پاکستانی معیشت بہتری کی جانب گامزن

پاکستانی معیشت بہتری کی جانب گامزن
پاکستانی معیشت بہتری کی جانب گامزن

  

چند روز قبل معروف برطانوی رسالے دی اکانومسٹ نے پاکستان کی معیشت کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی۔ اس رپورٹ کے مطابق پاکستانی معیشت جس تیز رفتاری سے بہتری کی جانب گامزن ہے، نہایت حوصلہ افزاء ہے۔ اگلے مالی سال میں ہماری جی ڈی پی 4.7 فیصد بڑھنے کا امکان ہے۔ جی ڈی پی میں اتنا اضافہ گزشتہ آٹھ برس میں نہیں دیکھا گیا۔ اشیائے صرف کی قیمتوں کا انڈیکس (CPI) 2.5 فیصد تک بڑھا جو گزشتہ دس سال میں کم ترین شرح ہے۔ ا مسال دو مرتبہ سٹیٹ بنک آف پاکستان اپنی شرح سود میں کمی کر چکا ہے۔ پچھلے سال جولائی سے اس سال مارچ تک سیمنٹ کی فروخت میں 5.5 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا جس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے ملک میں تعمیر بڑھی ہے اور لوگ نسبتاً خوشحال ہوئے ہیں۔ اسی طرح گاڑیوں کی فروخت میں 22فیصد کا ریکارڈ اضافہ ہوا۔ اس ٹرینڈ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ لوگوں کی قوت خرید میں اضافہ ہوا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت گرنے پر وفاقی حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لئے اس وقت کی تیل کی قیمت میں2/5 حصہ کمی کی جس سے مسلم لیگ ن کا تاثر لوگوں میں بہت بہتر ہوا۔ گزشتہ پانچ ماہ سے تیل کی قیمتوں میں استحکام ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ 2013-14 میں پاکستان کا آئل امپورٹ بِل 12.6 ارب ڈالر تھا جو ہماری جی ڈی پی کا 5فیصد بنتا ہے۔ اب چونکہ تیل کی قیمتیں گر چکی ہیں تو اگلے تین سال میں پاکستان کو اس کمی کا تقریباً 12ارب ڈالر تک فائدہ پہنچے کا امکان ہے۔ یہی بچا ہوا پیسہ پاکستانی حکومت عوامی فلاح و بہبود کے کاموں میں صرف کر سکتی ہے جس سے لوگوں کا معیار زندگی بہتر ہوسکتا ہے۔

زرمبادلہ کے ذخائر 17.7 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں اور وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کے مطابق اب پاکستان دنیا کی اٹھارہویں بڑی معیشت ہے۔ معیشت کو بہتر کرنے کیلئے حکومت نے ٹیکس نیٹ میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں تقریباً ڈیڑھ لاکھٹیکس نادہندگان کو نوٹس بھجوائے جاچکے ہیں۔ اس سال بجٹ خسارہ بھی 4فیصد سے کم رہنے کا امکان ہے۔ سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ 2012 کی نسبت دوگنا ہوچکا ہے جو نہایت حوصلہ افزاء ہے۔ ورلڈبنک کے مطابق پاکستان کے ساتھ لین دین کرنا انڈیا کی نسبت بہت بہتر ہے اور ایز آف ڈوئنگ بزنس رینکنگ میں پاکستان بھارت سے کافی اوپر ہے۔

اگر پاکستان میں دہشت گردی کا عفریت خوف کی فضا پیدا نہ کرتا تو اس وقت ہم دنیا کی دس طاقتور معیشتوں میں ہوسکتے تھے مگر گزشتہ 14 سال سے جاری اس جنگ نے ہماری معیشت کونا قابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ہم اس جنگ میں شمولیت سے 35 سے 46 ارب ڈالر کا نقصان اٹھا چکے ہیں۔ اس جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے ہم نے ضرب عضب شروع کر رکھا ہے جس کے بہت مثبت نتائج سامنے آئے ہیں، دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور وہ اپنی آخری سانسیں لے رہے ہیں ۔اسی طرح کراچی میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن شروع کر دیا گیا ہے جو نہایت کامیابی سے جار ی ہے ۔ سرمایہ کار اس ڈویلپمنٹ کو نہایت مثبت قرار دے رہے ہیں۔ موجودہ حکومت نے جب اقتدار سنبھالا تو پاکستان کی معاشی حالت یہ تھی کہ پچھلی ایک دہائی سے فی کس سالانہ آمدنی 3فیصد کے حساب سے بڑھی، جبکہ دوسری جانب چین، بھارت ، جنوبی کوریا، اور سری لنکا کی پر کیپٹا انکم 6سے9فیصد سالانہ کے حساب سے بڑھ رہی تھی ۔اگر سلسلہ یونہی چلتا تو2047 تک ان ممالک کی فی کس آمدنی پاکستان سے 4سے 8گنا بڑھ جاتی اور ہم اپنے خطہ کے ممالک سے بہت پیچھے رہ جاتے۔

اس صورت حال کو بھانپتے ہوئے حکومت پاکستان نے ایسے اقدامات کا آغاز کیا جس سے پاکستان کی اکانومی اپنے پیروں پر مضبوطی سے کھڑی ہوسکے۔ چنانچہ ایک طویل مدتی اور قابِل عمل جامع منصوبے ویژن 2025ء کا اعلان کیا گیا۔ اگر یہ پلان کامیابی سے تکمیل پا جاتا ہے تو پاکستان یقینی طورپر اپنے خطے میں مضبوط تر معیشت ہوگا۔ورلڈ بینک کی حالیہ جاری کردہ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2017-18 ء کے بعد ہماری جی ڈی پی کی افزائش 5فیصد سے بھی زیادہ ہو جائے گی۔ عالمی بینک کے مطابق پاکستانی معیشت لوڈشیڈنگ کے مسئلے کے باوجود مسلسل بحالی کے آثار ظاہر کر رہی ہے۔پچھلے دو سال میں معاشی بحالی کے لئے کیے گئے حکومتی اقدامات قابِل تحسین ہیں۔ ان کے ثمرات ہمیں ملنا شروع ہوگئے ہیں۔ امید ہے کہ آنے والا وقت ہمارے عوام کے لئے خوشحالی کا پیامبر ہوگا۔

مزید : کالم