بجٹ میں گاڑیوں پر سیلز ٹیکس ٹرانسفر اور رجسٹریشن فیس میں اضافہ واپس لیا جائے

بجٹ میں گاڑیوں پر سیلز ٹیکس ٹرانسفر اور رجسٹریشن فیس میں اضافہ واپس لیا جائے

لاہور ( اسد اقبال )ملک کے ممتاز تاجر رہنماؤ ں اور کار ڈیلرزفیڈریشن نے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی حکومت آئندہ سال کے مالی بجٹ میں ٹیکسو ں کی شرح میں کمی کرتے ہوئے صنعتکاروں اور تاجروں کو ریلیف دے جبکہ گاڑیو ں کی خر یدو فر وخت پر عائد کر دہ ود ہو لڈنگ ٹیکس ، ریونیو اتھارٹی کی جانب سے سیلز ٹیکس اور ٹرانسفر و رجسٹر یشن فیس کی شرح میں اضافہ کو تاجروں کا معاشی قتل کے مترادف قرار دیا ہے او ر کہا ہے کہ مذکورہ ٹیکسو ں کی وجہ سے جہاں کاروبار میں 60فیصد سے زائد کمی واقع ہوئی ہے وہیں حکو متی خزانہ کو بھی کروڑوں روپے نقصان کا سامنا کر نا پڑا ہے ۔وزارت خزانہ ہوش کے ناخن لے اورآئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکسو ں کی شر ح میں کمی کر تے ہوئے صنعتکار و تاجر رہنماؤں کو ریلیف دے تاکہ معیشت کا پہیہ پٹری پر رواں رہ سکے ۔ ان خیالات کا اظہار انجمن تاجران پاکستان کے صدر خالد پرویز ، کار ڈیلرز فیڈریشن کے صدر شہزادہ سلیم خان ، انجمن تاجران کار ڈیلرز کے چیئرمین چوہدری ادریس ، تاجر رہنماء ،شعیب خان ، سہیل اقبال ، شہاب خان،شہزادہ عادل اور انجمن تاجران لاہور کے صدر مجاہد مقصو د بٹ نے پاکستان مو بائل فورم میں اظہار خیال کر تے ہو ئے کیا ۔ رہنماؤ ں کا کہنا تھاکہ موجو دہ حکو مت کی معاشی پالیسیاں تاجروں پر منفی اثرات مر تب کر رہا ہے جبکہ کئی ایک تاجر کاروبار دشمن پالیسیو ں کی وجہ سے سر مایہ کاری دیگر ممالک میں کر نے کو تر جیح دے رہے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ جہاں تاجروں سے وفاقی حکو مت ٹیکسز لیتی ہے وہیں پنجاب حکو مت بھی ٹیکسو ں کا بو جھ ڈال دیتی ہے جس سے صنعتکار اور تاجر ذہنی امراض کا شکار ہو رہے ہیں کیو نکہ اتنی آمدن نہیں جتنے ٹیکسز ادا کر نے ہو تے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ گاڑیو ں کی خریدوفروخت پر ودہو لڈنگ ٹیکسز اور ٹرانسفر ور جسٹر یشن فیس میں 400گنا تک اضافہ سے کاروبار نہ ہو نے کے برابر رہ گئے ہیں اور خریدار گاڑیاں خرید نے سے اجتناب کر رہے ہیں جس سے رواں سال کے دوران حکو متی خزانہ کو بھی کروڑوں روپے ٹیکس سے محروم رہنا پڑا ہے ۔رہنماؤ ں کا کہنا تھا کہ حکو مت آئندہ مالی سال کے بجٹ میں معاشی بہتری کے لیے ٹیکسو ں کی شرح میں کمی کرے اور نئے ٹیکس پیئر کو ٹیکس نیٹ میں لائے تاکہ ملک خو شحال کی راہ پر گامزن رہ سکے ۔ کار ڈیلرز مطالبہ

مزید : صفحہ آخر