جوڈیشل کمیشن نے تین پرنٹنگ کار پوریشنوں کے سربراہوں کو آج طلب کر لیا

جوڈیشل کمیشن نے تین پرنٹنگ کار پوریشنوں کے سربراہوں کو آج طلب کر لیا

اسلام آباد(آئی این پی )ملک میں 2013ء کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن نے تین پرنٹنگ کارپو ریشنوں کے سربراہوں پر جرح کیلئے انہیں (آج)جمعہ کو طلب کر لیا جبکہ سابق چیف الیکشن کمشنر پنجاب محبوب انور نے کہا ہے کہ سردار ایاز صادق کے حلقے این اے 122 کیلئے اضافی بیلٹ پیپرز نہیں چھاپے گئے ، 21 اپریل تک بیلٹ پیپرز کی حتمی ڈیمانڈ نہیں آئی تھی تاہم چھپائی کی ہدایت کر دی گئی ، الیکشن کمیشن نے مزید دستاویزات جوڈیشل کمیشن میں جمع کرا دیں۔جمعرات کو چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن کا اجلاس شروع ہوا تو مسلم لیگ ن کے وکیل شاہد حامد نے سابق چیف الیکشن کمشنر پنجاب محبوب انور پر جرح شروع کی ۔ محبوب انور نے کمیشن کو بتایا کہ حلقہ این اے 122 میں 3لاکھ 26 ہزار رجسٹرڈ ووٹرز کیلئے اسی تعداد میں بیلٹ پیپرز چھاپے گئے ۔ این اے 53 راولپنڈی کے حلقے میں 3 لاکھ 82 ہزار رجسٹرڈ ووٹرز کیلئے 4 لاکھ 54 ہزار بیلٹ پیپرز چھاپے گئے ۔ سابق چیف الیکشن کمشنر اس حلقے سے کامیاب امیدوار کے نام سے ناواقف نکلے جس پر مسلم لیگ ن کے وکیل نے بتایا کہ این اے 53 سے تحریک انصاف کے غلام سرور خان کامیاب ہوئے شاہد حامد نے سوال کیا کہ کیا کیپٹن صفدر کیخلاف کسی نے انتخابی عذرداری کی درخواست دائر کی؟ جواب میں محبوب انور نے لاعلمی کا اظہار کیا ، ایک سوال پر محبوب انور نے بتایا کہ ریٹرننگ افسران نے 19اپریل کے بعد بیلٹ پیپرز کی تعداد بتائی ۔ ریٹرننگ افسران سے بیلٹ پیپرز کی تعداد پولنگ سکیم طے کرنے کے بعد بتائی گئی ۔ محبوب انور نے بتایا کہ پرنٹنگ کارپوریشن کو 21اپریل کو بیلٹ پیپرز چھاپنے کی ہدایت کی گئی تھی تاہم 21 اپریل تک بیلٹ پیپرز کی حتمی ڈیمانڈ نہیں آئی تھی ، محبوب انور پر جرح مکمل ہونے کے بعد کمیشن کی کارروائی(آج)جمعہ تک ملتوی کر دی گئی ، چیف جسٹس نے کہا کہ ایم ڈی پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان، منیجر پرنٹنگ کارپوریشن لاہور اور ایم ڈی پوسٹل فانڈیشن کے گواہان سے جرح (آج)ہوگی ، پیر کو مزید گواہ بلانے کیلئے بھی نوٹس جاری کریں گے۔

مزید : صفحہ اول