جمعۃ المبارک کے فضائل

جمعۃ المبارک کے فضائل

امیر افضل اعوان

خالق کائنات نے جمعہ المبارک کو دیگر ایام پر فضیلت عطا فرمائی، بلاشبہ جمعہ کا دن اہل ایمان کے لیے اجتماعی عبادت اور خوشی کا دن ہے۔ عبداللہ بن مسعودؓ اور ابو مسعودؓ کی روایات سے پتہ چلتا ہے کہ جمعہ کی فرضیت کا حکم ہجرت سے پہلے مکہ میں نازل ہوچکا تھا لیکن چونکہ مکہ میں اجتماعی عبادت کرنا ممکن نہ تھا اس وجہ سے اس پر عمل نہ ہوا لیکن آپؐ نے مدینہ میں یہ حکم پہنچا دیا کہ وہاں جمعہ قائم کریں چنانچہ مصعب بن عمیرؓ نے 12آدمیوں کے ساتھ مدینہ میں پہلا جمعہ پڑھایا۔ خود آپؐ نے مکہ سے مدینہ ہجرت کے دوران بنو سالم بن عوف کی بستی میں سب سے پہلا جمعہ پڑھایا۔اسی طرح ابوہریرہؓسے روایت ہے کہ رسول اﷲؐنے فرمایا کہ

وہ بہترین دن جس پر جمعہ کے دن کا سورج طلوع ہوا اسی دن حضرت آدم علیہ السلام تخلیق کیے گئے اور اسی دن جنت میں داخل کئے گئے اور اسی دن وہاں سے نکالے گئے اور قیامت بھی جمعہ کے دن ہی واقع ہوگی۔

اسلام میں جمعہ المبارک کو نمایاں درجہ پر فائز کرتے ہوئے اس دن عبادات کے ساتھ ساتھ غسل، مسواک اور خوشبولگانے کی بڑی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ سیدنا ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲؐنے فرمایا کہ جمعہ کا غسل ہر بالغ شخص پر واجب ہے۔ (مسلم، ابن ماجہ، ابوداؤد، نسائی)

جبکہ ایک اور جگہ حضرت ابو سعید خدریؓ ؓ فرماتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اﷲؐنے فرمایا کہ ہر بالغ پر جمعہ کے دن غسل کرنا واجب ہے اور یہ کہ مسواک کرے اور یہ کہ خوشبو لگائے اگر میسر ہے۔ (بخاری)

اسی طرح سیدنا سلمان فارسیؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ ؐنے فرمایا کہ جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور جس قدر ممکن ہو طہارت کرے اور تیل لگائے یا اپنے گھر کی خوشبو استعمال کرے اس کے بعد جمعہ کی نماز کے لیے نکلے اور وہ آدمیوں کے درمیان (جو مسجد میں بیٹھے ہیں)فرق نہ کرے پھر جس قدر اس کی قسمت میں نماز پڑھے پھر جس وقت امام خطبہ دینے لگے تو چپ رہے تو اس کے وہ گناہ جواس جمعہ سے پہلے گزشتہ جمعہ تک سرزد ہوئے تھے بخش دیے جائیں گے۔

جمعہ المبارک کے دن دیگر عبادات کے ساتھ ساتھ رسول اﷲؐپر درود پاک بھجوانے کی بہت زیادہ فضیلت بیان کی جاتی ہے، جمعہ المبارک کے دن نبی اکرمؐ پر درود پاک بھیجنا مستحب ہے۔ (احمد، ابوداؤد، حاکم،صحیح ابن حبان)

اس دن کی فضیلت بارے حضرت اوس بن اوسؓ سے روایت ہے آپؐ نے فرمایا کہ تمہارے دنوں میں سب سے فضیلت والا دن جمعہ کا دن ہے اسی دن آدم پیدا کئے گئے اور اسی دن ان کی روح قبض کی گئی اور اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اسی دن سب بے ہوش کئے جائیں گے پس تم اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو اس لیے کہ تمھارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔

