دیت قرآن کی روشنی میں (تیسری و آخری قسط)

دیت قرآن کی روشنی میں (تیسری و آخری قسط)
دیت قرآن کی روشنی میں (تیسری و آخری قسط)

  

معاشرہ (نظام حکومت) کا غلبہ و اقتدار (سلطان) مقتول کے وارثوں کا پشت پناہ ہو گا۔اِنَّہٓ کَانَ مَآصْوٓرًا (17:33)۔ اس طرح یہ معاشرہ خود مقتول کی (اور اس کے وارث کی) مدد کرے گا اور قاتل سے بدلہ لے کر چھوڑے گا۔ لیکن معاشرہ کو اس کی بھی تاکید کر دی گئی ہے کہ قاتل کو سزائے موت دینے میں حد سے تجاوز نہ کرے۔ فَلَا یْسٓرِفٓ فِّی اآقَآلِ۔ مثلاً ایک شخص نے جان بوجھ کر کسی شخص کے خاندان کے چار پانچ افراد کو بے رحمی سے قتل کر دیا ہے۔ (ظاہر ہے کہ اثبات جرم کے بعد عدالت کو قاتل کے خلاف سخت غصہ ہو گا۔ لیکن عدالت کو اس کی اجازت نہیں کہ وہ قاتل کے خاندان کے چار پانچ افراد کو اسی طرح قتل کر دے۔ یہ ’’اِآرَآف فِی اآقَآل‘‘ ہو گا۔

نہ ہی آیت کے اس ٹکڑے (فَقَآ جَعَآنَا لِوَلِیِّہٓ سْلٓطٰنًا) کے یہ معنی ہیں کہ مقتول کے وارث کو اس کا اختیار ہے کہ وہ جا کر قاتل کو خود قتل کر دے۔ بالکل نہیں۔ قصاص کا حکم معاشرہ کے لئے ہے افراد متعلقہ کے لئے نہیں۔ قتل کا جرم‘ معاشرہ (نظام حکومت) کے خلاف جرم ہے۔ انفرادی جرم نہیں۔ مقتول کے وارثوں کی حیثیت (زیادہ سے زیادہ) استغاثہ کے گواہوں کی ہو گی۔ مستغیث کی نہیں ہو گی۔ مستغیث خود حکومت ہو گی۔ لہٰذا فَلَا یْسٓرِفٓ فِّی اآقَآلِ کا حکم بھی معاشرہ (عدالت) کے لئے ہے۔

اس آیت سے دو باتیں واضح ہو گئیں۔

(۱)وَ مَنٓ قْتِلَ مَظٓلْوٓمًا سے واضح ہے کہ یہاں قتل عمد کا ذکر ہے۔ اس لئے کہ قتل خطا میں قاتل کو ظالم اور مقتول کو مظلوم نہیں کہا جائے گا۔ جس شخص سے محض سہواً‘ نادانستہ‘ بھول چوک میں‘ غلطی سے کسی کا قتل ہو جائے وہ ظالم نہیں ہوتا۔ وہ تو اپنے کئے پر خود نادم ہوتا ہے۔ لہٰذا مقتول اسی صورت میں مظلوم کہلائے گا جب اسے کسی نے عمداً قتل کیا ہو۔

(۲)معاشرہ کے طاقتور لوگ یہ نہ سمجھ لیں کہ وہ اپنی قوت کے بل بوتے پر جسے چاہیں قتل کر ڈالیں۔ انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ معاشرہ کا پورا غلبہ و اقتدار (سلطان) مقتول کے وارث کا پشت پناہ ہو گا‘ اور اس طرح قاتل سے بدلہ لینے میں اس کا حامی و مددگار بنے گا۔

