پُرشور پروپیگنڈہ اور سچ کا مدہم آہنگ

پُرشور پروپیگنڈہ اور سچ کا مدہم آہنگ

دیکھنے والوں نے دریاؤں کو چڑھ چڑھ کر اترتے دیکھا،چشمِ بینا نے ٹوٹے تارے کو مہ کامل بنتے بھی دیکھا ہو گااور آسمان کی نیلی بوڑھی آنکھوں نے حادثے کی کوکھ سے کہکشاں اور شیر کے جبڑے سے نوالہ چھنتے بھی دیکھا۔ترک عثمانی سلطان با یزید یلدرم کی طوفانی پیش قدمی دیکھ کر کون کہہ سکتا تھا کہ ترکوں کی جرات اورجبروت کو گہن بھی لگ سکتا ہے کہ تب چہار دانگِ عالم ان کی طاقت و ہیبت کا طوطی بولتا تھا ۔ہائے قسمت !وائے نصیب کہ اسی یلدرم کو تاتاری فاتح امیر تیمور لنگ کے ہاتھوں ذلت آمیزشکست سے دوچار ہونا پڑااور ترکوں کی جانبازی و جوانمردی تاریخ کے صفحات میں کہیں گم ہو گئی۔ کبھی کبھی گردشِ ایام ایسی رفتار اور چال سے سامنے آیا کئے کہ گماں گزرے بس ابھی ڈوبے یا ادھر نکلے ۔کہیں کہیں بقول جمال احسانی :

چراغ مرے سامنے والے مکان میں بھی نہ تھا

یہ سانحہ مرے وہم و گماں میں بھی نہ تھا

بیم و رجا،عروج و زوال اور مدو جزرکے نرالے ایام آئے ہیں کہ کبھی تو تحریک انصاف کی ناؤ پار لگتی نظر آتی ہے اور کبھی مسلم لیگ(ن) پیچ منجدہارگھری نظر آتی ہے۔جوڈیشل کمیشن کی کارروائی پر کبھی تو کسی کا کلیجہ کٹ کٹ جاتا ہے اور گاہے ماہے کسی کا دل سینے کے پنجرے میں خوشی سے بلیوں اچھلنے لگتا ہے ۔سچ کی قحط سالی اور بے یقینی کی گرم بازاری میں حکمرانوں کا ایسا تاثر تخلیق ہوا جاتا ہے کہ بس توبہ بھلی،غفلت و بے دھیانی کے سبب حکومت کی عجب صورت گری ہوئی کہ اس کی ساکھ سوکھنے کا خدشہ امڈا آتا ہے ۔الیکشن ایک سائنس سہی اور سیاست ایک آرٹ۔۔۔بلا شبہ حکومت نے الیکشن کی سائنس میں پورے نمبر لئے ہوں ،لیکن سیاست کے آرٹ میں حکام مات کھارہے ہیں۔غضب خد اکاپی ٹی آئی والے اپنی خواہشات کو سچ کا لبادہ پہنانے چلے ہیں اور ادھر مسلم لیگ(ن) کی میڈیا مینجمنٹ منظر سے غائب ٹھہری ۔اکیلا پرویز رشید کیا کرے ؟خواجہ سعد رفیق والے حلقے سے متعلقہ ٹربیونل کا فیصلہ ابہام میں لپٹا پڑا ہے اور ادھر پی ٹی آئی والے وہ غل مچا رہے ہیں کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دے ۔رہی سہی کسر ایازصادق والے حلقے سے نادراکی رپورٹ نے پوری کر دی کہ پتہ ہی نہیں پڑ رہا حقیقت کیا ہے ؟فریقین بس اپنی اپنی کہے جا رہے اور اچھے خاصے سمجھ بوجھ والے لوگ ’’ٹک ٹک دیدم ،دم نہ کشیدم‘‘کی عملی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ تسلیم کیجئے کہ حکومت اپنا ہی دفاع کرنے میں ناکام ہو گئی ہے ،میڈیا مینجمنٹ کی کمزوری نے حکومتی فتوحات کے آفتاب کو بادلوں کی اوٹ میں چھپا دیا ہے ۔

کوئی جائے جا کر میاں شریف کے ہونہار صاحبزادوں کو بتائے کہ حضور!آسمان کا رنگ لاجوردی نہیں رہا کہ یعقوب کندی اس حقیقت سے کب کا پردہ اٹھا چکا اور یہ بھی کہ ارسطو کی منطق سے پہلے اور بعد میں بھی دنیا ویسی کی ویسی ہی رہی،جیسی کہ پہلے تھی۔حکومتیں محض چپ چپیتے کام کرنے سے چل تو سکتی ہیں،لیکن انہیں اعتبار اور وقارنہیں ملتا کہ میڈیا نامی جن ہردم آدم بوآدم بوکر رہا ہے ۔ایک معاصر کے دو پختہ اورخرانٹ سے کالم نویس ہر روز لمبے لمبے کالم لکھ کر حکومتی کارکردگی پر پانی پھیر دیتے ہیں اور پوٹھوہارکا جادو بیاں قصہ نویس تو ماشاء اللہ!مرحبا!’’ آفرین ہے ظالم تری بدگمانی پر‘‘۔

