محکمہ اینٹی کرپشن میں ’ سورس رپورٹ‘پر کاروائی کی روایت ختم ہونے لگی

محکمہ اینٹی کرپشن میں ’ سورس رپورٹ‘پر کاروائی کی روایت ختم ہونے لگی

لاہور(عامر بٹ سے)محکمہ اینٹی کرپشن میں ’’ سورس رپورٹ ‘‘خفیہ طور پر معلومات تک رسائی شائع ہونے کی خبروں پر کاروائی کرنے اور اپنے اختیارات کو استعمال کرنے کی روائت ختم ، ماضی میں پولیس ،محکمہ مال، تعمیرات و مواصلات ،ایل ڈی اے ،کو آپریٹو، ایریگیشن، پی ایچ اے،صحت،مسلم اوقاف، خوراک، ٹریفک پولیس، لائیو سٹاک سمیت تمام صوبائی محکمہ جات کے اندرر رشوت ،بدعنوانی اور کرپشن میں ملوث سرکاری اہلکاروں کے خلاف عرصہ دراز سے "سورس رپورٹ " کی بنیاد پر کوئی کاروائی نہ کی جاسکی، عوام میں محکمہ اینٹی کرپشن کا انصاف مہیا کرنے والے ادارے کا تاثر مایوسی میں بدل رہا ہے ،محکمہ کو اپنی رٹ ثابت کرنا بھی چیلنج بن گیا،سورس رپورٹ کر عدم کارروائی کے باعث بدعنوانی اور رشوت ستانی کے تدارک کے لئے قائم محکمہ اینٹی کرپشن کی ساکھ متاثر ہونے کااندیشہ لاحق ،اینٹی کرپشن قوانین کے مطا بق اینٹی کرپشن افسران شواہد کی بنیاد پر سو موٹو اختیارات کے تحت ،بدعنوانی،رشوت ،وصولی،اختیارات کے ناجائز استعمال ،خرد برد یا کرپشن کے خلاف " سورس رپورٹ"پر بدعنوان اور کرپٹ اہلکاروں کے خلاف قانونی کاروائی کر سکتے ہیں لیکن اینٹی کرپشن افسران نے نا معلوم وجوہات یا تھانوں میں مزاحمت کے ڈر سے کرپٹ پولیس اہلکاروں کے خلاف " سورس رپوٹ "کی بنیاد پر کاروائی کرنا بھی چھوڑ دیا ہے ، بلکہ دوسرے صوبائی محکمہ جات جن میں ،مال،ایل ڈی اے ،تعمیرات و مواصلات،صحت،کوپریٹو،ایرگیشن،پی ایچ اے،مسلم اوقاف ،خوراک،ٹریفک پولیس،لائیوسٹاک سمیت پنجاب کے تمام محکمہ جات کے کرپٹ اہلکاروں کو بھی کھلی چھٹی دے رکھی ہے جس سے سرکار ی محکمہ جات میں کرپشن کے خاتمے کیلئے کئے جانے والے اقدامات پر بد اعتمادی بڑھ رہی ہے،کیونکہ تمام پولیس اسٹیشنز میں سر عام رشوت وصولی کی جارہی ہے،ریونیو کی تمام رجسٹریشن برانچوں اور پٹوارخانوں میں کوئی بھی کام رشوت کے بغیر نہیں کیا جارہاہے،محکمہ صحت میں دوائیوں کے ساتھ میڈیکل آلات کی بڑے پیمانے پر خرد بردکے کیسز عام ہونے کے باوجود کوئی کاروائی نہ کی جارہی ہے ،ایل ڈی اے میں این او سی لیٹر سے لے کر ایگزمشن اور کمرشلائزیشن کے ریٹ مقرر ہیں ، اسی طرح تما م صوبائی محکمہ جات میں سرکاری اسامیوں پر رشوت اور سفار ش کے بغیر نوکری کا حصول صرف ایک خواب ہے، اس لاقانونیت کی وجہ سے اینٹی کرپشن میں انصاف کے حصول کیلئے آنے والے سائلین کی مایوسی میں بھی اضافہ ہو تا جا رہا ہے، کیونکہ اینٹی کرپشن کی طرف سے پولیس اہلکاروں کے خلاف "سورس رپورٹ " کی بنیاد پر کاروائی نہ کرنے سے پولیس اہلکاروں کے دلوں سے اینٹی کرپشن کا ڈر نکل گیا ہے اور وہ پوری تندہی سے سائلین سے رشوت کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ اینٹی کرپشن افسران مزاحمت کے ڈر سے تھانوں میں کاروائی کرنے سے کتراتے ہیں اس سے دوسرے سرکاری محکمہ جات پر بھی اثر پڑا ہے جہاں پہلے کی نسبت کرپشن کا گراف مزید بڑھ گیا ہے ، اس سے نا صرف انصاف کے تقاضوں پر حرف آرہا ہے بلکہ اینٹی کرپشن کو اپنی ہی رٹ کو قائم کر نا بھی ایک مسئلہ بن گیا ہے ،ترجمان اینٹی کرپشن کے مطابق ڈائریکٹر کی تین اسامیوں سمیت مجموعی طور پر پنجاب میں افسران کی پچاس فیصد سے زائد آسامیاں خالی ہیں ،افسروں کی شدید قلت کے باعث اینٹی کرپشن افسران پر انکوائریوں کا بوجھ زیادہ ہونے کے باعث "سورس رپورٹ"کے اختیارات استعمال نہیں کئے جارہے ہیں ،عوام کی کثیر تعداد نے وزیر اعلیٰ شہباز شریف اور ڈی جی اینٹی کرپشن انور رشید سے مطالبہ کیا ہے کہ اینٹی کرپشن کے قوانین پر عمل درآمد کروانے کے لئے ایک جامعہ لائحہ عمل تشکیل دیا جائے تاکہ حکومتی خزانے کو نقصان پہنچانے ،کرپشن ،رشوت ستانی،اختیارات کا ناجائز استعمال اور عوام کے حقوق غضب کرنے میں مدد فراہم کرنے والے اہلکاروں کے خلاف قانون کا گھیرا تنگ ہو سکے کیونکہ جب تک اینٹی کرپشن قوانین پر عملدرآمد کرنے سے پہلو تہی سے کام لیا جاتا رہے گا اس وقت تک نہ تو کرپشن کا خاتمہ ہو سکتا ہے اور نہ ہی محکمہ اینٹی کرپشن اپنی رٹ کو قائم کر سکتا ہے۔

مزید : علاقائی