پو چھا کس چیر پر بات چیت کریں گے۔ میں نے اس سے کہا بات چیت کے بارے میں بات چیت کریں گے۔ پھر میں نے اسے بتایا کہ مزاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تبادلہ خیال کرنا پڑتاہے۔ را کے سابق سربراہ نے کہا کہ مجھے آج تک سید علی گیلانی سے ملاقات کی خواہش ہے۔ مگر مجھے کبھی ان سے بات چیت کا موقع نہیں مل سکا۔ جب میں اپنی سرکاری ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوا تو گیلانی سے ملنے کی خواہش کی کہیں دوستوں کو بیچ میں ڈالا مگر ان سے بات چیت ممکن نہیں ہوسکی۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج بھی علی گیلانی سے ملاقات ہوجائے تو میں اپنے لیے خوش بختی سمجھوں گا۔ انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے بھارتی اسٹبلشمنٹ کے لوگ علی گیلانی سے ملے ہوں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کشمیر کا مقبول رہنما کونسا ہے؟ دلت نے کہا 2008میں علی گیلانی کشمیر میں بے پناہ مقبول تھے۔ حالانکہ جنرل پرویز مشرف نے ان سے کہہ دیا تھا کہ وہ راستے سے ہٹ جائیں اس لیے کہ مشرف سمجھتے تھے کہ بھارت سے کسی سمجھوتے میں علی گیلانی رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔ دلت نے کہا کہ پاکستان کو یہ حقیقت سمجھ لینا چاہیے کہ اس نے کشمیر کھو دیا ہے۔ اگر پاکستان دوبارہ کشمیر میں آتا ہے تو یہ بھارت کی غلطی ہوگی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کشمیر میں پاکستان کے جھنڈے لہرانا کوئی خاص بات نہیں ہے۔ پاکستان کے جھنڈے تو جامع مسجد پر بھی لہرائے گئے۔ جب عبدالغنی لون کو قتل کیاگیا تو ان کی ریلی میں بھی پاکستان کے جھنڈے لہرائے گئے تھے حلانکہ سجاد نے کہہ دیا تھا کہ اس کے والد کو آئی ایس آئی نے قتل کروایا ہے۔ اقوامتحدہ کی قراردادوں کے بارے میں امر جیت سنگھ دلت نے کہا کہ اقوام متحدہ کی کشمیر بارے قراردادیں ختم ہو چکی ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ اقوام متحدہ کی کشمیر کے بارے میں قراردادوں اور چار نکاتی فارمولے میں فرق ہے میں نہیں سمجھتا کہ کوئی کشمیری حق خودارادیت اور رائے شماری پر یقین رکھتا ہے۔ مسٹر دلت نے کہا کہ جب میری ملاقات یاسین ملک سے ہوئی اس نے کہا ہمیں آزدی چاہیے میں نے اس سے کہا جب تمہیں آزادی مل جائے گی تو ہم بھی تمہارے خلاف آزادی کے نعرے لگائیں گے۔

مزید : عالمی منظر