اسی طرح رسول اللہؐ نے فرمایا کہ جو شخص جمعہ کے دن سورۃ الکھف کی تلاوت کرے گا تو آئندہ جمعہ تک اس کے لیے ایک خاص نور کی روشنی رہے گی۔ (صحیح الترتیب)

عبادات وصالح اعمال کے ساتھ ساتھ جمعہ المبارک کے دن ایک ایسی خاص گھڑی بھی آتی ہے جس میں دعاکی بڑی اہمیت ہے۔ اس سلسلہ میں حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے رسول اللہؐ نے فرمایا کہ اس روز ایک ساعت ایسی بھی ہے کہ جب کوئی مسلمان اللہ تعالی سے کچھ مانگے تو اللہ تعالی اس کو عطا فرمائے گا اور ہاتھ سے اشارہ کر کے آپ ؐ نے فرمایا کہ وہ ساعت بہت تھوڑی ہے (بخاری )

صحیح مسلم کی حدیث کے مطابق وہ گھڑی امام کے منبر پر بیٹھنے سے نماز جمعہ کے ختم ہونے تک ہے۔ ترمذی کی روایت کے مطابق یہ گھڑی عصر سے لے کر سورج غروب ہونے تک ہے۔

نمازِ جمعہ کی اہمیت اور فضیلت بارے بہت تفصیل کے ساتھ بیان سامنے آتا ہے، اہلِ ایمان مردوں کے لیے نماز جمعہ کی ادائیگی مسجد میں باجماعت کرنا ضروری ہے ۔

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جمعہ کے دن کی نماز کی اذان دی جائے تو تم اللہ کے ذکر کی طرف جلدی سے آجایا کرو اور خریدو فروخت چھوڑ دو اگر تم سمجھو تو یہ تمہارے حق میں بہت ہی بہتر ہے۔ (الجمعۃ)

اسی طرح حضرت طارق بن شہابؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ جمعہ حق ہے اور ہر مسلمان پر جماعت سے واجب ہے لیکن چار اشخاص مستثنیٰ ہیں: غلام، عورت، بچہ اور بیمار۔ (ابو داؤد)

ایک اور جگہ سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ جس نے وضو کیا اور اچھے طریقے سے وضو کیا پھر جمعہ پڑھنے کے لیے آیا ،غور سے (خطبہ)سنا اور خاموش رہا تو اس جمعہ سے دوسرے تک کی درمیانی مدت اور مزید تین دن کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔(مسلم)

واضح ہو کہ نماز جمعہ کا وقت وہی ہے جو نماز ظہر کا وقت ہوتا ہے۔ حضرت انس بن مالکؓسے روایت یہ کہ رسول اللہؐ جمعہ کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا۔ (بخاری)

نمازِ جمعہ کی ادائیگی بارے حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ جو شخص جمعہ کے دن غسل جنابت کرے اور جمعہ کی نماز کے لیے چل پڑے تو گویا اس نے اونٹ قربان کیا اور جو دوسرے وقت میں جائے تو اس نے گائے قربان کی اور جو تیسرے وقت میں جائے تو گویا اس نے سینگوں والا مینڈھا دیااور جو چوتھے وقت میں جائے تو اس نے مرغی کی قربانی دی اور جو پانچویں وقت میں آیا تو اس نے انڈہ قربانی میں دیا اور جب امام خطبہ کے لیے نکلتا ہے تو فرشتے ذکر سننے کے لیے حاضر ہوجاتے ہیں۔ (بخاری)

نماز ادا کرنے کے حوالہ سے کچھ باتیں انتہائی وضاحت طلب ہیں، اس بارے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے منع فرمایا کہ کوئی شخص ایسا کرے کہ اپنے بھائی کو اس کی جگہ سے اٹھا دے اور خود اس کی جگہ پر بیٹھ جائے ۔(بخاری)