یہ نہیں کہ حکومت کے حق میں کوئی آوازیں نہیں اٹھ رہیں،اٹھ رہی ہیں اور بہت سے تو چیخ اور چلا کر صحرا میں اذان دیا کئے ،لیکن جن کا حکم چلتا اور کہا کبھی نہیں ٹلتاادھر سے تو سب خاموشی ہے،سکوت ہے ،شب کا مہیب ایسا سناٹا ہے اور بس ۔اگر کہیں سے کوئی آواز اٹھتی بھی ہے تو بکری کی طرح منمنانی آوازیں آتی ہیں۔بھلے سے حکومت کی کارکردگی کتنی ہی شاندار اورجاندار ہو،مگر کارکردگی اور کارگزاری کوباور کرانے والابھی تو کوئی ہو۔جنگل میں مور ناچا،کس نے دیکھا؟اور سوتے ہوئے بیٹے کا بوسہ کس کام کا؟

مخمصہ اور مصیبت یہ کہ جب پروپیگنڈاکا پیڑاوپر تلے شاخیں نکال رہا ہو ،جھوٹ انڈے بچے دے رہا ہو اور سچ کی کوکھ بانجھ ہو۔۔۔تو پھر وہ سچ محض کتابوںیا نصابوں میں رہ جاتا ہے ،حقائق کی دنیا میں تو جھوٹ ہی سچ ثابت ہوتا بلکہ مانا جاتا ہے ۔دھرنے کے دجل میں بھی حکومتی میڈیا ٹیم کی کارکردگی کمزور رہی ،وہ تو کہئے کہ باغی بالائے بام آیا اور اس کی بازگشت سونامیوں کا تعاقب کرتی رہی ورنہ۔۔۔تب تو رنگا رنگ اور قسماقسم کے زہریلے سانپ پھن پھیلائے کھڑے تھے۔کوئی کالا ناگ تھا،کوئی کوبراناگ اور کوئی چتکبرہ ناگ تھا کہ بس حکومتی دوشیزہ کو ڈسا چاہتا تھا۔

3مئی کو کراچی آرٹس کونسل کی تقریب میں پرویز رشیدپتہ نہیں کیا کہہ آئے کہ علمائے کرام اور فقہائے عظام نے انہیں نشانے پر رکھ لیا۔پرنٹ پریس میں تو اس ضمن میں چہار سو خاموشی ہے اور الیکٹرونک میڈیا پر اکا دُکا آواز سنائی دیتی ہے ،جبکہ سوشل میڈیا پر تو غدر بپا ہے۔ فتوؤں کے دہانے کھلے ہیں اور فیصلے صادر ہوئے جاتے ہیں کہ بس دائرہ اسلام سے خارج کر دو۔فتویٰ کی زبان میں کلام کرنے کے عادی حضرات کو ہم عامیوں اور طالب علموں کی نسبت زیادہ معلوم ہونا چاہئے کہ کسی کے ایمان یا یہ کہ کون جنت جائے گا اور کسے واصلِ جہنم کیا جائے گا۔۔۔ایسے حساس اور نازک امور سرے سے ہی انسانی بساط اور دائرہ اختیار سے باہر بتا ئے گئے ہیں۔ قرآنِ مجید واضح اور صریح متنبہ کرتا ہے کہ اِنَ اللہ یَفصِلُ بینَھُم یوَ م القَیامۃ ( اللہ قیامت کے دن فیصلہ کر دے گا تمہارے درمیان)

سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل(ر) عبدالقیوم نے اس ضمن میں مطلع پر چھائی دھند صاف کرنے میں کافی کردار اد ا کیا، لیکن بات پھر وہی کہ حکومتی میڈیا ٹیم ہی جب کمزور ہو تو ایسی غلط فہمیاں اور دُر فنطنیاں تو جنم لیتی ہیں۔پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا پر تو مدیران موجود ہوتے ہیں کہ خبر و تجزیہ شائع کرنے سے پہلے اس کے مالہُ وما علیہ پر غور کریں۔سوشل میڈیا پر تو ہر آدمی خود ہی چیف ایڈیٹرہوا کئے کہ جب چاہے ،جیسے چاہے اور جو چاہے ’’پوسٹ‘‘ کر ے۔ کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں،کوئی پوچھنے والا اور روکنے والا نہیں۔ظاہر و باہر ہے کہ اس معاملے پر جب پرویز رشید کے ضمن میں نوخیز اورکچے ذہن کے نوجوان ایسی پوسٹیں پاتے ہوں گے تو وہ کیا رائے قائم کرتے ہوں گے؟کسے فرصت کہ تحقیق کرے یا غوروفکر کرے۔ سوشل میڈیا پر تو پی ٹی آئی کی طرح’’ کاتا اور لے دوڑی‘‘کی فضا عام ہے ۔

حال ہی میں حکومت نے قطر سے گیس کا جو معاہدہ کیا ہے ۔۔۔ اس پر بھی خاصی لے دے ہونے چلی ہے ۔حکومت کا کوئی مستند اور مسلمہ ذریعہ ایسا نہیں جو اس معاملے پر بات کو کھول کھول کر اور صاف صاف بیان کرے ۔حاسدین،معترضین اور ناقدین ہیں کہ بس قیاس کے گھوڑے پر سوار ہیں اور ایڑھ لگا کر انہوں نے باگیں ڈھیلی چھوڑ دی ہیں۔سو باتوں کی ایک بات کہ پر شور پروپیگنڈے کی فضا میں سچ کا آہنگ مدہم ہو تو وہ معدوم ہو جایا کرتا ہے اورملاح کم کوش ہو تو بہادروں کی ناؤ گاہ ساحل پر بھی ڈوب جا یا کرتی ہے ۔ *

مزید : کالم