(۳)قتل عمد کی سزا قتل (موت) ہے۔ لیکن اس میں حد سے نہیں بڑھا جائے گا۔

اس آیت کو جب سورہ نساء کی آیت’’فَجَزَآوْٓہٓ جہنم‘‘ سے ملا کر پڑھا جائے تو بات واضح ہو جاتی ہے کہ وہاں جہنم کی سزا سے مراد سزائے موت ہے۔ اور ’’اللہ کا غضب و لعنت اور عذاب عظیم‘‘ وغیرہ اس کے ساتھ‘ یا اس سے الگ‘ یا اس سے نچلے درجہ پر‘ دوسری سزائیں ہیں جن کی نوعیت معاشرہ خود متعین کرے گا۔

تصریحات بالا سے واضح ہے کہ قرآن کریم کی رو سے:

(i)قتل کا جرم انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہے۔

(ii)جرم قتل‘ افراد کے خلاف جرم نہیں خود معاشرہ کے خلاف جرم ہے۔ لہٰذا‘ مجرم کا پیچھا کر کے اسے سزا دینا‘ مقتول کے وارثوں کا کام نہیں بلکہ نظام حکومت کا فریضہ ہے۔

(iii)اس بات کا فیصلہ عدالت کرے گی کہ قتل بلا ارادہ (خطا) تھا یا قتل عمد۔

(iv)قتل خطا کی صورت میں سزا خوں بہا (دیت) ہو گی۔ اس کے لئے مقتول کے وارثوں کو اختیار ہو گا کہ وہ مجرم کو بالکلیہ معاف کر دیں یا خوں بہا کی رقم میں سے کچھ کم کر دیں۔

(v)قتل عمد کی سزا دیت نہیں اس لئے اس میں مقتول کے وارثوں کا کوئی اختیار نہیں رہتا۔ اس کی سزا عدالت کی طرف سے مقرر ہو گی جو سزائے موت (یا جرم کی نوعیت اور حالات کے پیش نظر) اس سے کم درجہ کی سزا (قید وغیرہ) ہو گی۔

(vi)یہ جو کہا گیا ہے کہ ’’کسی مومن کے شایان شان نہیں کہ وہ کسی مومن کو قتل کر دے۔ مگر غلطی سے‘‘۔ تو اس کے یہ معنی نہیں کہ مومن غیر مومنوں کو یونہی قتل کرتا پھرے۔ اس کی اسے کھلی چھٹی ہے‘ قطعاً نہیں۔ مومن و غیر مومن کسے باشد‘ ہر ایک کی زندگی قرآن کریم کی رو سے یکساں قیمتی ہے (5:32)۔ اس آیت میں مومنین کی اس خصوصیت کا ذکر ہے کہ وہ آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ ایک بھائی کو یہ زیب ہی نہیں دیتا کہ وہ دوسرے بھائی کو قتل کر دے۔ ہاں ایسا غلطی سے ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں اسے خوں بہا ادا کرنا ہو گا تاکہ آئندہ ایسی غلطی سے محتاط رہے۔ لیکن اگر کوئی مومن کسی دوسرے مومن کو عمداً قتل کر دے تو اس کی سزا سخت ہو گی۔

(vii)قرآن کریم نے انسانی زندگی کی قدر و قیمت اور اہمیت بتانے کے باوجود اسے تسلیم کیا ہے کہ بالحق زندگی لی جا سکتی ہے۔ یعنی جہاں حق و انصاف کا تقاضا ہو‘ یعنی بے گناہ کے قتل عمد کی سزا کے طور پر‘ یا دشمن سے جنگ میں‘ یا نظام اسلامی کے خلاف بغاوت کرنے والوں کو فساد سے روکنے کے لئے‘ وغیرہ۔ لیکن اس کا فیصلہ بھی معاشرہ کرے گا (نہ کہ افراد از خود) کہ بالحق کسے قتل کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا مقتول مظلوم کے وارثوں کو بھی اس کا حق نہیں پہنچتا کہ وہ از خود قاتل کو قتل کر دیں۔ یہ ہے وہ قصاص جس کے متعلق قرآن کریم نے کہا ہے کہ اس میں تمہاری اجتماعی زندگی کا راز پوشیدہ ہے (2:179)۔

(ماخوذ از لغات القرآن)

مزید :

کالم -