وفاقی حکومت 1990ء سے ہمارے صوبے کے حقوق سلب کر رہی ہے ‘ پرویزخٹک

وفاقی حکومت 1990ء سے ہمارے صوبے کے حقوق سلب کر رہی ہے ‘ پرویزخٹک

جدہ (محمد اکرم اسد / بیورو چیف) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت مسلسل 1990ء سے ہمارے صوبے کے حقوق سلب کررہی ہے اور ان کے صوبے سے 4 روپے فی یونٹ کے حساب سے خریدی گئی بجلی 14 سے 18 روپے فی یونٹ کے حساب سے فراہم کی جاتی ہے۔ مقامی اخبار کو ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پن بجلی پیدا کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ تربیلا ڈیم خیبرپختونخوا میں قائم ہے جس کے فوائد ان کے صوبے کو قانون کے مطابق ادا نہیں کئے جارہے ورنہ خیبر پختونخوا میں پنجاب سے زیادہ ترقی ہوسکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ 1990ء تک پن بجلی کی پیداوار کے منافع کی مد میں صرف 6 ارب روپے سالانہ کے حساب سے ادائیگیاں کی جارہی تھیں مگر اس کے بعد صوبائی حکومت کے احتجاج پر یہ رقم 42 ارب روپے تک بڑھادی گئی تھی کیونکہ بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافے کا رجحان جاری رہا اور بجلی کی فراہمی کی مد میں ٹیکسوں کی شرح میں مسلسل اضافہ کیا جاتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل فنانس کمشن کے موجودہ حکومت کے دور میں فیصلوں کی رو سے ان کو اس مد میں کم از کم 120 ارب روپے سالانہ کے حساب سے ادائیگیاں کی جانی چاہیے تھیں مگر واپڈا نے ابھی تکا ن کے صوبے کو مکمل ادائیگیاں نہیں کیں جس کے خلاف انہوں نے منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر اپنے اراکین اسمبلی کے ہمراہ احتجاجی مظاہرہ کیا اور بعد میں وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف نے انہیں یقین دلایا کہ صوبے کے بقایا جات ایک ہفتے کے اندر ادا کردئیے جائیں گے اور یہ کہ وزیراعظم خیبرپختونخوا کو واجب الادا رقم کی ادائیگیوں کی منظوری دے چکے ہیں۔ پرویز خٹک نے سوال کیا کہ جب وزیراعظم تک ان کے صوبے کو اس رقم کی ادائیگی کی منظوری دے چکے ہیں تو واپڈا کیونکر ان حکامات کی تعلیم سے قاصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت بجلی کی اصل قیمت میں اضافہ کرنے کے بجائے اس کی فراہمی پر عائد ٹیکسوں میں اضافہ کرتی رہی ہے اور صرف 4 روپے فی یونٹ کی فراہمی پر 10 سے 25 روپے کے ٹیکس عائد ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اصل بجلی کی قیمت میں اضافہ، اسی وجہ سے نہیں کرتی کہ اسے خیبرپختونخوا کو زیادہ ادائیگیاں نہ کرنی پڑیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایسا کوئی نظام نہیں کہ واپڈا سارفین کے ساتھ ظالمانہ سلوک کا مداوا کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ نے اس سلسلے میں اس وقت کی پیپلزپارٹی کی سینیٹر رخسانہ زبیری اور مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل ظفر جھگڑا کی درخواستوں کی سماعت کے بعد آنجہانی رانا بھگوان داس کی سربراہی میں ایک کمیشن تشکیل دیا تھا جس کے لئے اے جی این قاضی رپورٹ پر عملدرآمد ہوسکا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بجلی کا بحران واپڈا کے اندر بے پناہ کرپشن کی وجہ سے ہے اور وفاقی وزراء احسن اقبال اور خواجہ آصف کے یہ دعوے درست نہیں کہ ملک میں بجلی کی فراہمی کے نظام میں 15 ہزار میگا واٹ سے زیادہ بجلی کی ترسیل کی گنجائش نہیں۔

مزید : علاقائی