جبکہ سیدنا عبداللہ بن بسرؓ نے کہا کہ ایک شخص گردنیں پھلانگتا ہوا جمعہ کے لیے آیا ، رسول اللہؐ خطبہ پڑھ رہے تھے ،آپؐ نے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ تم نے (لوگوں کو) اذیت دی۔ (ابوداؤد)

جمعہ نماز ظہر کی نماز کے مقابلہ میں مختصر(چار رکعات کے بجائے دو رکعات)ہے، جس سے پہلے خطبہ دیا جاتا ہے جو دو حصوں پر مشتمل ہوتا ہے، سیدنا عبداللہ بن عمرؓ نے فرمایا کہ میں نے سنا کہ رسول اللہؐ خطبہ دے رہے تھے آپؐ نے فرمایا کہ جو کوئی جمعہ کی نماز کے لیے آئے وہ غسل کرے۔ (بخاری)

سیدنا عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ کھڑے ہو کر خطبہ پڑھتے پھر (پہلے خطبہ کے بعد) بیٹھتے پھر کھڑے ہوتے جیسے تم اس وقت کرتے ہو۔ (بخاری)

سیدنا عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہؐ جمعہ کے دو خطبے پڑھتے ،ان کے بیچ بیٹھتے۔ (بخاری)

جبکہ سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ اگر جمعہ کے دن جب امام خطبہ پڑھ رہا ہو تو پھر تو اپنے پاس والے کو کہے کہ چپ رہ بے شک تو نے لغو (فضول )حرکت کی۔(بخاری)

حضرت معاذؓ بن انس سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے جمعہ کے دن جب امام خطبہ دے رہا ہو،گھٹنوں کو پیٹ کے ساتھ ملا کر بیٹھنے سے منع فرمایا۔(ابوداؤد)

جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہونے کے بعد دو رکعت تحیۃ المسجد مختصر اداکئے بغیر نہیں بیٹھنا چاہیے۔ اس بارے میں سیدنا جابر بن عبداللہ انصاریؓ کہتے ہیں کہ رسول اﷲؐجمعہ کا خطبہ دے رہے تھے تو ایک آدمی آیا،آپؐ نے فرمایا : تو نے نماز( تحیۃ المسجد ) پڑھی ہے؟ اس نے کہا کہ نہیں،آپؐ نے فرمایا: دو رکعتیں پڑھ لو۔ (بخاری،مسلم،ابن ماجہ، نسائی، ابوداؤد،ترمذی)

سیدنا ابوہریرہؓسے روایت ہے کہ رسول اﷲؐ نے فرمایا کہ جب کوئی جمعہ پڑھے تو اس کے بعد چار رکعت سنت پڑھ لے۔ (مسلم)

نمازِ جمعہ نہ پڑھنے والوں کے لیے سخت وعید سنائی گئی ہے۔ اس حوالہ سے حضرت ابوہریرہؓ اور حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہؐ کو اپنے منبر کے تختوں پر فرماتے ہوئے سنا کہ لوگ جمعہ چھوڑنے سے باز آجائیں،ورنہ اللہ تعالی ضرور ان کے دِلوں پر مہر لگادے گا،پھر وہ یقیناًغافل لوگوں میں سے ہو جائیں گے۔ (مسلم)

سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے ان لوگوں کے بارے میں جو جمعہ سے پیچھے رہتے ہیں فرمایا کہ میں نے ارادہ کیا کہ کسی شخص کو حکم دوں جو لوگوں کو نماز پڑھائے اور میں جا کر آگ لگادوں ان لوگوں کے گھروں میں جو جمعہ پڑھنے سے پیچھے رہتے ہیں۔ (مسلم)

پھر جب نماز پوری ہوجائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور بکثرت اللہ کا ذکر کیا کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔(الجمعۃ)

مزید : ایڈیشن 1